ابھی میرے گزشتہ کالم کی سیاہی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ وطن عزیز پر ایک اور قیامت صغریٰ بپا ہو گئی۔ ایسا لگتا ہے کہ وطن عزیز کے ناطے ہمیں نوحہ گری اور ماتم کرنے پر ہی مجبور رہنا ہوگا۔ دہشتگردی اور شہادتوں کا سلسلہ اب تک پاکستان کے قلب اسلام آباد تک پہنچ گیا ہے۔ تین ماہ میں دارالحکومت میں جمعہ کو ترلائی میں مسجد خدیجة الکبریٰ میں ہونے والا دہشتگردی کا کریہہ و کافرانہ واقعہ دوسرا ہے، اس سے قبل ضلع کچہری میں دہشتگردی اس وارننگ کا انتباہ تھی کہ دشمن کیلئے ہمارا مرکز بھی مشکل ٹارگٹ نہیں ۔ پاکستان دشمنی کے اس طویل ترین پیکار میں اگر چہ دہشت گرد مختلف ناموں اور شناخت سے حملوں اور تباہ کاریوں کے اقدامات کرتے ہیں لیکن ان کا سرپرست وطن عزیز کا اولین دشمن بھارت ہی ہے اور سہولت کاری میں اس کے ساتھ افغان رجیم و اسرائیل کا اشتراک کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ جمعہ کو امام بارگاہ پر ہونے والے خود کش حملے کے حوالے سے جو شہادتیں، مضروبیات ہوئیں، دہشت گردوں کے لواحقین ، ساتھیوں در سہولت کار کی گرفتاریوں اور بعد کے اقدامات ،داعش کے ذمہ داری لینے کے اعتراف سے تو قارئین کو تفصیلات سے آگاہی دیدی گئی لیکن کیا یہ سوال بجا نہیں کہ بلوچستان میں ہونے والے واقعہ کی طرح یہاں بھی سیکور ٹی میں ناکامی ہوئی۔گستاخی معاف، ہماری ایجنسیز، جاسوس کائونٹر ٹیرر ڈیپارٹمنٹ اداروں کے باوجود جب واقعہ ہو جاتا ہے تب آنکھ کھلتی ہے اور پھر گرفتاریوں،جوابی اقدامات اور لیپایوتی کے اقدامات شروع ہو جاتے ہیں ، کے پی ہو، بلوچستان ہو یا وطن عزیز کا کوئی بھی حصہ دہشت گردی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اس بات کو کب تک دہراتے رہیں کہ اس کے نتیجے میں ہمارے عسکری، شہری بیٹے، مرد وزن اور بچے جام شہادت نوش کر رہے ہیں ، معیشت اور کاروبار تنزل کی طرف گامزن ہیں اور امن ناپید ہو چکا ہے۔ امام بارگاہ میں دہشتگرد کو دبوچنے والے شہید عون عباس کی مثال لیں، والدین کی اکلوتی اولاد تھا۔ ایک ماہ بعد اس کی شادی ہونے والی تھی، دہشت گرد کے اقدام پر شدید تباہی کو روکنے کی خاطر اپنی جان پر کھیل گیا۔ اس کے والدین اور شادی سے قبل ہی بیوہ ہونے والی دلہن پر کیا گزر رہی ہو گی۔ یہ دکھ عون عباس تک محدود نہیں تمام شہیدوں وزخمیوں کے خاندانوں تک وسیع ہے۔افسوس اس امر پر ہوتا ہے کہ 6فروری کو ہونے والے اس جانکاہ سانحے کے باوجود پنجاب کی حکومت نے بسنت کی رنگ رلیاں منانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تو مخالف سیاسی اشرافیہ نے نے 8 فروری کو پہیہ جام ہڑتال اور احتجاج سے کوئی گریز نہ کیا ۔ اس تفصیل میں جائے بغیر کہ صوبائی حکومت اور سیاسی اشرافیہ کے ان اقدامات کے اثرات و نتائج کیا ہوئے ، اس سے قطع نظر ہمارا مؤقف یہ ہے کہ کوئی بھی ملک اسوقت تک مضبوط و پُر امن نہیں ہو سکتا جب تک اس کے تمام ریاستی ، حکومتی، سیاسی ودیگر شراکت دار اور عوام ایک گرڈ پر نہ ہوں۔وطن عزیز برسوں سے جس سیاسی انتشار و افتراق، ذاتی مخاصمت اور دشمنی کے حصار میں جکڑا ہوا ہے، دشمن قوتوں کیلئے آسان ہدف تو ہو سکتا ہے وطن کی سالمیت اور تحفظ کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ ہم نے ہر بار اپنے کالموں میں یہی استدعا کی ہے کہ انانیت و ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر ملکی مفاد کیلئے ریاست، حکومت اور حزب اختلاف وحدت و مفاہمت کا عملی راستہ اپنائیں۔ مزاحمت، ضد اور انتقام کا معاملہ مزید بگاڑ اور دشمن قوتوں کے ارادوں کو مہمیز کرنے کا ذریعہ تو ہو سکتا ہے پاکستان کی سالمیت، یکجہتی و خوشحالی کا سبب نہیں ہو سکتا۔ گزشتہ دو عشروں سے جاری دہشتگردی اور مقتدرین و سیاسی اشرافیہ کے درمیان رسہ کشی و تنازعات نے وطن عزیز کو جس حد تک پہنچا دیا ہے وہ سوائے مایوسی اور بد امنی کے کچھ نہیں، آخر ہم کب تک اپنے پیاروں کی قربانیاں دیتے رہیں گے۔
بے گناہوں کا لہو بہتا رہے گا کب تک
دیس میرا یہ ستم سہتا رہے گا کب تک
٭٭٭٭٭٭













