ایلکس پریٹی کی جرأت مندی کا کوئی ثانی نہیں!!!

0
9
حیدر علی
حیدر علی

کم از کم موجودہ صورتحال سے امریکا کا بوجھ کم ہوگیا اور اِس کی تاریخ میں دو ایسے شہدا معرض وجود میں آگئے جنہیں ہر طبقہ خیال کے افراد اپنے گلے لگاتے ہیں، رینی گُڈ 7 جنوری اور ایلکس پریٹی نے 24 جنوری کو جام شہادت نوش کیا تھا، فیڈرل ایجنٹس نے اُن دونوں کو شہید کیا تھا اور حسب معمول اُن پر دہشت گرد ہونے کے لیبلز لگا دیئے گئے تھے لیکن وہ لیبلز جلد ہوا میں تحلیل ہوگئے، عوام کی اکثریت اُن کے شہید ہونے کے حقائق اور فیڈرل ایجنٹوں کو اُنہیں گولیوں کا نشانہ بنانے کی ویڈیوز سے آگاہ ہوگئی،لیکن یہ مسٹر پریٹی کی شہادت تھی جس سے عوام کے جذبات اُبل پڑے تھے اور وہ فیڈرل گورنمنٹ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوے تھے، بادل نخواستہ صدر ٹرمپ امیگریشن کی ضمن میں اپنی پالیسی کو تبدیل کرنے پر مجبور ہوگئے،گن رائٹز گروپ نے بھی وائٹ ہاؤس کو اپنے جذبات سے آگاہ کرنا شروع کردیا، ریپبلکن پارٹی کے سینیٹرز آئس کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کرنے لگی تھی اور آئس کو ختم کرنے کی تحریک چند روز میں دوگنی ہوگئی، دونوں کا قتل عوام کے جذبات کو مشتعل کردیا تھا، لیکن مسٹر پریٹی کا خون کچھ زیادہ ہی رنگ لایا جس کے اثر سے قدامت پسند ووٹرز بھی محفوظ ہوگئے تھے جو تا وقت اُس تحریک کو نظر انداز کر رہے تھے تاہم یہ کہنا دشوار ہے کہ ایک کی شہادت کے اثرات دوسرے کی شہادت سے زیادہ وسیع تر ثابت ہوئی لیکن تاریخ اِس کی مثال پیش کرتی ہے۔جارج فلوئیڈ پہلا سیاہ فام افریقی نہیں تھا جو پولیس کے ہاتھوں 2020 ء میں ہلاک ہوا تھالیکن تپتپا دینے والی اُس کے قتل کی ویڈیو اُس وقت امریکی عوام تک پہنچی جب وہ پہلے ہی سے پولیس کی زیادتی اور ظلم و تشدد سے بیزار تھے، جس کی وجہ کر اُس کا قتل ایک خونی احتجاج کا محرک بن گیا، روزا پارک ایک پہلی خاتون نہیں تھی جس نے منٹگمری کے بس پر اپنی سیٹ چھوڑنے سے انکار کردیا تھا لیکن اُس سے قبل ایک پندرہ سالہ لڑکی نے بھی وہی حرکت کی تھی اور گرفتار کر لی گئی تھی،بالفاظ دیگر رینی کی ہلاکت ایک سانحہ تھااور ایلکس پریٹی کی موت ایک نئے رحجان کی تشکیل تھی۔مسز رینی اپنی گاڑی میں بیٹھی تھی جب فیڈرل ایجنٹ نے اُس پر گولی چلائی تھی، اِس لئے ٹرمپ ایڈمنسٹریشن نے جلد بازی میں اُس کی گاڑی کو ایک مہلک ہتھیار قرار دے دیا تھا، اور دلیل دی کہ اُس کی حرکتیں ایجنٹوں کیلئے خطرے کا باعث تھیں، ویڈیو پر چلنے والی فلم اِس حقیقت کی تروید کر رہی تھی لیکن ایجنٹوں نے بتایا کہ وہ اپنی جان کا خطرہ محسوس کر رہے تھے تاہم مسٹر پریٹی نے قیاس آرائی کیلئے کوئی موقع فراہم نہیں کیا تھا،وہ اپنے پیروں پر چہل قدمی کرتے ہوئے اپنے فون سے تصویر کشی کر رہا تھا، مزید برآں وہ ایک خاتون کی مدد کر رہا تھا جسے آئس کے ایجنٹوں نے دھکا دے کر زمین پر پھینک دیا تھاتاہم ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کے اہلکاروں نے اُسے ایک قاتل قرار دے دیا اور اُس پر الزام لگایا کہ وہ فیڈرل ایجنٹوں کے قتل عام کی نیت سے آیا تھا، چند گھنٹوں کے اندر ہی مختلف زاویوں سے لی گئیں فلمیں واضح طور پر یہ عکاسی کر رہی تھیں کہ پریٹی کے ہاتھ میں کوئی پستول نہیں بلکہ اُس کا فون تھااور آئس کے ایجنٹس اُسے دھکا دے کر زمین پر گرانے کی کوشش کر رہے تھے اور پھر اُسے منہ کے بل گرانے کے بعد پشت سے اُس پر گولی کی بوچھاڑ کرنا شروع کردی تھی،مزید ویڈیو کی جانچ پرتال یہ انکشاف کرتی ہے کہ پریٹی پر گولی چلانے سے قبل اُسے مکمل طور پر قابو اور غیر مسلح کردیا گیا تھا، جس کے بعد اُس پر گولی چلانے کا کوئی جواز موجود نہ تھا۔ مسٹر پریٹی کے قتل کے بعد اُس کے بارے میں جو تفصیلات منظر عام پر آئیں وہ اِن حقیقتوں کو آشکار کیا کہ وہ کوئی مجرم امیگرانٹ نہیں جنہیں آئس کے ایجنٹس اپنا ہدف بنارہے ہیں بلکہ وہ ایک سفید فام امریکی سٹیزن جو ویٹیران ہسپتال کے شدید نگہداشت کیئر میں نرس کی ملازمت کیا کرتا تھا،حقائق کو تلاش کرنے والے لوگوں کا بھی کوئی جواب نہیں. اُنہی میں سے کچھ لوگوں نے مسٹر پریٹی کے ویڈیو کی ایک فوٹیج دریافت کی ہے ، یہ فوٹیج اُس کی موت سے 13 دِن قبل کی ہے ، جس میں دکھایا گیا ہے کہ مسٹر پریٹی فیڈرل ایجنٹوں سے دست و گریباں ہے، وہ اُن پر تھوکتا ہے اور اُن کی گاڑی کی ٹیل لائٹ پر کِک مارتا ہے، ایجنٹس اُسے قابو میں کر لیتے ہیں، اُس کی کمر میں اُس کی پستول واضح طور پر نظر آتی ہے ، لیکن ایجنٹس اُسے بغیر گرفتار کئے ہوے رہا کر دیتے ہیں۔ماضی قریب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مینیسوٹا کے عوام کو خوش کرنے کیلئے اُن کے بارے میں کچھ خوش گپیاں کی تھیں، اُنہوں نے کہا کہ مسٹر ایلکس پریٹی کی موت انتہائی افسوسناک ہے . وہ مینیسوٹاکے دھماکہ خیز حالات کو سرد کرنے کی کوشش کی تھی،مسٹر پریٹی کی فیملی نے ویڈیو کے فوٹیج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اُس کی موت سے ایک ہفتہ قبل جو کچھ بھی ہوا تھا وہ اُس کے قتل کرنے کا جواز نہیں ہوسکتا ہے۔بہرحال دریا اپنا رخ بدل رہی ہے ، حتی کہ ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کے بارڈر زار مسٹر ٹام ہومین یہ اعتراف کرنے لگے ہیں کہ مینا پولس کا آپریشن غلط تھا، یہ اعتراف ایک ایسے شحض سے جو برسوں برس سے بارڈر پر قانون شکنی کو طاقت کے زور پر کچل دینے کا دفاع کیا کر تا تھا، ایک حیران کن تبدیلی ہے،دو دِن بعد ہی مین میں شروع ہونے والا غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف آپریشن فوری طور پر روک دیا گیااور اب تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی حکومت مینیسوٹا سے آئس کے سات سو افسرز واپس بلا لئے ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here