عالمی تیل کی تجارت پر ایران کا سخت مؤقف: پیٹرو ڈالر کو بڑا چیلنج

0
6

نیویارک (پاکستان نیوز)ایران نے عالمی سطح پر امریکی ڈالر کی اجارہ داری ختم کرنے کیلئے ایک بڑی مالیاتی جنگ کا آغاز کر دیا ہے جس سے52سال سے رائج بین الاقوامی تجارتی اصول خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ دنیائے معیشت اور جغرافیائی سیاست کے اس نازک موڑ پر ایران کے حالیہ اقدامات نے عالمی مالیاتی نظام کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ابنائے ہرمز کی بندش اور تہران کے سخت گیر موقف کے باعث دہائیوں سے قائم پیٹرو ڈالر کے غلبے کو تاریخ کے سب سے بڑے خطرے کا سامنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے یہ کڑی شرط رکھی ہے کہ تیل کی قیمت کی ادائیگی صرف چینی کرنسی یوان میں کی جائے گی۔ اگر کوئی ملک یا کمپنی ڈالر میں ادائیگی کرتی ہے تو ایران اس کے جہازوں کو اپنی سمندری حدود سے گزرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو اتحادیوں سے مانگی گئی فوجی امداد کی اپیل کو یورپی ممالک نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ نیٹو کے اس فیصلے نے جہاں واشنگٹن کو تنہا کر دیا ہے وہیں عالمی منڈی میں یہ تاثر پختہ ہو رہا ہے کہ اب عالمی توانائی کے نظام میں امریکی ڈالر کی بلا شرکت غیرے حکمرانی کا دور ختم ہو سکتا ہے۔مشرق وسطیٰ کے حالیہ بحران اور ابنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی منڈی میں خام تیل کی تجارت کے رائج طریقہ کار پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ ایران کی جانب سے اس اہم ترین بحری گزرگاہ پر کنٹرول کے دعوؤں اور مخصوص بحری جہازوں کی آمد و رفت کو مشروط کرنے کے فیصلے نے واشنگٹن کے مالیاتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سمندری حدود سے گزرنے والے تیل کے ٹینکروں کے لیے امریکی ڈالر کے بجائے دیگر علاقائی اور عالمی کرنسیوں بالخصوص چینی یوآن میں لین دین کو ترجیح دے رہا ہے جس کا مقصد براہ راست پیٹرو ڈالر کے نظام کو کمزور کرنا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ابنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایرانی ناکہ بندی کو توڑنے کے لیے اپنے نیٹو اتحادیوں سے بحری بیڑے بھیجنے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت بڑے یورپی ممالک نے اس مہم کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔ یورپی رہنماؤں کا موقف ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کسی براہ راست جنگ میں کودنے کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ اس تنازع کو نیٹو کا مشن تسلیم نہیں کرتے۔ اس انکار پر صدر ٹرمپ نے شدید ردعمل دیتے ہوئے نیٹو کے رویے کو ایک بیوقوفانہ غلطی قرار دیا اور سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں یہ تک کہہ دیا کہ امریکہ کو اب کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس کی اپنی فوجی طاقت کافی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ایران اپنے اس موقف پر قائم رہتا ہے اور دنیا کے 20 فیصد تیل کی نقل و حمل کے لیے ڈالر کے بجائے متبادل کرنسیوں کا مطالبہ کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف توانائی کی قیمتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ امریکی ڈالر کی بحیثیت عالمی ریزرو کرنسی حیثیت کو بھی متاثر کرے گا۔ حالیہ دنوں میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اگر یہ تعطل طویل ہوا تو عالمی معیشت میں مہنگائی کا ایک نیا سیلاب آ سکتا ہے۔ ایران کی یہ حکمت عملی دراصل ان مغربی پابندیوں کا جواب ہے جو طویل عرصے سے اس کی معیشت کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ اب تہران نے اپنی جغرافیائی اہمیت کو ایک معاشی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے جس نے ایشیائی طاقتوں بالخصوص چین اور بھارت کے لیے بھی نئی راہیں کھول دی ہیں۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا اب دنیا کثیر قطبی کرنسی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ امریکہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ کس طرح اپنے اتحادیوں کے تعاون کے بغیر اس بحری راستے کو کھلا رکھے اور ڈالر کی ساکھ کو بچائے۔ دوسری جانب ایران نے اپنی بحری مشقوں اور دفاعی پوزیشن کو مضبوط کرتے ہوئے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ کسی بھی فوجی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے عالمی تجارتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ ابنائے ہرمز کی یہ بندش صرف ایک دفاعی اقدام نہیں ہے بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی معاشی جنگ کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے جو مستقبل قریب میں عالمی مالیاتی نقشے کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دے گی۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here