ٹرمپ کی توقعات اور ایرانی حکمت عملی!!!

0
5
شمیم سیّد
شمیم سیّد

ایران کے موجودہ بحران اور اس سے جڑے عالمی اثرات پر گہری نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ سید علی خامنہ ای اور پانچ سو کے قریب اعلیٰ سول و عسکری قیادت کی شہادت کے باوجود ایرانی ریاست کے ستون اپنی جگہ مضبوطی سے قائم رہے۔ اس غیر معمولی صورتحال میں سکیورٹی کے نظام اور سیاسی ڈھانچے نے جس پختگی کا ثبوت دیا اس نے ان تمام مغربی اندازوں کو غلط ثابت کر دیا جن میں ایران کے ریت کی دیوار ثابت ہونے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ اس استحکام کی ایک بڑی وجہ ایرانی قوم پرستی کا وہ جذبہ ہے جو بیرونی دباؤ کے نتیجے میں ایک طاقتور عوامی ردعمل کی صورت میں سامنے آیا کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم پر غیر ملکی جارحیت مسلط کی جاتی ہے تو داخلی اختلافات پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور عوام اپنی ریاست کی بقا کے لیے متحد ہو جاتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے غیر قانونی حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے تلاطم خیز مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں حالیہ کشیدگی نے نہ صرف خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کی سیاسی بصیرت پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ بین الاقوامی اخبارات اور دفاعی تجزیوں کا عمیق مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران میں تبدیلیِ حکومت کے حوالے سے واشنگٹن اور تل ابیب کی تمام تر توقعات دم توڑ چکی ہیں۔اس ناکامی کی سب سے اہم وجہ ایرانی ریاست کے اس ڈھانچے کی مضبوطی ہے جسے دہائیوں کی معاشی پابندیوں اور عسکری دباؤ نے فولادی بنا دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہاں کسی قسم کی عوامی بغاوت کا وہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا جس کی امید ٹرمپ اور نیتن یاہو لگائے بیٹھے تھے۔ اس پیچیدہ صورتحال کا دوسرا رخ خطے کی وہ جغرافیائی سیاست ہے جس میں ایران محض ایک ملک نہیں بلکہ عراق، شام، لبنان اور یمن جیسے ممالک میں اپنے گہرے اثر و رسوخ کی وجہ سے ایک ناگزیر قوت بن چکا ہے۔ اسی اثر و رسوخ کے باعث عالمی طاقتیں اس خدشے سے لرزاں ہیں کہ ایران میں پیدا ہونے والا کوئی بھی سیاسی خلا پورے خطے کو ایک ایسی آگ میں جھونک سکتا ہے جس کے نتائج غیر متوقع اور ہولناک ہوں گے۔ اس جنگ کا ایک اور دلچسپ پہلو امریکہ کے قریبی یورپی اتحادیوں کا وہ بدلتا ہوا رویہ ہے جو پہلی بار اس شدت سے سامنے آیا ہے کہ آسمانوں سے بم برسا کر حکومتیں تبدیل نہیں کی جا سکتیں اور محض فوجی طاقت کے بل بوتے پر سیاسی مقاصد کا حصول ناممکن ہے۔ برطانیہ سمیت کئی یورپی رہنماؤں کا یہ بڑھتا ہوا تحفظ کہ مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل جنگی حکمت عملی عدم استحکام کا باعث بن رہی ہے، اب امریکہ اور یورپ کے درمیان ایک نئی سفارتی خلیج پیدا کر رہا ہے۔
یوکرین کی جنگ سے پیدا ہونے والے پہلے سے موجود اختلافات اس وقت مزید گہرے ہوئے جب امریکہ نے روس سے تیل کی خریداری کا اعلان کیا جبکہ دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اپنی سلامتی اور معاشی بقا کے حوالے سے شدید فرسٹریشن کا شکار ہو گئے۔ ان ممالک کو خدشہ ہے کہ اگر جنگ کا دائرہ پھیلا تو اس کی سب سے بڑی قیمت انہیں ہی چکانی پڑے گی اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے عالمی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں کہ اب یہ ریاستیں اپنی خارجہ پالیسی کے لیے متبادل عالمی طاقتوں خصوصاً چین کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ اگر چین کے ساتھ یہ اقتصادی اور سفارتی تعاون پروان چڑھتا ہے تو عالمی طاقت کا توازن ہمیشہ کے لیے تبدیل ہو سکتا ہے جو امریکہ کی عالمی بالادستی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔ خود امریکہ کے اندرونی حالات بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے سازگار نہیں رہے کیونکہ جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافے اور محض دو ہفتوں میں سولہ بلین ڈالر کے ضیاع نے عوامی رائے عامہ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان تمام عوامل کے نتیجے میں صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے اور یہ جنگ کسی کامیابی کے بجائے ایک بڑی ناکامی کی علامت بن کر ابھری ہے۔ مختصراً یہ کہ ایران کے خلاف اس جارحیت نے اگرچہ انسانی المیے اور تباہی کو جنم دیا مگر سیاسی طور پر تہران کا نظام اپنی جگہ قائم ہے جبکہ حملہ آور قوتیں عالمی سطح پر تنہائی اور داخلی سطح پر عوامی غیظ و غضب کا سامنا کر رہی ہیں۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here