ابلاغ کی روح صداقت ہے!!!

0
5
جاوید رانا

الحمد اللہ رمضان المبارک کے مسعود و پُرتقدیس ایام کی تکمیل ہوئی، اللہ کریم صیام و قیام اور عبادات قبول فرمائے۔ قاریئن کو عید الفطر کی مسرتیں اور فضیلتیں مبارک ہوں۔ آمین ثم آمین۔ اپنے گزشتہ کالم اُمت مسلمہ سازشوں کے نرغے میں” کے توسط سے ہم نے موجودہ عالمی صورتحال خصوصاً اسرائیل امریکہ اور ایران کے درمیان جنگی حالات کو Armagedonکے نظرئیے کے تناظر سے تشبیہہ دیتے ہوئے جو عرض کیا تھا اس کی صداقت گزرتے دنوں کیساتھ مزید واضح ہو رہی ہے، نیتن یاہو کے سازشی نظرئیے اور ٹرمپ و یو ایس ایڈمنسٹریشن کے اشتراک سے محاذ آرائی کا مرحلہ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے اور بادیٔ النظر میں اس کے خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے ہیں۔ ایک جانب ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات اور بے سروپا دعوے جو اب روس، چین، جنوبی کوریا و دیگر ممالک سے درخواست کی حد تک پہنچ چکے ہیں تو دوسری طرف ایرانی جزیرہ خارگ و آبنائے ہرمز پر قبضے کی امریکی دھمکیوں کے رد عمل پر ایران کے عرب و خلیجی ریاستوں پر حملے اس امر کو یقینی بنانے کے مترادف ہے کہ خطے میں مسلم ریاستوں کو آپس میں لڑایا اور منقسم کیا جائے۔ دوسری طرف دنیا بھر میں توانائی اور معاشی بحران آنے والے وقت کی بدحالی کی پیش بینی کر رہا ہے جو کسی بھی طرح موافق نہیں ہو سکتا ہے بات یہیں تک نہیں، اسرائیل و بھارت کے گٹھ جوڑ سے افغان رجیم کو واحد نیوکلیئر اسلامی ملک پاکستان کیخلاف اُکسا کر سازشی تانا بانا استوار کیا جا رہا ہے کہ ہنود ویہود کے منصوبے پر عملدرآمد ممکن بنایا جائے۔ پاک سعودی ڈیفنس معاہدے کو بنیاد بنا کر سعودی و ایرانی چپقلش کو ہوا دینے کی کوششوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ قطع نظر اس حقیقت کے کہ عالمی سطح پر اس محاذ آرائی کو کتنا عرصہ لگے گا اور فریقین اس کے خاتمے کیلئے کتنے سنجیدہ ہیں سچائی یہ ہے کہ اس آگ کو مزید بھڑکانے میں میڈیا خصوصاً سوشل میڈیا، یوٹیوبرز کا کردار نہایت منفی ہے۔ افواہوں، خود ساختہ دعوئوں اور اپنے مفاد و مالی منفعت کے ساتھ متعلقہ فریق کی حمایت یا مخالفت میں وہ قلابے ملائے جاتے ہیں جن کا حقیقت سے دُور دُور کا واسطہ بھی نہیں۔ اس معکوس کھیل میں کوئی ایک میڈیا نہیں بلکہ تمام ان ممالک بلکہ فریقین کا میڈیا ملوث ہے جو موجودہ نزاعی و متحارب صورتحال کے کردار ہیں۔ امریکی میڈیا ہو، ایرانی ،صیہونی، بھارتی یا دیگر نشریاتی (ویژل) چینلز اور یوٹیوبرز حقائق کے برعکس وہ مواد سامنے لاتے ہیں جو ان کے مفاد میں ہو اس کھیل میں ہمارے پاکستانی اینکرز۔ ہو ٹیوبرز اور لاگرز کا کردار موجودہ حالات ہی نہیں، سیاسی اور پسند و ناپسند کے حوالے سے بھی اس حد کو پہنچ چکا ہے جہاں قاری و ناظر کو سچ جھوٹ کا تعین کرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہوتاہے۔ سوشل میڈیا تو اپنی جگہ چینلز کا بھی حال یہ ہے کہ بولڈ سرخی کچھ ہوتی ہے اور تفصیل میں اس کا کوئی پتہ نہیں ہوتا۔ قارئین کے ذہن میں یہ سوال ہو سکتا ہے کہ حالیہ حالات پر لکھنے اور تجزئیے کے برعکس میڈیا کے حوالے سے تنقید کا کیا جواز ہے؟ عرض یہ ہے کہ تقریباً تین عشروں سے صحافت سے وابستگی اور ابلاغ سے سچائی و غیر جانبداری کے یقین کے سبب موجودہ صحافتی و تبصراتی ابلاغ جس میں حقیقت سے ہٹ کر طرفداری، جذبائیت اور سبقت لینے کی غرض شامل ہو قاری یا ناظر کو حقیقی آگاہی نہیں کنفیوژن سے دوچار کرتا ہے۔ نیتن یاہو مارا گیا، فرار ہو گیا، کوما میں ہے، ٹرمپ دھمکیوں سے درخواستوں پر اُتر آیا، دشمنوں کی مکمل تباہی جیسی نعرہ بازی، غلط بیانی ابلاغ یعنی میڈیا سے اعتبار اٹھنے کے سواء کچھ نہیں نہ ہی یہ معاشرے اور ممالک و اقوام کے مفاد میں ہو سکتا ہے نعرہ بازی، مفاداتی مؤقف اور بے بنیاد خبر رسانی صحافت نہیں صحافتی و صداقتی دشمنی ہے۔
٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here