سود و زیاں!!!

0
4

عربوں کے ہاں جو اونٹنی اپنی افادیت کھو دیتی اور کسی کام کی نہ رہتی، اسے پالنے کا خرچہ اس سے حاصل ہونے والے فائدے سے کہیں زیادہ ہو جاتا تو اسے ریوڑ سے الگ کر کے جنگل کی طرف چھوڑ آتے جہاں وہ کھلے میدانوں میں آوارہ پھرتی، جہاں سے چاہتی کھاتی پیتی اور جہاں چاہتی لیٹ جاتی۔ یہ اونٹنی اتنی بے وقعت ہو جاتی کہ اس کی فکر کرنا بھی بے معنی لگتا، بلکہ اس کی ملکیت کا دعویٰ کرنے والا بھی کوئی نہ ہوتا۔ یہ اونٹنی اپنے بھاری بھرکم جسم کے ساتھ زمین کے کچھ حصے پر جگہ تو گھیرتی، آکسیجن بھی استعمال کرتی، لیکن اپنے وجود کے مقصد میں کوئی حصہ ادا نہ کر پاتی، نہ دودھ دیتی، نہ بچے، نہ اس کی کھال استعمال ہوتی اور نہ گوشت۔ اس اونٹنی کو سْدَی کہا جاتا تھا۔
قرآن کریم کی سورت قیامہ کی آیت نمبر 36 میں پوچھا گیا ہے کہ کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی آزاد چھوڑ دیا جائے گا۔ قرآن کریم نے اس لفظ کو ایسے انسان کے لیے استعمال کیا ہے جو اپنی اصل ذمہ داری اور مقصد کو چھوڑ بیٹھا ہو، جس کی زندگی وحی کے نور سے خالی ہو، جس کے ذہن میں موت کی کوئی فکر نہ ہو اور جسے آخرت میں جوابدہی کا کوئی احساس نہ ہو۔ وہ انسان جو صرف کھاتا پیتا اور عیاشی کرتا ہو، جس کا سب سے بڑا مقصد گھر بنانا، دوسرے ملک شفٹ ہونا یا بے مقصد سوشل میڈیا استعمال کرنا ہو، اور اس سے زیادہ زندگی کا کوئی مقصد نہ ذہن میں ہو نہ عمل میں تو یہ شخص سْدی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے اپنی تخلیق کا مقصد چھوڑ دیا ہے، اور یہ ایسا جانور ہے جو زمین پر بوجھ ہے جس کے مرنے پر نہ زمین روتی ہے اور نہ آسمان۔ سورت دخان کی آیت نمبر 29 میں واضح کیا گیا ہے کہ پھر نہ ان پر آسمان رویا اور نہ زمین۔
جن مقاصد اور اہداف کو وہ انسان اپنی زندگی میں جی رہا ہوتا ہے اور اس کے بقول یہی زندگی کے حقیقی مقاصد ہیں، حقیقت میں یہ مقاصد معاشرے نے اس پر مسلط کیے ہوتے ہیں اور کامیابی و ناکامی کے یہ معیارات زمانے نے رائج کیے ہوتے ہیں۔ اگر وہ انسان قرآن پڑھ لے یا نبی اکرم ۖ کی سیرت کو دیکھ لے تو اسے شدت سے احساس ہوگا کہ وہ تو سْدی ہے۔ جب تک اس کا دل نورِ قرآن سے منور نہیں ہو جاتا، یہ مادی کامیابیاں اسے اصل مقصدِ زندگی تک پہنچنے ہی نہیں دیں گی۔ سورت قصص کی آیت نمبر 77 میں ہدایت دی گئی ہے کہ اللہ نے تمہیں جو کچھ دے رکھا ہے اس کے ذریعے آخرت والا گھر بنانے کی کوشش کرو اور دنیا میں سے بھی اپنے حصے کو نظر انداز نہ کرو۔ یہ قرآن ہی ہے جو انسان کو دنیا میں مصروف رکھ کر بھی آخرت کو نظروں سے پوشیدہ نہیں ہونے دیتا۔
انسانی تاریخ اور موجودہ دور کے رویوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اکثریت اسی غفلت کی شکار ہے۔ انسان مادی ترقی کی دوڑ میں اس حد تک اندھا ہو چکا ہے کہ وہ اپنے رب سے اپنا تعلق اور اپنے پیدا کیے جانے کی حکمت کو مکمل طور پر فراموش کر بیٹھتا ہے۔ دولت کا حصول، اعلیٰ عہدے، آرام دہ زندگی اور عارضی شہرت انسان کو اس غلط فہمی میں مبتلا کر دیتی ہے کہ یہی اصل کامیابی ہے۔ لیکن جب وقت کا پیمانہ لبریز ہوتا ہے اور زندگی کا چراغ بجھنے لگتا ہے، تب جا کر یہ حقیقت کھلی کتاب کی طرح سامنے آتی ہے کہ یہ تمام چیزیں محض ایک فریب تھیں۔ مادی آلات اور دنیاوی سہولیات انسان کو عارضی تسکین تو دے سکتی ہیں، لیکن روح کو درکار حقیقی اطمینان اور سکون صرف اپنے خالق کی بندگی اور انسانیت کی خدمت ہی سے حاصل ہو سکتا ہے۔
اس لیے جب تک سانس آ رہی ہے، انسان کے پاس یہ بہترین موقع ہے کہ وہ ٹھنڈے دل سے غور کرے کہ اسے سْدی بن کر بے مقصد زندگی گزارنی ہے یا اپنی مقصدیت اور نافعیت ثابت کرنی ہے۔ اگر کوئی با مقصد اور نافع انسان بننا چاہتا ہے تو اسے آج ہی سے قرآن کریم کے ساتھ جڑ جانا چاہیے، قرآن کو سمجھنا چاہیے، اس کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہیے اور اقامتِ دین کے لیے قرآن کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانا چاہیے۔ اپنے وقت، توانائیاں اور صلاحیتیں اللہ کی رضا کے لیے وقف کرنا ہی ایک مؤمن کا اصل شیوہ ہے۔ زندگی کا ہر لمحہ قیمتی ہے، اور اسے بے مقصد کاموں میں ضائع کرنے کے بجائے اخروی فلاح کے لیے استعمال کرنا عقل مندی کا تقاضا ہے۔ اس پیغام کو اپنے دل میں جگہ دے کر عملی قدم اٹھانا ہی کامیابی کا واحد راستے ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here