ہماری رخصتی کا دن ہر سال جنوری کو آتا ہے۔ یہ خوشگوار واقعہ میں وقوع پذیر ہوا تھا لیکن اس کی تمہید اس سے کئی سال قبل ہی باندھ دی گئی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہم ایک مشترکہ خاندان کے زیرِ انتظام تھے اور خاندان کے بڑے بزرگ خاص مواقع پر آپس میں صلاح مشورہ کرکے اپنی نوجوان اولاد کے ناموں کے سامنے رشتوں کی لکیریں لگا دیا کرتے تھے۔ ہر گھر میں آٹھ دس بچے ہوتے تھے۔ زیادہ تر رشتے تو ان لکیروں کے عین مطابق ہو جایا کرتے تھے۔ کچھ تھوڑے بہت حادثے بھی ہوتے تھے لیکن مجموعی طور پر نظام چلتا رہتا تھا۔ ان خاندانی روایات کے مطابق، بزرگوں نے میرا رشتہ ایک ایسی لڑکی سے طے کیا تھا جو میرے ماموں اور پھوپھو کی بیٹی تھیں۔ اس فیصلے کے بعد جب میری امریکہ کی تعلیمی اسکالرشپ منظور ہو گئی تو کچھ حلقوں نے اس خدشے کا اظہار ضرور کیا تھا کہ امریکہ جا کر کہیں میں اس رشتے کو توڑ نہ دوں۔ انہیں شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ میرے لئے قدیم خاندانی روایات نبھانے کے ساتھ ساتھ اسلامی جمعیت طلبہ کی تربیت کا تقاضہ بھی یہ تھا کہ میں اپنے سارے وعدوں پر قائم رہوں۔ اس کے علاوہ ایک بڑی حقیقت یہ بھی تھی کہ ہم اپنی ہونے والی خاتونِ خانہ کی سمجھدار اور بردبار شخصیت سے بھی بہت زیادہ متاثر تھے۔ ہمارے خاندان کی سربراہ ہماری دادی جان تھیں اور یہ محترمہ ان کے بہت قریب تھیں۔ اسی وجہ سے، ان میں بھی قائدانہ صلاحتیوں کی کثرت تھی۔ امریکہ آنے کے بعد، مشہور مزاحیہ شاعر جناب خالد عرفان صاحب سے نیو یارک میں ملاقات ہوئی تو انہیں ایک بہت اچھا اور سچا انسان پایا لیکن ان کا یہ شعر مجھے اپنے لئے بالکل بے محل لگا کیونکہ ہمارا معاملہ تو بالکل الٹا تھا۔
میں تو اہل ہوں کسی اور کا مری اہلیہ کوئی اور ہے
میں ردیف مصرع عشق ہوں مرا قافیہ کوئی اور ہے
بزرگوں کی لگائی ہوئی لکیروں کے ذریعے رشتوں کا تعین، اس زمانے کی بات ہے جب ہمارے چولہے وسیع اور اوپن ائیر میں ہوا کرتے تھے۔ فرج اور ٹی وی ناپید تھے۔ سارے قریبی رشتہ داروں کا رہنے کا انداز اور معیار تقریبا ایک جیسا ہوا کرتا تھا۔ سارے دن کے جھگڑوں کے بعد شام کے وقت، سب ایک ہی دسترخوان پر بیٹھ کر ہنسی خوشی کھانا بھی کھا لیتے تھے اور خوش گپیاں بھی کیا کرتے تھے۔ پھر ہمارے گھروں میں ٹی وی در آیا اور مغرب نے مشرق پر ثقافتی حملہ کا آغاز کر دیا۔ فرج آئی تو اس نے کھانوں اور پھلوں کی ملکیت کا ایسا اجنبی تصور دیا کہ مشترکہ خاندانی نظام کی چولیں ہل گئیں۔ آہستہ آہستہ اوپن ائیر وسیع و عریض چولہے، چھوٹے چھوٹے کچنوں میں تبدیل ہونے لگے۔ بھائی بھائی کے درمیان معیارِ زندگی میں فرق آنے لگا۔ بزرگوں کی لگائی ہوئی رشتوں والی لکیریں بھی غائب ہو گئیں۔ بلکہ آہستہ آہستہ بزرگ ہی غائب ہو گئے۔ آجکل ہمارے خاندانوں میں بھی رشتے مفادات کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں۔ شادیوں کا یہ نیا کلچر اب خالد عرفان کے اس شعر کو سچا ثابت کرنے پر تلا رہتا ہے۔
میں ترا کزن تو مری کزن کریں رقص پھر سر انجمن
نہ ترا چچا کوئی اور ہے نہ مرا چچا کوئی اور ہے
اس بات سے تو تقریبا سب لوگ اتفاق کرتے ہیں کہ ہمارا لکیروں والا پرانا نظام بہت ساری آسانیاں پیدا کرتا تھا۔ نوجوانوں کو اپنی شادیوں کیلئے زیادہ دیر تک انتظار بھی نہیں کرنا پڑتا تھا۔ چھوٹے بڑے جھگڑے بھی خاندان کے بزرگ آسانی سے نبٹا دیا کرتے تھے۔ آج کل تو شادی شدہ زندگی شروع کرنے سے پہلے عملی زندگی کے کئی سال گزارنے پڑتے ہیں۔ تعلیم کی تکمیل اور سماجی اسٹیٹس کا تعین، رشتوں کیلئے ضروری ہو گیا ہے۔اسی طرح آپس کے چھوٹے بڑے جھگڑے بھی جوڑے خود ہی نبٹانے میں لگے رہتے ہیں۔ سلیم کوثر کے یہ اشعار کچھ اسی کیفیت کی نمائندگی کرتے ہیں۔
عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیان ہے زندگی
میں قریب ہوں کسی اور کے مجھے جانتا کوئی اور ہے
مری روشنی ترے خد و خال سے مختلف تو نہیں مگر
تو قریب آ تجھے دیکھ لوں تو وہی ہے یا کوئی اور ہے
امریکہ کی مسلم کمیونٹی میں رشتے ناطوں کے طے ہونے کے کئی طریقے رائج ہو چکے ہیں۔ ہر بڑے سالانہ کنونشن میں Matchmaking کیلئے باقاعدہ پروگراموں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ہر بڑی مسجد نے بھی اس مقصد کیلئے ایک کمیٹی کا اہتمام کیا ہوا ہے، جو وقتا فوقتا شیپرون کی زیرِ نگرانی، نوجوانوں کی ملاقاتوں کا انتظام کرتی رہتی ہے۔ سوشل میڈیا، ویب سائیٹس اور واٹس ایپ گروپس کا بھی خوب استعمال ہو رہا ہے۔ کچھ لوگوں کیلئے تو اب یہ خاصا منافع بخش کاروبار بھی بن چکا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود مناسب رشتہ کی تلاش کوئی آسان کام نہیں۔ کئی مرتبہ Mismatching ہو جاتی ہے۔ اسی لئے خالد عرفان کو یہ بھی کہنا پڑ گیا ہے کہ
وہ سہاگ رات جہیز میں سگ پالتو بھی لے آئی تھی
جو سحر ہوئی تو پتہ چلا یہاں تیسرا کوئی اور ہے
ایک بھرے پرے قدیم خاندان کے عادی، ہم دونوں میاں بیوی، رخصتی کے فورا بعد، جنوری میں ہی امریکہ کی تنہائیاں سہنے کیلئے نیو جرسی کے برفانی طوفانوں میں آ پھنسے تھے۔ اب تک یہاں بتیس سال گزار چکے ہیں۔ مسجد کی کمیونٹی اور مولانا یوسف اصلاحی کی میزبانی نے ہمارا بہت ساتھ دیا۔ تینوں بچوں نے ہمیں مصروف تو خوب رکھے رکھا لیکن اپنے آبائی علاقے اور خاندان سے کٹ جانے کا احساس پھر بھی ہمیشہ زندہ رہا ہے۔ اپنی نثر کی طوالت سے بچنے کیلئے عباس تابش کے یہ اشعار ہی کافی ہیں۔
بچوں کی طرح وقت بتانے میں لگے ہیں
دیوار پہ ہم پھول بنانے میں لگے ہیں
دھونے سے بھی جاتی نہیں اس ہاتھ کی خوشبو
ہم ہاتھ چھڑا کر بھی چھڑانے میں لگے ہیں
لوری جو سنی تھی وہی بچوں کو سنا کر
ہم دیکھے ہوئے خواب دکھانے میں لگے ہیں
٭٭٭












