پاکستان کیلئے آبنائے ہرمز سے تیل کی خصوصی ترسیل؛ بھارتی میڈیا سیخ پا

0
5

اسلام آباد (پاکستان نیوز)نئے علاقائی تنازعات اور سمندری ناکہ بندی کے باوجود پاکستان کی جانب سے توانائی کے ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے سفارتی اور عسکری سطح پر غیر معمولی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی نے تہران سے خصوصی راہداری حاصل کر کے ملکی توانائی کی ضروریات کو ہنگامی بنیادوں پر پورا کرنے میں اہم کامیابی حاصل کر لی ہے۔ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ جنگی صورتحال اور آبنائے ہرمز پر عائد سخت ترین پابندیوں کے باوجود خلیجی ممالک سے غیر ایرانی خام تیل کی ترسیل کا سلسلہ کامیابی سے جاری رکھا ہوا ہے۔ تہران کی جانب سے مخصوص ممالک کو دی جانے والی اس غیر معمولی رعایت کے نتیجے میں گزشتہ ہفتے کے آخر میں کراچی نامی پاکستانی بحری جہاز ابوظہبی سے خام تیل لے کر اس انتہائی حساس اور عسکری لحاظ سے خطرناک سمندری گزرگاہ سے بخیر و عافیت گزرنے میں کامیاب رہا۔ جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی اداروں کے مطابق یہ ٹینکر اب خلیج عمان میں سفر کر رہا ہے جبکہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے دیگر جہازوں نے بھی سعودی عرب کی ینبع بندرگاہ اور متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ سے 73000 ٹن تیل کے حصول کو یقینی بنایا ہے۔ اس وقت عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور تیل کی تجارت سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش کے پیش نظر جہاں امریکہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے بین الاقوامی تعاون تلاش کر رہا ہے وہیں پاکستان نے اپنی متوازن سفارت کاری کے ذریعے تہران اور ریاض دونوں کے ساتھ مضبوط تعلقات کو برقرار رکھا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی اس گزرگاہ تک مسلسل رسائی اس کے دہائیوں پر محیط علاقائی اثر و رسوخ اور کسی بھی فوجی بلاک کا حصہ نہ بننے کی آزادانہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔ سمندری راستوں پر سیکیورٹی کے سنگین خطرات کے پیش نظر پاک بحریہ نے بھی آپریشن محافظ البحر کے نام سے ایک خصوصی مشن کا آغاز کر دیا ہے جس کا مقصد قومی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کو مسلح تحفظ فراہم کرنا ہے۔ ایران کی جانب سے ان ممالک کے لیے بحری آمد و رفت کو محدود کیا گیا ہے جنہیں وہ امریکہ کا اتحادی تصور کرتا ہے تاہم پاکستان کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی توانائی کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔ اس وقت ملک میں پیٹرول کے ذخائر 27 اور ڈیزیل کے ذخائر 21 دنوں کے لیے کافی بتائے جاتے ہیں جبکہ خام تیل اور ایل این جی کے ذخائر کی صورتحال قدرے نازک ہے جس کے باعث حکومت نے حال ہی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر تک کا بڑا اضافہ کیا ہے۔ چونکہ پاکستان کی 70 فیصد پیٹرولیم درآمدات کا انحصار مشرق وسطیٰ پر ہے اس لیے عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی 105 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے والی قیمتیں ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here