آج کے جدید دور میں جس قدر سالگرہ کے دن کو اہمیت حاصل ہے وہ پہلے کبھی نہ تھی ذرا غور کریں تو معلوم ہوگا سالگرہ کا دن آپ کی زندگی میں ایک اور سال کم ہوگیا لیکن ہم ہیں کہ نمود نمائش اور خود نمائی کے اتنے شیدائی ہوچکے ہیں ہر موقع کو فیس بک پر کیش کروانے کے چکر میں ہوتے ہیں نئے سال کا آغاز ہوچکا ہے ترقی یافتہ اور کامیاب قومیں وہی ہوتی ہیں جو گزرے وقت کی غلطیوں سے سبق سیکھیں اور آئندہ وہ غلطیاں نہ دہرائیں۔2025 میں کئی بڑے بڑے واقعات ہوئے کئی بڑے لوگوں کی برسیاں برگزیدہ ہستیوں کے میلاد اور عرس ہوئے خاص طور دسمبر کے مہینے میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا یوم پیدائش بینظیر بھٹو کا یوم وفات اور دیگر کئی اہم واقعات ہوئے۔ واشنگٹن ایریا میں کسی بھی رہنما کو یاد نہ کیا گیا اور نہ ہی کوئی تقریب منعقد کی گئی اب پاکستان کے موجودہ حالات میں لاکھوں لوگ ملک سے باہر چلے گئے اور سروے کے مطابق 90 فیصد لوگ پاکستان سے نکلنا چاہتے ہیں 2025 میں پاکستان کے معاشی اعتبار سے سیاسی اعتبار سے انسانی حقوق کے اعتبار سے گراف بہت نیچے چلا گیا۔ میڈیا پر کنٹرول کی وجہ سے لوگ مین سٹریم پاکستانی میڈیا کو سنجیدہ نہیں لیتے نہ جانے اتنے تجربہ کار فوجی تجربہ کار سیاستدان اتنی بڑی بڑی غلطیاں کرکے ان پر اکڑے ہوئے نظر آرہے ہیں پاکستانی عدالتوں کا تمسخر پوری دنیا میں اڑ رہا ہے پولیس گردی عروج پر ہے نظر آرہا ہے کہ کام غلط کیا ہے۔ اس پر کوئی ملال نہیں ہے سامنے دیکھا جارہا ہے ظلم ستم بربریت کر رہے ہیں بہت زیادہ ناانصافی کر رہے ہیں۔لیکن اس پر قائم اور پوری پاکستانی قوم کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے پاکستان کے پچیس کروڑ سے زیادہ عوام تقریباً ہر شہری کے پاس سمارٹ فون موجود ہے اور ہر شخص چلتا پھرتا صحافی ہے سوشل میڈیا پل پل کی خبر دے رہا ہے پاکستانی میڈیا پر بیٹھے اکثر ٹاوٹوں کو یہ معلوم ہے کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں لیکن اسی پر قائم ہیں بزرگ کہتے ہیں ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے سو جھوٹ بولنا پڑتا ہے ہمارے حکمران بین الاقوامی سیاست میں اس قدر پھنس چکے ہیں کہ واپسی ناممکن ہے پانچ ہزار تیس سو ارب کی کرپشن دبئی لیکس یو این او کی پاکستان انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی رپورٹ یورپی ممالک کی 8 فروری کے انتخابات کی رپورٹ عمران خان پر جھوٹے مقدمات کی رپورٹ اسلامی تاریخ میں عدت کیس قادر یونیورسٹی کیس دہشت گردی کے کیسز ان پر کوئی بات نہیں کرتا نہ ہی پاکستان میڈیا کو اجازت ہے لیکن سوشل میڈیا کی وجہ سے پاکستان کے ہر شہری کو ہر خبر سے آگاہی ہے لیکن ہمارے حکمران 2025 میں بھی جو وارداتیں کیں پاکستان میں جو تباہی بربادی ہوئی اس کا سلسلہ جاری ہے اس وقت جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہے اورسیز پاکستانی ہی واحد امید ہیں لیکن وہ بھی اچھے ماحول کے عادی ہوچکے جس پر پاکستان پر اعتماد بحال ہونے سے کتنا وقت لگتا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے پاکستان میں ناکامیوں اور محرمیوں کا سلسلہ جاری ہے اب کس طرح کہیں نیا سال مبارک جبکہ بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آرہی لیکن بحیثیت مسلمان ہمیں دعا کرنی چاہیے اللہ تعالیٰ ہماری غلطیاں معاف فرمائیں۔سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائیں اور آنے والے سال میں اللہ پاک کامیابیاں کامرانیاں عطا فرمائیں۔
٭٭٭٭٭














