امریکہ کی وینزویلا پر غیر قانونی حملہ!!!

0
12
شمیم سیّد
شمیم سیّد

امریکہ نے صدر ٹرمپ کے حکم پر وینزویلا کے دارالحکومت کراکس سمت مختلف شہروں پر حملے کر کے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے نیویارک منتقل کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2 ذیلی شق 4کے مطابق تمام رکن ممالک پر بیرونی حملہ کو غیر قانونی تسلیم کیا جاتا ہے۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو امریکہ کی وینزویلا میں بلا اشتعال کارروائی کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے مخالفین کے ساتھ اس کے اتحادیوں یہاں تک کہ خود امریکہ کی سابق نائب صدر نے ٹرمپ کی اس کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ٹرمپ کے اس اقدام سے امریکہ محفوظ ہوا نا مضبوط ۔ عالمی مبصرین امریکہ کے اس اقدام کو کمزور ممالک کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دے رہے ہیں جس کے بعد کسی بھی طاقتور ملک کو کمزور ملک پر حملے اور وسائل پر قبضہ کا جواز مل جائے گا۔ اس تاثر کی خود امریکی صدر کے اس بیان سے بھی تائید ہوتی ہے کہ اب وینزویلا کے تیل کے ذخائر امریکہ سنبھالے گا۔ واحد سپر پاور کی اس تانہ شاہی کے خلاف برطانیہ اور امریکی میڈیا میں بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ بہتر ہو گا عالمی برادری امریکہ کے اس غیر قانونی اقدام کے خلاف مل کر معاملہ کو اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں بھرپور انداز میں اٹھائے تا کہ مستقبل میں کسی بھی ملک کو طاقت کے بل بوتے پر کمزور ملک پر حملے کا جواز نہ مل سکے۔ وینزویلا، جسے ہم عام طور پر ہوگو شاویز، حسین خواتین، انقلاب پسندی اور تیل کی دولت کے تناظر میں یاد کرتے ہیں، اب ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑا ہے جس کے اثرات نہ صرف لاطینی امریکہ بلکہ عالمی طاقت کے توازن، توانائی کی مارکیٹ اور حتی کہ پاکستان جیسے بظاہرغیر متعلق ممالک تک محسوس ہوں گے۔ جو تازہ ترین صورتحال سامنے آئی ہے، وہ یہ ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو امریکی فوجی کارروائی میں گرفتار کر کے امریکہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ اپنے اس اقدام کو واشنگٹن نے ماضی کی طویل سیاسی اور اقتصادی کشمکش کے تسلسل میں پیش کیا ہے۔ اس میں تیل، منشیات اور سوشلسٹ حکومت کے خلاف سخت مؤقف شامل رہا ہے۔ سرد جنگ کے زمانے کی دنیا اب امریکہ کیلئے ناقابل برداشت ہے۔ ٹرمپ کی شکل میں سرمایہ داری کی جارحانہ شکل اقتدار سنبھال چکی ہے۔ دنیا مین جو کوئی دولت کی مساوی تقسیم کی بات کرے گا اسے ختم کردیا جائے گا۔ اس کی جگہ کٹھ پتلی حکمران لائے جائیں گے۔ یہ سب قابل فہم ہے لیکن امریکہ کا براہ راست ایکشن کر کے نکولس مادورو کو گرفتار کرنا ریاستوں کی خود مختاری کے احترام کی روایات کو منہدم کرنے کے برابر ہے۔ امریکہ اپنے مخالفیں کے خلاف منشیات ، انسانی حقوق ،عوام مخالف پالیسیوں کے الزام میں کارروائی کرتا رہا ہے۔ اس کے حلیف چاہے ساٹھ ہزار فلسطینیوں کو مار دیں ،امریکہ کی نیند نہیں ٹوٹتی۔ امریکہ نے گرفتار صدرمادورو پر نارکودہشت گردی کے الزامات عائد کرتے ہوئے 2025 میں 50 ملین ڈالرز انعام بھی رکھا تھا، جو کسی غیر ملکی ریاست کے سربراہ پر عائد کردہ سب سے بڑی رقم تھی۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق مادورو کی گرفتاری اور وینزویلا کی موجودہ عسکری کارروائی صرف منشیات، بدعنوانی اور ریاستی جرائم کے خلاف ایکقانونی جنگ نہیں، بلکہ ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد وینزویلا کی تیل کی اہمیت کو امریکی صارفین اور مارکیٹس کے ہاتھوں میں لانا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ وینزویلا دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر کا مالک ہے، جس میں عالمی ذخائر کا تقریبا سترہ فیصد حصہ موجود ہے، مگر پیداوار بہت کم رہ گئی ہے اور پابندیوں، بدانتظامی اور سرمایہ کاری کی کمی کے باعث خام تیل تک موثر رسائی کمزور ہو چکی ہے۔ ان اقدامات سے پیدا ہونے والی نئی پیچیدگیوں کا جائزہ لینے کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ صرف ایک ملک کی اندرونی کیفیت نہیں، بلکہ عالمی طاقتوں کی توانائی اور جغرافیائی سیاسی جنگ کا حصہ ہے۔ امریکہ نے ہمیشہ سے اپنے استعمال اور کنٹرول کے نظریے کے تحت توانائی کے وسائل کا کنٹرول مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔ خلیجی ریاستوں میں پٹرولیم معاہدے، ایران پر پابندیاں، عراق میں مداخلت اور اب وینزویلا کی خام تیل کی رسائی کو محدود کرنا اس کی خارجہ پالیسی کی تسلسل پسند مثالیں ہیں۔ اس پس منظر میں امریکہ کے حالیہ اقدام کو اگر ہم محض ایک جنگی کارروائی کے طور پر دیکھیں تو غلطی ہوگی، اصل مسئلہ تو عالمی توانائی کی تقسیم، چین اور دیگر طاقتوں کی بڑھتی ہوئی طلب اور امریکہ کی اس صورتحال میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔ یہ توانائی کی جنگ صرف ذاتی مفادات یا امیج کی لڑائی نہیں بلکہ ایک طویل المدتیعالمی حکمت عملی ہے جس میں امریکہ چین، روس اور یورپ جیسے حریفوں کو توانائی کے وسائل تک براہِ راست رسائی سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وینزویلا کے گرد کشیدگی اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن نے خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو دوبارہ مستحکم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب چین اور روس لاطینی امریکی منڈیوں میں تعلقات مضبوط کر رہے ہیں۔ ایسی کسی وسیع الجہت مداخلت کے کچھ ممکنہ نتائج ہیں جن کا اثر عالمی توازن اور بین الاقوامی قانون پر پڑ سکتا ہے: پہلا، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قانون کے نقطہ نظر سے ایک منتخب ریاست کے صدر کو گرفتار کر کے لے جانا، جارحیت اور غداری کے سنگین الزامات اٹھاتا ہے۔ خود اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشیدگی کم کرنے کے لیے مطالبات کیے ہیں، جو اس نوعیت کی فوجی مداخلت کے خلاف عالمی سطح پر تحفظات کا اظہار ہے۔ دوسرا، خطے میں امن اور استحکام خطرے میں پڑ گیا ہے۔ امریکہ کی کارروائی نے برازیل، میکسیکو، چین اور یورپی ممالک کو اپنی سکیورٹی پالیسی پر نظر ثانی پر مجبور کر دیا ہے۔ لاطینی امریکہ میں قوم پرستی اور خودمختاری کے موضوعات دوبارہ زندہ ہو گئے ہیں۔ تیسرا، عالمی توانائی کی منڈی پر اثرات بھی غیر یقینی ہیں۔ اگرچہ امریکہ کا دعوی ہے کہ وہ وینزویلا کے تیل کو بحال کر کے عالمی مارکیٹ میں شامل کرے گا، ماہرین کہتے ہیں کہ پیداوار میں فوری اضافے کا امکان کم ہے، کیونکہ وینزویلا میںموجودہ انفراسٹرکچر، سرمایہ کاری کی کمی اور تکنیکی دشواریاں موجود ہیں۔ چوتھا یہ کہ چین، روس اور دیگر حریف طاقتوں کا ردعمل بحران کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔ وینزویلا نے ماضی میں چین اور روس کے ساتھ توانائی اور سرمایہ کاری میں روابط مضبوط کیے ہیں اور ان ممالک کی جانب سے کسی بھی سفارتی یا اقتصادی ردعمل سے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے درمیان مزید کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی سیاست صرف سرحدی تنازعات یا اقتصادی مفادات تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ طاقت، معاشی رسوخ اور بین الاقوامی اصولوں کے درمیان ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ اس کے اثرات، چاہے براہِ راست ہوں یا بالواسطہ، دور دراز ملکوں تک پہنچ سکتے ہیں، اور عالمی نظام کے لیے نئے بحرانوں اور سوالات کے دروازے کھول سکتے ہیں۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے عالمی منڈی پر انحصار کرتا ہے، تیل کی قیمتوں میں کسی بھی غیر مستحکم صورتحال سے ملک کے بجٹ، مہنگائی اور تجارت کے توازن پر دباو بڑھ سکتا ہے۔ مزید برآں، امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی سے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور تجارتی تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں، خاص طور پر جب دونوں طاقتیں اپنے اپنے حلیفوں اور شراکت داروں پر دبائو بڑھا رہی ہوں۔ وینزویلا کے ساتھ پیش آنے والا یہ نیا بحران عالمی طاقت، توانائی اور قانون کے درمیان ایک پیچیدہ اور خطرناک توازن کو بے نقاب کرتا ہے۔
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here