احساس !!!

0
14

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ قیمتی شخص کون ہے آپ رضی اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ”جس شخص میں جتنا زیادہ احساس ہوگا اتنا ہی وہ قیمتی ہوگا” معلوم ہوا کہ انسان ہیرے جواہرات اور دولت سے قیمتی نہیں بنتا انسان احساس سے قیمتی ہوتا ہے لیکن آج کے دور میں یہ قیمتی دولت نایاب ہے۔ بقول احمد فراز !
محبت ان دنوں کی بات ہے فراز
جب مکان کچے اور لوگ سچے تھے
یہ اس زمانے کی ایک یاد ہے جب محبت ہوا کی طرح ہر سُو چلتی اور جسم وجاں کو راحت پہنچاتی۔ جب اپنوں کے علاوہ بیگانوں سے بھی محبت واپنائیت ہوا کرتی۔ تب لالچ کی وباء نہیں پھیلی تھی۔تب گوشت، پکوان، فاسٹ فوڈ، پیزا جیسی بیماریاں میلوں دکھائی نہیں دیتی تھیں۔ گائوں دیہات میں چھوٹے بڑے تمام گھروں میں مٹی کا چولہا کھانے پکانے کے استعمال آتا تھا، جس میں ایندھن کے طور پر گوسے، تھیپڑیاں(جو بھینس اور گائے کے گوبر سے تیار کی جاتیں) بن چھٹی (کپاس کے پودوں کی لکڑی) اور سوُکھی لکڑی استعمال کی جاتی۔ بارش وغیرہ کے موسم میں بہت محنت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا، کیوں کہ ایندھن کا تمام ترسا امان گیلا ہوجاتا اور آگ جلانے میں دشواری ہوتی۔ چولہے کا کمرانما جگہ کو رسواء کا نام دیا جاتا۔۔۔ جو مٹی سے تیار کیا جاتا، عید تہوار کو لیپاپوتی کی جاتی۔۔۔ دیواریں کچی تھیں لیکن رشتے پکے تھے اس چولہے کا سالن، روٹی، چائے اور شکرگندی بنی ہوئی بڑی ذائقہ دار ہوا کرتی اور دیر تک گرم رہتی۔ روٹی پکانے کے لیے توی کا استعمال کیا جاتا۔ جس پر بڑے سائز کی روٹی تیار ہوتی اس کی تیاری میں چار عدد خاتون ایک ساتھ روٹیاں بناتیں۔ ایک پیڑے بناتی، دوسری پیڑے کو بیلتی، تیسری توی پر ڈالتی چوتھی روٹیاں سیکتی،بڑے گھرانوں یا زیادہ افراد پر مشتمل گھر میں یہ چولہا لازمی پایا جاتا۔ آگ جلانے کے لیے اکثر وبیشتر محلے کے گھر کے چولہے سے آگ لینے جاتیں، لڑکیاں چمٹے سے دو ایک ادھ جلی ہوئی تھیپڑی یا گوسا چمٹے میں لاکر چولہے میں رکھی جاتی آس پاس تھیپڑیاں رکھ کر درمیان میں کاغذ یا تھیلی وغیرہ رکھ کر آگ سلگائی جاتی، وہ دینے کے لیے پھوکنی کا استعمال کیا جاتا جو لوہے کا پائپ ڈیڈھ فٹ کے قریب کا ہوتا۔
یہ وہ زمانہ تھا جب آپس میں بھائی چارہ زیادہ تھا، محلہ گھر کی طرح ہوتا، محلے دار قبیلے کی طرح ہوتے، محلے کے غم اپنے، محلے کی خوشی سانجھی ہوتی، جب محلے میں کسی کا انتقال ہوجاتا تو تمام دکانیں کاروبار بند کر دیتے اور محلے داروں کے تمام کام کاج پریشانیوں کو نمٹاتے کام آتے۔ محلے کی شادی اپنی شادی سمجھی جاتی خانے پکانے اور صرف کرنے کے تمام کام محلے پڑوس کے افراد کرتے۔ تب اپنے پرائے کی اصطلاح کا اختراع نہیں ہوا تھا، سب اپنے ہوتے۔ کتنی دلکش اور سکون آور یادیں تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here