(جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل، محترم جناب امیر العظیم کی وفات کے موقع پر تاثرات)
بظاہر تو آج کے دن کا آغاز بھی روزمرہ کے معمول کے مطابق ہوا لیکن اس بھاری دن کے پہلے چند گھنٹوں میں ہی وہ دل خراش خبر مل گئی، جسے سننے سے بچنے کے لیے پچھلے کافی عرصے سے دعائیں جاری تھیں۔ چند سال پہلے ہمارے ہر دلعزیز اور محترم امیر العظیم بھائی کو کینسر جیسے موذی مرض نے آ گھیرا جس کا کوئی حتمی علاج موجود نہیں تھا۔ بدقسمتی سے دنیا بھر کے ماہرینِ کینسر کی رائے ایک ہی تھی۔
ہر ایک جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور تمھیں قیامت کے دن پورے پورے بدلے ملیں گے، پھر جو کوئی دوزخ سے دور رکھا گیا اور بہشت میں داخل کیا گیا سو وہ پورا کامیاب ہوا اور دنیا کی زندگی سوائے دھوکے کے سامان کے اور کچھ نہیں۔
طالب علمی کا سنہری دور 1981 سے 1986 تک لاہور میں امیر العظیم بھائی کی معیت بلکہ ان کی قیادت اور سرپرستی میں گزرا۔ یہ سنہری دور، کئی طرح کی آزمائشوں سے بھرپور ہونے کے باوجود، پاکستان بلکہ عالم اسلام کی تاریخ میں ایک انتہائی اہم باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دور میں طلبہ کی قیادت حافظ سلمان بٹ، اعجاز چوہدری، تنویر زبیری، محمود عالم، امیر العظیم اور طیب شاہین جیسے باکردار، سمجھدار، باصلاحیت اور انتہائی مضبوط اعصاب کے مالک نوجوانوں کے پاس تھی۔ دوسری جانب اپنا مخدوش مستقبل دیکھتے ہوئے، پاکستان کی مقتدرہ نے اپنا اقتدار بچانے کے لیے سازشوں اور پابندیوں کا سہارا لے کر، اسلامی جمہوریہ پاکستان بلکہ عالمِ اسلام کا مستقبل تاریک کر دیا۔ اسی لیے آج کی چاروں طرف پھیلی ہوئی تاریکیوں کے اسباب، مؤرخ انیس سو اَسی کی دہائی کے حالات و واقعات میں تلاش کرے گا تب ہی کسی معتبر نتیجے پر پہنچے گا۔
انتہائی مضبوط اعصاب کے مالک امیر العظیم بھائی کو جب اپنی مہلک بیماری کا پتہ چلا تو انہوں نے خندہ پیشانی سے رب العالمین کی رضا کو تسلیم کیا اور ہر قسم کے روایتی اور غیر روایتی علاج کروانے میں لگ گئے۔ اس طرح کی جان لیوا بیماری کے چند لمحات راقم بھی سہہ چکا ہے، اس لیے مجھے اندازہ ہے کہ ایسے وقت میں ایک بے بس انسان کی اندرونی کیفیت کیا ہو جاتی ہے۔ بہرحال امیر العظیم بھائی نے انتہائی ہمت و جرات سے یہ آخری سال گزارے اور انہوں نے حتی المقدور کوشش کی کہ کسی پر بوجھ نہ بنیں۔ ایک عوامی رہنما ہوتے ہوئے بھی بہت کم لوگوں کو ان کی اس تکلیف کا پتہ چل سکا، جبکہ انہوں نے تحریکی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی ادا کرتے ہوئے، شدید درد و تکلیف کے باوجود انتہائی مصروف دن گزارے۔
آج کی یہ اندوہناک خبر جیسے ہی ملی تو فوراً ڈاکٹر محمود عالم بھائی کو فون کیا۔ ہم دونوں اکثر امیر العظیم بھائی کی اس بیماری کے بارے میں تبادلہ خیال کرتے رہتے تھے، لہٰذا آج ہم دونوں مل کر خوب روئے۔ محمود بھائی ان کے گھر کے ایک فرد کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے یادوں کی ایک بارات تھی جو آج ان سے ایک مرتبہ پھر سننے کو ملی۔ یہ طالب علمی کے اسی سنہری دور کی باتیں تھیں جب محبتیں خالص ہوتی ہیں اور عملی زندگی کی دنیاوی آلودگیوں سے بالکل پاک ہوتی ہیں۔ کاش وہ پرانا دور واپس آ جائے، بقول اقبال ?
ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو
امیر العظیم بھائی بہت بہادر اور نڈر رہنما تھے۔ وہ نہایت فراخ دل اور اپنے ساتھیوں سے انتہائی محبت کرنے والے انسان تھے۔ وہ ہر ایک کی رائے سنتے تھے، مشاورت کے قائل بھی تھے اور اس کی روشنی میں اپنا موقف تبدیل بھی کر لیتے تھے۔ معاملہ فہمی اور پختہ سیاسی شعور رکھنے میں یکتا ہونے کے ساتھ ساتھ، سیاسی مخالفین بھی ان کے قول و عمل پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے تھے کیونکہ ان کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں تھا۔ اس بنا پر پاکستان کی سیاست کا ایک انتہائی سچا اور باکردار رہنما ہمیں آج چھوڑ کر جا چکا ہے اور شاید ہی کبھی یہ خلا پر ہو سکے۔
امیر العظیم بھائی ایک سچے عاشقِ رسول تھے۔ کچھ مواقع ایسے بھی دیکھنے کو ملے جب ذکرِ رسولِ مقبول پر ان کی بدلی ہوئی کیفیت بہت واضح نظر آتی تھی۔ قرآن و سنت کی باتیں وہ اتنے والہانہ انداز سے کرتے تھے کہ ہر خاص و عام اس سے متاثر ہوتا تھا۔ پاکستان کی عام معاشرت کے منفی انداز، ان کی مثبت سوچ پر کبھی حاوی نہیں ہوتے تھے اور انہیں خوشی اور غمی، دونوں کیفیات میں، صاحبِ ایمان و یقین ہی پایا گیا۔ بہادر شاہ ظفر نے شاید اسی لیے کہا ہوگا کہ،
ظفر آدمی اس کو نہ جانئے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا
امیر العظیم بھائی کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے احاطے کے لیے تو لوگ کتابیں تصنیف کریں گے۔ ان کے ساتھ گزرے ہوئے دنوں کی یادیں بھی بہت طویل ہیں اور فی الوقت یہ سب کچھ لکھنے کی ہمت نہیں ہو رہی، تاہم موقع ملا تو جلد کچھ مزید تحریر کیا جائے گا۔ اس وقت تو صرف اداسیوں نے گھیرا ہوا ہے۔
کسی شاعر نے بہت خوب کہا ہے کہ
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا












