ابراھام اکارڈ کا آج کل بہت زیادہ تذکرہ ہو رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کی یہ کوشش ہے کہ مسلمانوں کو یہ باور کروایا جائے کہ یہودی، عیسائی اور مسلمان سب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ماننے والے ہیں، اس لیے ان سب کو یکجا کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے مسجد، چرچ اور یہودی عبادت گاہ ایک ساتھ بنانے اور قرآن، انجیل اور توریت کو ایک جلد میں شائع کرنے کی تجاویز پیش کی جا رہی ہیں۔ کئی عرب ممالک اس معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں اور پاکستان پر بھی مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اس میں شامل ہو۔ اس اقدام کا اصل مقصد اسرائیل کو سفارتی اور نظریاتی طور پر تسلیم کروانا ہے۔ اس صورت حال کے تناظر میں سعودی عرب کے فتاویٰ کی مستقل کمیٹی برائے علمی تحقیق و افتاء نے مذاہب کے اتحاد اور ابراہیمی ہاؤس کے نظریے کے متعلق پائے جانے والے اختلافات کو ختم کرتے ہوئے حتمی فتویٰ نمبر 19402 جاری کیا ہے، جس میں مذاہب کے اتحاد کی دعوت دینے والوں کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے کفر قرار دیا گیا ہے۔
فتوے کے آغاز میں بیان کیا گیا ہے کہ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور درود و سلام ہو ان پر جن کے بعد کوئی نبی نہیں، اور ان کے اہل بیت و صحابہ اور قیامت تک ان کے طریقے پر چلنے والوں پر۔ بعد ازاں، مستقل کمیٹی برائے علمی تحقیق و افتاء نے ان تمام سوالات اور میڈیا میں شائع ہونیوالے ان مضامین کا تفصیلی جائزہ لیا جو اسلام، یہودیت اور عیسائیت کے اتحاد کے بارے میں پیش کیے گئے تھے اور جن میں ایک ہی جگہ مسجد، چرچ اور معبد بنانے یا قرآن، تورات اور انجیل کو ایک جلد میں شائع کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔ اس مسئلے پر غور و خوص کے بعد کمیٹی نے واضح کیا کہ اسلامی عقیدے کی بنیاد اس امر پر ہے کہ اسلام کے علاوہ کوئی اور دین حق نہیں ہے اور یہ آخری دین ہے جو تمام سابقہ مذاہب اور شریعتوں کو منسوخ کر چکا ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ بیشک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہی ہے۔
کمیٹی نے مزید وضاحت کی کہ قرآن مجید اللہ کی آخری کتاب ہے جس نے تورات، زبور اور انجیل سمیت تمام سابقہ کتب کو منسوخ کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سابقہ آسمانی کتب میں تحریف بھی ہو چکی ہے جس کا ذکر قرآن کریم کی آیات میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور ان کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ فتویٰ میں یہ اصول بھی واضح کیا گیا ہے کہ جو شخص اسلام قبول نہ کرے، خواہ وہ یہودی ہو، عیسائی ہو یا کسی اور مذہب سے تعلق رکھتا ہو، وہ کافر اور اللہ کا دشمن ہے اور توبہ نہ کرنے کی صورت میں جہنم کا مستحق ہے۔
اس فتویٰ کے مطابق مذاہب کے اتحاد کی دعوت ایک فتنہ انگیز سازش ہے جس کا مقصد اسلام کو کمزور کرنا اور مسلمانوں کو مرتد بنانا ہے۔ اس دعوت کا ایک خطرناک اثر یہ ہوگا کہ اسلام اور کفر کے درمیان بنیادی فرق ختم ہو جائے گا، مسلمانوں کے دلوں سے کفار کے باطل نظریات کے خلاف بیزاری ختم ہو جائے گی اور اعلائے کلم? اللہ کے لیے کی جانے والی جدوجہد بھی متاثر ہوگی۔ اگر کوئی مسلمان اس دعوت کو فروغ دیتا ہے تو وہ دینِ اسلام کی بنیادی تعلیمات کی منافی حرکت کی وجہ سے اسلام سے خارج ہو جائے گا۔ لہٰذا کسی مسلمان کے لیے اس دعوت کی حمایت کرنا، اس کے سیمینارز میں شرکت کرنا یا اس کے خیالات کو پھیلانا کسی صورت جائز نہیں ہے۔ قرآن، تورات اور انجیل کو ایک ہی جلد میں شائع کرنا یا مسجد، چرچ اور معبد کو ایک ہی جگہ تعمیر کرنا مکمل طور پر ناجائز ہے کیونکہ یہ عمل اسلام کی برتری کو تسلیم کرنے سے انکار کے مترادف ہے۔
مستقل کمیٹی برائے علمی تحقیق و افتاء نے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس فیصلے کو کمیٹی کے لیے اجر کا ذریعہ بنائے، کیونکہ اللہ ہی سب سے بڑا ہے۔ اس پیغام کا مقصد مسلمانوں کو اس گمراہ کن نظریے کے خلاف بیدار کرنا اور دینِ اسلام کے صحیح احکامات کو عام کرنا ہے۔










