واشنگٹن (پاکستان نیوز) معروف عالمی تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس(آئی ای پی) نے کہا ہے کہ افغانستان ایک بار پھر دنیا کے غیر محفوظ ترین ممالک میں شامل ہے اور امن کی صورتحال میں مسلسل بگاڑ دیکھا جا رہا ہے۔ آئی ای پی نے اپنی سالانہ گلوبل پیس انڈیکس رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق افغان طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان عالمی امن اشاریے میں 163 ممالک میں سے 158 ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ آئی ای پی کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں افغانستان میں امن کی مجموعی صورتحال میں 0.28 فیصد مزید تنزلی ریکارڈ کی گئی ہے، جو سنگین سیکیورٹی بحران کی نشاندہی کرتی ہے۔گلوبل پیس انڈیکس رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ افغانستان جنوبی ایشیا کا سب سے غیر محفوظ اور کمزور ملک بن چکا ہے، جہاں تمام بنیادی امن اشاریوں میں بدترین کارکردگی سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تشدد، ہتھیاروں کی آسان دستیابی، کمزور حکمرانی اور مسلسل عدم استحکام نے ملکی سلامتی کو شدید خطرے میں ڈال رکھا ہے۔آئی ای پی نے اپنی رپورٹ میں اس امر کی بھی نشاندہی کی ہے کہ افغانستان میں سرگرم مسلح دہشت گرد گروہ نہ صرف ملک بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان گروہوں کو جدید ہتھیاروں تک وسیع رسائی حاصل ہے، جس سے علاقائی عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں بڑھتی ہوئی غربت، بے روزگاری اور معاشی بحران نے نوجوانوں کو شدت پسند عناصر کے اثر میں دھکیل دیا ہے۔













