فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ
محترم قارئین! منبع علم وعرفان، اہل سنت وجماعت کی عزت کی پہچان، عشق ومحبت مصطفیٰ علیہ الصّلواة والسّلام کا نشان، نائب امام احمد رضا خان، محدّث اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا ابوالفض الحاجّ محمد سردار احمد چشتی قادری رضی اللہ عنہ کے عرس پاک کی تقریبات کی تیاریاں پورے عروج پر ہیں۔ آپ کا عرس پاک ہمیشہ انتیس، تیس رجب المرجب کو پورے تزک واحتشام سے منایا جاتا ہے۔ بڑے بڑے جیدّ علماء کرام ومشائخ عظام پوری دنیا سے شرکت کو سعادت سمجھتے ہیں۔ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے جانتے ہیں کہ اہل سنت وجمعت کی ترویح واشاعت اور فکر رضا رضی اللہ عنہ کی پہچان کا جو کام حضرت محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ نے کیا وہ اپنی مثال آپ ہے کیوں نہ ہوتا؟ سب سے پہلے تو آپ رضی اللہ عنہ نے تمام علوم وفنون میں مہارت نامہ حاصل کی جو آج کے دور میں صرف ایک افسانہ بن کر رہ گئی ہے صرف تذکرہ ہے اور عملی طور پر محرومی ہے درس نظامی کی علوم وفنون کی کتابوں کے ساتھ بہت کھلواڑ ہوگیا ہے۔ جن کتب سے طلباء کی علمی تشنگی کو میرابی ملتی تھی اب کے مدرّمین کو ان کے نام تک نہیں آتے اُن کے مسائل سے کیا واقفیت ہوگی؟ لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے مکمل طور پر عظیم اساتذہ کرام علیھم الرّضوان یہ کتابیں پوری محنت ومشقت اور انتہائی ذوق وشوق سے پڑھیں۔ اور پھر ایک لمحہ ضائع کئے بغیر وہ کتابیں جو موصوف علیہ کی تھیں تدریس کا آغاز ہی انہیں سے کیا۔ اور مسند پر بیٹھتے ہی محنتی اور علم کی قدر کرنے والے طلباء کے دلوں میں گھر کرلیا۔ طلباء کو علم کے ساتھ ساتھ عشق مصطفیٰۖ کے ایسے جام پلائے کہ وہ نسلوں تک آپ رضی اللہ عنہ کے گرویدہ اور غلام بن گئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی مقبولیت اور محبوبیت کے طلباء میں پھیل جانے کی کیا حیرانگی؟ آپ رضی اللہ عنہ تو اپنے اساتذہ اور مشائخ علیھم الرّضوان کے منظور نظر اور محبوب بن گئے تھے۔ شیخ المشائخ حضرت شاہ سراج الحق چشتی رضی اللہ عنہ کے دست حق پرست پر آپ کی بیعت سلسلہ چشتیہ میں تھی۔ اور حضرت حجة الاسلام صاحبزادہ محمد حامد رضا خان رضی اللہ عنہ سے سلسلہ قادریہ اور دیگر تمام سلاسل میں بیعت کی اجازت ملی۔ اور حضرت مفتی اعظم ہند مفتی محمد مصطفیٰ رضا رضی اللہ عنہ سے بھی تمام سلاسل میں بیعت کی اجازت وخلافت ملی۔ حضرت شاہ سراج الحق چشتی رضی اللہ عنہ سے بھی تمام سلاسل میں بیعت کی اجازت وخلافت ملی۔ علم ظاہری کے ساتھ ساتھ علم باطنی کے جام بھی پلا دیئے گئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا کمال یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ بیعت واجازت وخلافت کو ثانوی درجہ میں رکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنے وقت کے عظیم پیرومرشد بھی تھے لیکن درس وتدریس کو آپ رضی اللہ عنہ نے درجہ اوّل میں رکھا پیشہ ور پیروں کے لبادہ سے اپنے آپ کو محفوظ رکھا اور پھر ان تمام سے بڑھ کر یہ کہ درس وتدریس اور پیری مریدی کو روٹی روزی کا ذریعہ نہیں بنایا۔ بلکہ شاگردوں اور مریدوں کی اپنی جیب خاص سے مدد کی۔ یہ ایسا کمال اور خوبی ہے کہ ڈھونڈنے سے نہ ملے لوگ خلافتوں کے لئے ترستے ہیں۔ لیکن خلافت آپ رضی اللہ عنہ کو ڈھونڈتی تھی لوگ بڑے بڑے اصفیاء اور اساتذہ کے جنازے پڑھنے کیلئے ترستے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کی یہ عظیم ترین اور بہت بڑی سعادت ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے پیرومرشد حضرت شاہ سراج الحق چشتی رضی اللہ عنہ کی وصیت کے مطابق نماز جنازہ کی امامت فرمائی۔ جبکہ لاکھوں شرکاء کے اندر ہزاروں علماء ومشائخ تھے سب کے سب آپ رضی اللہ عنہ کی امامت میں اقتدار کر رہے تھے۔ اور پھر حضرت حجة الاسلام شہزادہ اعلیٰ حضرت آپ کے اساتذ اور شیخ آپ کی زندگی میں ایک محدّث کا انقلاب لانے والی شخصیت امام محمد حامد رضا رضی اللہ عنہ کا وصال باکمال ہوا تو لاکھوں علماء ومشائخ نماز جنازہ میں حاضر تھے جب کہ مضق اعظم ہند، صدر الافاضل سید نعیم الدین مراد آبادی، صدر الشریعة حضرت علامہ مولانا امجد علی اعظمی صاحب بہار شریعت رضی اللہ عنھم اور دنیائے تدریس اور مسند ارشاد کے بڑے بڑے نام حضرت حجة الاسلام رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ میں شریک تھے۔ اس عظیم الشان اور فقیدالمثال جمّ غضیر کی امامت کا شرف بھی حضرت محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آیا یہ کوئی چھوٹی سعادتیں نہیں ہیں یہ بڑی سعادتیں اور بڑے اعزاز کی بات ہے اور پھر یہ سعادتیں آپ نے کوئی پچاس سال کی عمر میں نہیں بلکہ تیس، پینتیس سال کی عمر میں حاصل کیں۔ آپ کس مسند کا اعزاز اور انعام یہ انوکھا ہے کہ ایک تسلسل اور طریقت کے اصولوں کے عین مطابق ہے آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی مطھرہ میں ہی اپنے بڑے لخت جگر، نور نظر شمس المشائخ صاحبزادہ پیر قاضی محمد فضل رسول حیدر رضوی رضی اللہ عنہ کو دستار فضلیت وسجادگی عطا فرمائی اور تمام سلاسل میں بیعت کی اجازت عطا فرمائی۔ اور پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے بڑے لخت جگر نور نظر قائد ملت اسلامیہ صاحبزادہ پیر قاضی محمد فیض رسول حیدر رضوی زید شرفة کو اپنی ظاہری زندگی مبارکہ میں ہی تمام سلاسل کی اجازت وخلافت سے ہزاروں وعلماء ومشائخ کی موجودگی میں نوازاجاری ہے۔
٭٭٭٭٭















