نیویارک میں مسلم مخالف مظاہرے اور تصادم!!!

0
5
حیدر علی
حیدر علی

نیویارک کے سیاسی اور سماجی منظر نامے پر اب تک فلسطینیوں اور ان کے ہمدردوں کے احتجاجی مظاہروں کا شور سنائی دیتا رہا ہے لیکن اب شہر میں ہوا کا رخ بدلتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ حال ہی میں مین ہٹن کی سڑکوں پر ایک ایسا منظر دیکھا گیا جہاں مظاہرے کا رخ مسلمانوں کی مخالفت کی جانب مڑ گیا، اگرچہ ان شر پسندوں کو اس وقت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جب وہ میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے اور جن کے خلاف یہ محاذ گرم کیا گیا تھا، وہی وہاں چھائے رہے۔ اسلام مخالف یہ اشتعال انگیز کارروائی سات مارچ کو نیویارک شہر کے پہلے مسلم میئر ظہران ممدانی کی سرکاری رہائش گاہ گریسی مینشن کے سامنے عمل میں آئی۔ یہ احتجاج محض نعرہ بازی تک محدود نہ رہا بلکہ پرتشدد تصادم، متعدد گرفتاریوں اور وفاقی تحقیقات کا پیش خیمہ بن گیا۔ مٹھی بھر بیس کے قریب مظاہرین نیویارک شہر پر مسلمانوں کے قبضے کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس گروہ کی قیادت دائیں بازو کا انتہا پسند جیک لانگ کر رہا تھا جو چھ جنوری کے کیپٹل ہل فسادات میں بھی ملوث رہا ہے۔ نیویارک کے باسی اس شخص کی متعصبانہ سیاست اور اسلام دشمنی سے بخوبی واقف ہیں، جس نے ماضی میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی جسارت بھی کی تھی اور اس بار بھی وہ مسلمانوں کی دل آزاری کے لیے ایک بھنا ہوا سور اپنے ساتھ لے کر آیا تھا۔اس اشتعال انگیزی کے جواب میں ایک سو بیس کے قریب مخالف مظاہرین میدان میں آگئے جس کے نتیجے میں دونوں گروہوں کے درمیان ہاتھا پائی اور لاتوں مکوں کا آزادانہ استعمال شروع ہوا۔ امن و امان کی صورتحال بگڑتے ہی پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے چھ افراد کو حراست میں لے لیا۔ گرفتار شدگان میں اٹھارہ سالہ عامر بلات اور انیس سالہ ابراہیم قیومی شامل ہیں جن پر پولیس نے وفاقی دہشت گردی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ ان نوجوانوں نے داعش سے اپنی وابستگی کا اعتراف کیا ہے۔ دوسری جانب اسلام مخالف گروہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بھی پیپر اسپرے کے استعمال پر حراست میں لیا گیا ہے۔ہنگامہ آرائی کے بعد پولیس کمشنر جسیکا ٹش نے پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کیا کہ خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ موقع سے دو ایسے بم برآمد ہوئے جو پھٹ نہ سکے تھے، تاہم وہ نٹس، بولٹس اور مہلک دھماکا خیز مواد سے بھرے ہوئے تھے۔ تفتیش کاروں کو قریب کھڑی ایک گاڑی سے بھی ایک مشتبہ بم ملا جو ٹیسٹ کے بعد ناکارہ ثابت ہوا۔ کمشنر کا کہنا تھا کہ نیویارکرز خوش قسمت رہے کہ یہ جان لیوا آلات فعال نہ ہو سکے، ورنہ بڑے پیمانے پر تباہی ہو سکتی تھی۔ اب پولیس وفاقی حکام کے ساتھ مل کر ان سنگین الزامات کی گہرائی سے تفتیش کر رہی ہے۔اس تمام تر صورتحال پر میئر ظہران ممدانی نے پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ سفید فام انتہا پسندی اور نسل پرستی کی نیویارک میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے اس واقعے کو شہر کی روایات اور اتحاد پر حملہ قرار دیتے ہوئے آتشگیر مادے کے استعمال کی کوشش کو مجرمانہ اور قابل مذمت فعل ٹھہرایا۔ جس وقت یہ تصادم ہو رہا تھا، میئر اور ان کی اہلیہ بروکلین میں ایک نمائش کی وجہ سے گھر پر موجود نہ تھے۔
ادھر مین ہٹن کے یو ایس اٹارنی آفس نے عامر بلات اور ابراہیم قیومی پر چھ وفاقی الزامات عائد کر دئیے ہیں، جن میں غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کی معاونت اور خطرناک ہتھیار رکھنے جیسے سنگین دفعات شامل ہیں۔ دوران تفتیش بلات نے کاغذ کے ٹکڑے پر داعش کی حمایت کا بیانیہ تحریر کیا جبکہ قیومی نے اپنے فون پر تنظیم کی ویڈیوز دیکھنے کا اعتراف کیا۔ ان کے علاوہ ایک اور شخص لین میک گنس کو بھی مسلم ہمدردوں پر پیپر اسپرے سے حملہ کرنے کے جرم میں عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ پولیس نے فی الوقت یہ واضح کیا ہے کہ اس مقامی تصادم کا خلیج فارس کی جنگی صورتحال سے کوئی براہ راست تعلق نہیں پایا گیا۔
س

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here