ایران کیخلاف جنگ بندی میں توسیع

0
3

واشنگٹن (پاکستان نیوز) صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری ہمہ جہت جنگ میں عارضی فائر بندی کی مدت ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل اس میں غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کا باضابطہ حکم جاری کر دیا ہے تاہم اس کے ساتھ ہی ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ یہ اہم پیش رفت پاکستانی قیادت کی جانب سے کی جانے والی بھرپور سفارتی کوششوں اور ان کی خصوصی درخواست پر ممکن ہوئی ہے۔ پاکستانی حکام نے خطے میں امن کی خاطر امریکی انتظامیہ سے رابطہ کیا تھا تاکہ تہران کی قیادت کو داخلی خلفشار سے نکل کر ایک متحد اور جامع امن تجویز پیش کرنے کا مناسب موقع مل سکے۔ صدر کا کہنا ہے کہ جب تک ایران کی جانب سے مذاکرات کے لیے ٹھوس پیش رفت نہیں ہوتی، امریکی فوج کو الرٹ رہنے اور ناکہ بندی جاری رکھنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ اس اعلان کے باوجود نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور سینئر مشیر جیرڈ کشنر پر مشتمل اعلیٰ سطح کے امریکی وفد کا دورہ اسلام آباد فی الحال ملتوی کر دیا گیا ہے جس کی وجہ ایرانی حکومت کے اندرونی اختلافات بتائے جا رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے اس امریکی فیصلے پر انتہائی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں امریکی بحری ناکہ بندی کو صریحاً جنگی اقدام اور فائر بندی کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ دھمکیوں اور محاصرے کے سائے میں کسی قسم کے مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا اور جب تک ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی، وہ اسلام آباد میں ہونے والے دوسرے دور کے مذاکرات میں اپنا وفد نہیں بھیجیں گے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے سینئر مشیر مہدی محمدی نے صدر ٹرمپ کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہارا ہوا فریق اپنی شرائط مسلط نہیں کر سکتا اور محاصرے کا جاری رہنا بمباری ہی کے مترادف ہے جس کا جواب فوجی طاقت سے دیا جانا چاہیے۔ ایران کے عبوری قیادت کونسل کے رکن آیت اللہ علیرضا ارافی نے بھی خبردار کیا ہے کہ مذاکرات کے دوران کسی بھی قسم کا دباؤ عالمی سطح پر ایک خطرناک روایت قائم کرے گا اور تہران اس کا بھرپور مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان اس پورے تنازع میں ایک مرکزی سہولت کار کے طور پر ابھرا ہے اور اسلام آباد میں ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات نے فریقین کو ایک میز پر لانے میں اہم بنیاد فراہم کی تھی۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق اسلام آباد مسلسل واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کی ترسیل کا ذریعہ بنا ہوا ہے تاکہ کسی بھی بڑے فوجی تصادم کو روکا جا سکے۔ ایرانی مجلس کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اسلام آباد میں پاکستانی حکام سے ملاقاتوں کے دوران امن عمل کو آگے بڑھانے کی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ جب تک ایرانی سپریم لیڈر اور دیگر طاقتور حلقے ایک ہی تجویز پر متفق نہیں ہو جاتے، وہ کسی حتمی معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے۔ پاکستانی قیادت نے امریکی وفد کو دورے کی دوبارہ دعوت دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ مذاکرات کے تعطل کو جلد ختم کر لیا جائے گا کیونکہ اس جنگ کے اثرات براہ راست پاکستان کی سرحدوں اور معیشت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ جنگی صورتحال میں اس وقت ایک نیا موڑ آیا جب امریکی افواج نے بحر ہند کے خطے میں خلیج بنگال کے مقام پر ایک بڑے تیل بردار جہاز کو اپنے قبضے میں لے لیا جو کہ ماضی میں ایرانی خام تیل کی اسمگلنگ کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ یہ کارروائی مشرق وسطیٰ سے باہر ایران کے خلاف کی جانے والی پہلی بڑی بحری کارروائی ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ ایران کے معاشی گھیراؤ کا دائرہ کار وسیع کر رہا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل ناکہ بندی کے باعث ایران کے جزیرہ خارگ پر تیل ذخیرہ کرنے کی تمام تر گنجائش اگلے 2 سے 3 دنوں میں مکمل طور پر ختم ہو جائے گی جس کے نتیجے میں ایران کو اپنے تیل کے کنویں لازمی بند کرنے پڑیں گے۔ اس معاشی دباؤ کا مقصد ایرانی حکومت کی مالیاتی بنیادوں کو مفلوج کرنا ہے تاکہ انہیں اپنی شرائط پر مذاکرات پر مجبور کیا جا سکے۔ بین الاقوامی سطح پر برطانیہ کی میزبانی میں 30 سے زائد ممالک کے نمائندوں کا دو روزہ اجلاس لندن میں شروع ہو گیا ہے جس کا ایجنڈا ایک مستقل فائر بندی کی صورت میں آبنائے ہرمز کو بحری ٹریفک کے لیے دوبارہ محفوظ بنانا ہے۔ ادھر اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر بھی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے جہاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر فائر بندی کے معاہدے کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ حزب اللہ نے اس کی شمالی بستیوں کو نشانہ بنایا ہے جس کے جواب میں اسرائیلی فضائیہ نے لبنانی حدود میں کارروائی کی ہے۔ ایران کی عبوری قیادت نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ناکہ بندی ختم نہ کی گئی اور مذاکرات کے دوران کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی گئی تو وہ خطے میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ اب تمام تر نظریں واشنگٹن میں ہونے والے اگلے مذاکراتی دور پر لگی ہیں جہاں پاکستانی سفارت کار بھی پس پردہ رہ کر فریقین کو قریب لانے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here