معیشت محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں ہوتی، یہ اعتماد، انصاف اور سمت کا مجموعہ ہوتی ہے۔ آج پاکستان کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ ہم معیشت کے بنیادی اصولوں کو نظرانداز کر کے محض وقتی بیانیوں کے سہارے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی گلف کے نامزد ترجمان محمد افضل چوہدری کی نشاندہی کردہ باتیں محض شکوہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ معاشی و سیاسی تجزیے کا تقاضا کرتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خسارے میں جانے والے نہیں بلکہ منافع بخش قومی اداروں کی اکثریت پہلے ہی فروخت کی جا چکی ہے نوے فیصد کے قریب ادارے یا تو نجکاری کی نذر ہو چکے ہیں یا عملی طور پر غیر مثر بنا دیے گئے ہیں یا پھر بندر بانٹ کے زریعے اپنوں کو دے دیے گئے جس کی حالیہ مثال پی آئی اے کی نجکاری ہے جسے عمران خان حکومت نے منافع بخش ادارہ بنا دیا تھا اور موجودہ حکومت نے اسے سفید ہاتھی بنانے کے بعد بیچ کر جان چھڑا لی دراصل ڈرٹی بزنس کے تحت اپنے ہی بیچ میں ڈال کر انہی کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ ان کے کھیسے بھرے رہیں اس طرح کی لوٹ مار کو ہی دیکھتے ہوئے تقریبا تمام بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں ملک چھوڑ کر جا چکی ہیں یہ سابقہ حکومت کی سر جوڑ کر بنائی گئی پالیسیوں کے تسلسل کو برقرار نہ رکھنے کہ جس میں جی ڈی پی چھ اعشاریہ چار کو چھو رہا تھا اور موجودہ حکومت کی کمزور گورننس کا شاخسانہ ہے سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ، یعنی محنتی اور قابل نوجوان اور طلبہ، تیزی سے بیرونِ ملک جا رہے ہیں یہ برین ڈرین اس بات کا ثبوت ہے کہ نوجوانوں کو اپنے مستقبل کے لیے یہاں امید نظر نہیں آتی۔ جب سیاسی عدم استحکام ہو، سرمایہ دار ملک میں سرمایہ لگانے کو تیار نہ ہوں، نوجوان ملک چھوڑنے کو ترجیح دیں گے تو وہ وہاں بیٹھ کر it is over ہی لکھیں گے۔ سرمایہ کاری کے معاملے میں ایک اور تلخ تضاد سامنے آتا ہے ایک طرف ہم دبئی اور دیگر ممالک میں جائیداد خریدنے کی نہ صرف ترغیب دیتے ہیں بلکہ باقاعدہ معاونت بھی فراہم کرتے ہیں، دوسری طرف ملک کے اندر سرمایہ کار کو تحفظ دینے میں ناکام رہتے ہیں طرفہ تماشہ ہے کہ حکومتی عہدے داران کے بزنس اور جائیدادیں اندرون و بیرون ملک پھلتی پھولتی ہیں اور غریب کو روٹی نہیں ملتی سوال یہ ہے کہ اس طرزِ عمل کے ساتھ ملکی معیشت کیسے بہتر ہو سکتی ہے؟ جب سیاسی افراتفری ہو، حق دار کو اس کا حق نہ ملے، اور انصاف طاقتور کے سامنے بے بس نظر آئے تو سرمایہ یہاں کیوں رکے گا مسئلہ صرف معاشی نہیں بلکہ ادارہ جاتی بھی ہے۔ جب عدالتیں لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کے واضح اور مضبوط فیصلے نہ دیں، جب اومنی گروپ جیسے معاملات بارگیننگ کی پوزیشن میں آ جائیں، اور جب استثنی کو قانون سے بالاتر سمجھا جائے تو یہ پیغام جاتا ہے کہ احتساب کمزور اور مفاہمت طاقتور ہے۔ ایسے ماحول میں ایم بی اے کی ڈگریاں بھی معیشت کو سہارا نہیں دے سکتیں، کیونکہ مسئلہ علم کا نہیں، عمل کا ہے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو لوگ مقتدر عہدوں پر فائز رہتے ہیں، وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بیرونِ ملک اپنی جمع کی ہوئی دولت سے نئی زندگیاں بسا لیتے ہیں۔ اس رویے سے نہ صرف نظام پر اعتماد مجروح ہوتا ہے بلکہ یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ جو خود اس ملک کو چھوڑنے کی تیاری رکھتا ہو، وہ یہاں کے مستقبل کے لیے کتنی سنجیدگی دکھا سکتا ہے حکومتی جماعت میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد پالیسیوں کا دفاع ایک سیاسی مجبوری ہو سکتی ہے، مگر معیشت کی اصل تصویر چھپانا قومی خدمت نہیں۔ جی ڈی پی کے نمبرز کو خوش کن انداز میں پیش کر کے عوام کو یہ باور کرانا کہ سب اچھا ہے ایک وقتی بیانیہ تو ہو سکتا ہے، مستقل حل نہیں۔ قوم کو سچ سننے اور سمجھنے کا حق ہے آخر میں سوال وہی ہے جو محترم دوست محمد افضل چوہدری نے اٹھایا کیسے ملکی معیشت ترقی کرے گی؟ اس کیسے کا جواب صرف اسی وقت ملے گا جب سیاسی استحکام، شفاف احتساب، غیر جانبدار انصاف اور سرمایہ کار کے لیے حقیقی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ ورنہ ہم کالموں میں تجزیے لکھتے رہیں گے اور معیشت حقیقت میں مزید کمزور ہوتی چلی جائے گی۔
٭٭٭















