آقائے کائنات کے چند مشاہیرا جدادِ کرام

0
7

آقائے کائنات کے چند مشاہیرا جدادِ کرام

واضح رہے کہ سرورِ کائناتۖ کے تمام آبا واجداد مومن اور موحد گزرے ہیں جیسا کہ آقائے کریم ۖ کی حدیث اس امر کی وضاحت کرتی ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ میں پاک اصلاب سے پاک ارحام کی طرف منتقل ہوتا رہا۔ علاوہ ازیں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمتہ والرضوان نے اپنی مایہ ناز کتاب ” شمول الاسلام لاباء ہ الکرام” میں دلائل باہرہ کے ساتھ تفصیلاً یہ ثابت کیا ہے کہ بلاشبہ حضور پر نورۖ کے تمام آبائو اجداد موحد مومن تھے۔ ربّ کائنات نے اپنے حبیب پاک صاحب لولاک ۖ کے نور کو ایسی انفرادیت بخشی کہ حضرت شیش علیہ السلام جو آپ کے جدّامجد ہیں تنہا پیدا ہوئے تاکہ نورِ مصطفی کا اور کسی دوسرے کے درمیان اشتراک نہ ہو۔ واضح رہے کہ حضرت شیث علیہ السلام کی ولادت سے قبل حضرت بی بی حوّا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہر حمل میں جڑواں بچے یعنی ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوتے تھے۔ حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی معرکتہ الآراکتاب ”مدارج النبوة” کے جلد ثانی میں تحریر فرماتے ہیں کہ جب حضرت آدم علیہ السلام کا دنیا سے رحلت کا وقت قریب آیا تو آپ نے اپنے فرزندارجمند حضرت شیش علیہ السلام کو وصیت فرمائی کہ اس نور مصطفیٰ کو پاک بیویوں میں منتقل کرنا۔ اسی طرح خود شیث علیہ السلام نے اپنے فرزند حضرت انوش کو اور پھر حضرت انوش نے اپنے فرزند کو یونہی اس وصیت کا سلسلہ قرناً بعدقرن بدستور چلتا رہا یہاں تک کہ یہ نور مبارک حضرت عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منتقل ہو کر حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک آیا۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروری حدیث ہے کہ سرور کائنات ۖ نے آیت کریمہ ”لَقَد جَآئَ کُم رَسُولُ مّنِ اَنفُسِکُم” کے فاکوز سے پڑھ کر ارشاد فرمایا کہ میں نسب و صہروحسب کے اعتبار سے تم سب میں نفیس تر ہوں۔ یعنی اگر اَنفُسِکُم” کے فاکو بجائے ضمّہ کے فتحہ سے پڑھا جائے تو لفظ ہوگا اَنفُسِکُم جس کا معنیٰ ہوگا نفیس ترین کیوں کہ اَنفَسُ نفیس کا اسم تفضیل بن جائے گا۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here