اور نقاب ہٹ گیا!!!

0
15

اور نقاب ہٹ گیا داستان ایک غداری کی ہفتہ کی شام 30 اگست 2025کو، ایک غدار خفیہ ایجنٹ نے شاباک (قابض سیکیورٹی ایجنسی)کو اطلاع دی کہ بہت عرصے کے بعد “نقاب پوش” اپنے خاندان سے ملنے آئے ہیں۔ شاباک نے اس اطلاع کو کسی طرح ہلکا نا لیا، بلکہ اسے ایک نایاب موقع سمجھا جس کی تلاش میں انھوں نے14 ناکام قتل کی کوششیں کیں۔ فوری طور پر ایک ہنگامی میٹنگ بلائی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ مزا۔۔ح۔۔مت کے قائدین کو ہلاک کرنے کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ جہاز استعمال کیے جائیں۔ اگرچہ وہ جانتے تھے کہ وہ کس اپارٹمنٹ میں ہیں، اس کے باوجود پوری عمارت کو نشانہ بنایا گیا تاکہ مارے جانے کی تصدیق ہو سکے اور پورے خاندان سے بدلہ لیا جا سکے۔ اس حملے میں بین الاقوامی طور پر ممنوعہ آگ لگانے والے تھرمل بمب سے لیس میزائل استعمال کیے گئے۔ یہ بم ہوا میں دھماکا خیز ایندھن کا بادل پھیلاتے ہیں جو اچانک بھڑک اٹھتا ہے، زبردست حرارت اور مہلک دبائو پیدا کرتا ہے جو جسم کو بھسم کر دیتا ہے، ارد گرد کے علاقے سے آکسیجن ختم کر دیتا ہے، جس سے نہ تو انسان بچ پاتا ہے اور نہ ہی پتھر جس کے نتیجے میں ہمارے ہیرو شہید ہو گئے، ان کی اہلیہ شہید ہوئیں، اور ان کے بچے لیان، من اللہ اور یمان شہید ہو گئے۔ ان کے جسم مکمل طور پر بھسم ہو گئے، دشمن ہر نام و نشان مٹا دینا چاہتا تھا۔ ان کے ساتھ ان کے خاندان کے40افراد اور 30بے گناہ شہری بھی شہید ہوئے۔ ابو عبیدہ آگے بڑھتے ہوئے شہید ہوئے، پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگے۔ ان کی شہادت سے پہلے ایک وعدہ اور بشارت آ چکی تھی۔ انھوں نے اپنے سسر ڈاکٹر منذر العامودی کو اپنا ایک خواب سنایا تھا جس میں انہوں نے رسول اللہ ۖ کو دیکھا جو فرما رہے تھے کہ تم آج شہید ہونے والے ہو چنانچہ اس صبح انہوں نے غسل کیا، خود کو سنوارا، خوشبو لگائی ،گویا وہ اپنی دُلہن کی طرف جا رہے ہوں۔ وہ اپنی امانت ادا کرنے، اپنے دین اور وطن کے لیے اپنا خون بہانے کے بعد شہید ہوئے۔ پوری اُمت نے ان کے لیے آنسو بہائے، مساجد اور محرابوں نے ان کے لیے ماتم کیا، اور جنگ کے میدانوں نے ان کی موت پر سوگ منایا۔ ہم نے کبھی نہیں سمجھا کہ شہید مرتے ہیںبلکہ وہ ہم پر گواہی دینے کے لیے کوچ کر جاتے ہیں۔ نقاب پوش کا نقاب ہٹ چکا ہے، مگر اس سے پہلے ان کی دھاڑ سے بہت غدار،خائن اور مفاد پرست بے نقاب ہوئے، بہت سوں کے ملمع دھل کر ان کی کریہہ شکلیں اور ارادے سامنے آگئے! جب کہ نقاب پوش کے بعد اگلے ابو عبیدہ آچکے ہیں، دشمن کی نیندیں اڑانے کے لیے دشمن نام و نشان مٹانا چاہتا تھا ،نام مٹا نا نشان یہ تو خوشبو، آواز اور جذبہ بن کر پھیل گیا ہے شش جہات۔۔۔ اللہ ہمارے شہید کو قبول فرمائے، اور ہمیں ان کی حق تلفی کرنے پر معافی دے ۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here