محترم قارئین کرام آپکی خدمت مین سید کاظم رضا نقوی کا سلام پہنچے ہر دور میں رشتہ کرنا صاحب اولاد انسان کیلئے ایک امتحان سے کم نہیں رہا بیٹا ہو یا بیٹی رشتہ ڈھونڈنے اچھا لڑکا / لڑکی تلاش کرنے کیلیے دنیا میں بہت سے طور طریقے رائج رہے ناء کے زریعے پیغام سے لیکر لال خط شادی کی تاریخ ہو یا انٹرنیٹ کے زریعے تلاش رشتہ ہو آجکل رشتہ آنٹیاں جنکا طرز زندگی انتہاء شاھانہ ہوتا ہے لاھو رکی مسز خان ہوں یا کراچی کی مسز نازش سب کے اپنے طریقے بھاری بھرکم گیس شرائط اور پھر لڑکی کے گھر دعوت جیسے اہتمام کے بعد لڑکی دیکھنے کا رواج ایسے ہی چل رہا ہے جیسے برسہا برس سے دنیا چل رہی ہے زیر نظر کہانی ایک خاتون میمونہ صاحبہ کی آپ بیتی ہے جو اس رشتہ کی رسم نشانہ بنیں آگے کیا ہوا آپ پڑھئیے اور اندازہ لگائیں یہ مرحلہ کس قدر مشکل ہوتا ہے جسے آسان ہونا چاہیئے آٹھ نو سال پہلے کی بات ہے میری ایک کزن کو لڑکے والوں نے دیکھنے آنا تھا تو خالہ نے مجھے فون کیا کہ تم آجانا کھانا وغیرہ بنانے میں مدد کرنا۔ خالو کا انتقال ہوچکا اور خالہ کے بیٹے چھوٹے تھے تو انہوں نے میرے میاں سے کہا تمہیں لازمی آنا ہے لڑکے سے بات چیت کرنا لڑکے کا بھی پتہ چلے گا کیسا ہے۔ لڑکے کی بہت تعریفیں سنی تھیں کہ خوبصورت ہے پڑھا لکھا سلجھا ہوا ہے ان کی اس کے علاوہ کوئی ڈیمانڈ نہیں کہ لڑکی سلیقہ مند ہو۔ رشتہ دکھانے والے نے خاص تاکید کی کہ وہ بہت رکھ رکھا والے ہیں لڑکی بار بار ان کے سامنے نہ جائے۔ ہم دونوں خالہ کی طرف چلے گئے بیٹی کو گھر ہی چھوڑ گئے خالہ نے ہم لوگوں کو سمجھانا شروع کیا ان سے انتہائی اخلاق سے پیش آنا ہے کزن کو تاکید کی کہ تم خاموشی سے کمرے بیٹھی رہنا زیادہ باہر نہ گھومنا پھرنا کہ ان کو یہ نہ لگے کہ لڑکی میں تو شرم و حیا ہی نہیں ہے۔ مجھے تاکید کی کہ تمہیں کھانا بنانا بھی ہے سرو بھی کرنا ہے بات ان سے بس اتنی ہی کرنی جتنی وہ کریں کہ ان کو لگے کہ ان کے خاندان کی لڑکیاں کتنی سلجھی ہوئی ہیں میرے میاں سے کہا کہ تم لڑکے سے بات چیت کرنا زرہ کھل کے کہ لڑکے کا مزاج پتہ چلے۔ کھانا وغیرہ کھانے کے بعد مجھے کزن کو لے کے آنا تھا کہ وہ لڑکی دیکھ سکیں۔ مہمانوں کے آتے ہی سب نے اپنے اپنے مورچے سنبھال لیے اور کام شروع کر دیا میں نے سب سے پہلے ان کو چائے پیش کی اور اپنے میاں کے پاس آکے بیٹھ گئی جو چائے پینے کے ساتھ ساتھ لڑکے کا انٹرویو بھی کر رہے تھے۔ لڑکے کی ماں نے ایک دو سوال میرے میاں سے بھی کیے کہ آپ کیا کرتے ہیں کہاں رہتے ہیں خالہ نے بتایا یہ میرا بھانجا ہے لڑکے کی بہن نے مجھ سے پوچھا آپ پورا دن گھر میں کیا کرتی ہیں میں نے کہا کچھ بھی نہیں بس گھر کے ہی چھوٹے موٹے کام اور پھر میں کھانا لگانے کی اجازت لے کے اٹھ گئی کیونکہ خالہ نے زیادہ بات چیت کرنے سے منع کیا تھا۔ میں نے کھانا لگایا ہم سب نے مل کے کھانا کھایا ساتھ ساتھ تھوڑی بہت بات چیت اور تھوڑا بہت ہنسی مذاق بھی چلتا رہا اچھے سلجھے ہوئے لوگ تھے لڑکا سلجھا ہوا بھی تھا اور شریف بھی تھا۔ ہم تینوں نے آنکھوں آنکھوں میں ایک دوسرے کو یہ پیغام بھی دے دیا کہ لڑکا پسند ہے۔ کھانے کے بعد خالہ نے مجھے کہا کہ بیٹا جا اپنی بہن کو لے آ یہ لوگ اس سے بھی مل لیں میں کزن کو لے آئی لڑکے کی ماں نے دیکھتے ہی کہا ماشا اللہ لڑکے نے بھی ایک شریفانہ سی نظر ڈالی اور پھر آنکھیں جھکا کے بیٹھ گیا تھوڑی دیر بعد لڑکے کی ماں گویا ہوئیں کہ ماشااللہ آپ کی بیٹی بہت پیاری ہے بہت خوبصورت ہے لیکن ہمیں آپ کی دوسری بیٹی بھی بہت پسند آئی کہ ہماری تو ڈیمانڈ ہی سلیقہ مند ہونا ہے خالہ نے کہا دوسری کون سی میری طرف اشارہ کر کے فرمانے لگیں یہ والی۔ میرے میاں لڑکے کو مخاطب کر کے کہتے بھائی جان یہ میری بیوی ہے اور میری دو بیٹیاں بھی ہیں ایک دس سال کی اور ایک پانچ سال کی۔ لڑکے کی ماں جلدی سے کہتیں ارے نہیں بیٹا ہمارا وہ مطلب نہیں تھا آپ غلط سمجھے میں تو بس اس کی تعریف کر رہی تھی کہ لڑکی بہت سلیقہ مند ہے ماشا اللہ دیکھنے تو ہم اسے ہی آئے ہیں اور ہمیں پسند بھی آئی ہماری طرف سے ہاں ہے۔ میرے میاں نے بھی مسکراتے ہوئے کہا جی آنٹی آپ بھی غلط سمجھیں میں بھی ان کو یہ ہی بتا رہا تھا کہ میری بیوی بہت سلیقہ مند ہے اور یہ بھی اسی کی بہن ہے اس سے بھی زیادہ سلیقہ مند۔ انہوں نے خالہ کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو خالہ نے کہا ہم آپس میں مشورہ کریں گے پھر آپ کو بتا دیں گے۔ کچھ دیر وہ کزن کا انٹرویو کرتے رہے پھر چلے گئے ان کے جاتے ہی کزن نے کہا بھائی مجھے لڑکا پسند نہیں میرے میاں کہتے مجھے بھی نہیں پسند آیا کمینہ۔ ہم لوگ خالہ سے اجازت لے کے واپس نکلے میں نے سوچا کہ میاں غصے میں ہیں تو عافیت اسی میں ہے کہ پورا راستہ خاموش بیٹھا جائے۔ گھر پہنچتے ہی وہ کہتے سالے کو سلیقہ مند لڑکی پسند ہے مجھ سے تو کوئی پوچھے کتنی سلیقہ مند ہے صبح سویرے بیٹی کا فیڈر میں خود بناتا ہوں یہ تو ایک بجے سے پہلے سو کے نہیں اٹھتی میں نے کہا اب آپ ایسے تو نہ کہیں دس بجے اٹھ جاتی ہوں میں۔ کہتے کمینے کی بس ایک ہی ڈیمانڈ ہے کہ لڑکی سلیقہ مند ہو میں نے کہا اس بیچارے نے تو کچھ بھی نہیں کہا وہ تو خاموش بیٹھا تھا اس کی ماں نے کہا۔ کہتے اچھا تمہیں کیا لگتا بس ہماری خالہ ہی ہمارے اشارے سمجھتی ہیں اس کی ماں اندھی ہے۔ میں نے کہا آپ نے ایسے کیوں کہا میری دو بیٹیاں ہیں وہ بھی ایک دس سال کی اور ایک پانچ سال کی ہماری تو ایک ہی بیٹی ہے وہ بھی ایک سال کی کہتے اس لیے کہ اس کمینے کو لگے کہ ہماری شادی کتنی پرانی ہے اور تم اتنی بھی چھوٹی نہیں جتنی وہ سمجھ رہا۔ میں نے کہا اسے کیوں گالیاں دے رہے ہیں لڑکی تو اس کی ماں نے پسند کرنی تھی کہتے اچھا اگر اس نے پسند نہیں کرنی تھی تو آیا کیا کرنے تھا سالا۔ میں نے کہا اچھا اب آپ چھوڑ بھی دیں اگر میرا کوئی ڈھنگ کا رشتہ آہی گیا ہے تو ایسے جل سڑ کیوں رہے ہیں آپ، تھوڑا صبر کریں آپ کے لیے بھی کوئی معقول سا رشتہ آہی جائے گا پتہ نہیں کیا ہوا کہ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کے کمرے سے باہر نکال دیا اور کمرہ لاک کر لیا محترم قارئین کرام میری دعا ہے کہ ہر لڑکی کا گھر بسے اور وہ اس رشتے کے ازیت ناک برور طریقے کا شکار نہ ہو بلکہ عزت و احترام کے ساتھ اپنے گھر کی ہو رچے بسے خوش رہے آمین!
٭٭٭














