حالات موافق نہیں ہیں!!!

0
13
جاوید رانا

ہم نے گزشتہ کالم میں سال 2026ء کے حوالے سے اس تمنا کا اظہار کیا تھا کہ یہ برس سکون، امن اور آشتی کا نقیب ہو لیکن دنیا کی سب سے بڑی طاقت امریکہ اور اس کے امن کے اور متعدد محاذ آرائی کے سیز فائر کے دعویدار صدر ٹرمپ نے جدید تاریخ کے حوالے سے وہ کریہہ کارنامہ انجام دیا ہے جو بین الاقوامی قوانین، اصولوں اور انصاف سمیت ریاستی آزادی کے حوالوں سے بدترین ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ وینزویلا پر شب خون مارنے اور صدر مادورو اور اس کی بیوی سیلیا فلورس کو اغواء کر کے نیویارک کی فیڈرل جیل میں زیر حراست رکھنے نیز وفاقی کورٹ میں نارکوٹک چارجز اور خطرناک اسلحہ و ہتھیار کی بنیاد پر مقدمہ چلانے کا کھیل شاید کوئی صداقت رکھتا ہو لیکن عالمی قوانین اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ کوئی ملک یا اس کی فوج دوسری ریاست یا اس کے صدر کو اس بنیاد پر تاراج کرے اور عالمی قوانین اور اصولوں سے انحراف کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ وینزویلا پر یہ حملہ امریکہ کے پانچویں صدر مونرو کے 1823ء کے اس نظرئیے کی رُو سے کیا گیا ہے جو ہر حال میں امریکی مفادات کے تحفظ اور امریکی بالا دستی قائم رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔
مونرو کے اس نظرئیے کا ہدف وینزویلا ہی نہیں، اس سے قبل عراق، لیبیا، شام کی تباہی بھی خطرناک ہتھیاروں، عوامی تحفظ اور امن و امان کے بہانے تاریخ کا حصہ ہے، البتہ فرق یہ ہے کہ اس بار وینزویلا کے صدر اور اس کی بیوی کو گرفتار کرنے یا صفحۂ ہستی سے مٹانے کے برعکس انہیں ڈرگ ٹریولر اور خطرناک ہتھیاروں کا الزام لگا کر اغواء کیا گیا ہے، رات کے دو بجے خواب گاہ سے مادورو اور اس کی بیوی کو اغواء کرنے کے تناظر میں کوئی مزاحمت کیوں نہ ہوئی اس کی حقیقت سے قارئین یقیناً میڈیا کے توسط سے پچاس ملین ڈالر، کافی عرصے سے انٹیلی جنس سرگرمیوں اور سی آئی اے ایجنٹ کی صدارتی محل میں موجودگی کے بارے میں آگاہ ہو چکے ہیں۔ حقیقت دراصل یہ ہے کہ وینزویلا کروڈ آئل کے بہت بڑے سخت ذخائر کا حامل ہے اور امریکہ اس کے ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ سچ یہ بھی ہے کہ امریکہ، سعودی عرب سمیت بہت سے ممالک کا تیل اتنا سالڈ نہیں، کسی زمانے میں وینز ویلا کروڈ آئل صرف امریکہ کو برآمد کرتا اور امریکی ریفائننگ کمپنیوںسے ریفائن کیا جاتا تھا۔ جب سے وینزویلا تیل کی برآمد بڑی تعداد میں چین، روس، ایران اور دوسرے ممالک کو کرتا رہا امریکہ کی تیل ریفائن کمپنیاں نہ صرف ٹھپ ہونے لگیں بلکہ خود امریکہ کو اپنے یونی پولر اسٹیٹس کی فکر بھی لاحق ہو گئی ہے۔
تیل کا معاملہ تو اپنی جگہ لیکن ایک امر یہ بھی ہے کہ امریکہ نہیں چاہتا اس کی ملحقہ ریاستوں ارو حکومت پر دوسری ریاستوں یا ممالک کے تعلقات اور اثرات وسیع ہوں۔ حال ہی میں جو امریکی نیشنل اسٹریٹجی پالیسی سامنے آئی ہے اس کے مطابق امریکہ، یورپ، مشرق وسطیٰ اور شرق بعید کے ممالک و ریاستوں کے جھگڑوں کے بجائے اپنے منسلکہ و ملحقہ ممالک و ریاستوں پر اپنا اثر بڑھائیگا اور اپنے احکامات، دبائو نہ ماننے پر قبضہ سمیت ہر اقدام بروئے کار لائیگا۔ مقصد بظاہر یہ ہے کہ امریکہ اپنے اڑوس پڑوس میں ہر بات منوائے لیکن یہ سب اس لئے بھی ہے کہ صدر ٹرمپ امریکہ میں اپنی گرتی ہوئی ساکھ بحال کر سکے۔
وینزویلا کے انتظامی اور تیل کے ذخائر پر امریکی کنٹرول کے اعلان کیساتھ ہی اپنی گزشتہ انتخابی مہم میں امن کے دعویدار و نوبل ایوارڈ کے متمنی ٹرمپ نے کولمبیا، گرین لینڈ، میکسیکو، ایران، افغانستان، کیوبا سمیت بہت سے ممالک کو اپنے اہداف قرار دیدیا ہے۔
ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ کے ان اقدامات و اعلان کے بعد اقوام متحدہ، روس، چین، ایران و برازیل سمیت متعدد ممالک کا جو رد عمل سامنے آرہا ہے، مبصرین و ماہرین کے مطابق یہ صورتحال تیسری جنگ کا پیش خیمہ ہی ہو سکتی ہے لیکن ان عالمی حالات کے تناظر میں اپنے وطن عزیز کی طرف نظر ڈالیں تو ایسا لگتا ہے کہ ہمارے ارباب بست و کشاد ایک ایسے کوزے میں بند ہیں جہاں سے انہیں عالمی منظر میں ہوتے حالات و واقعات نظر آتے ہیں نہ ہی ان کی پرواہ ہے، مذاکرات کا ڈھونگ کبھی ہاں کبھی ناں، آئے دن دہشتگردی کے واقعات، سزائوں کا بشمول صحافی و سوشل میڈیا سلسلہ اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے حربے۔ اپنی حربی طاقت اور قومی اتحاد کا یقین بیشک لیکن لیکن یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ایران یا افغانستان تک امریکی اسرائیلی شعلے آئے تو ان کی تپش سے پاکستان محفوظ رہ سکے گا۔ سیاسی جھگڑے، احتجاج، مصنوعی دعوئوں اور انتشاری کیفییت سے کوئی تحفظ، سکون خوشحالی ممکن نہیں اس کیلئے اپنی ذات سے بلند ہو کر ملک و قوم کیلئے عمل اور اخوت ضروری ہے ورنہ تاریخ بھلا دی جاتی ہے خدا نہ کرے کہ ہمارے وطن پر ایسا وقت آئے۔
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here