خود ساختہ آزاد انتخابات!!!

0
4
ماجد جرال
ماجد جرال

آزاد کشمیر کے انتخابات ایک بار پھر سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن گئے ہیں۔ حسبِ روایت پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی ایک دوسرے پر سخت تنقید کر رہی ہیں۔ الزامات کا تبادلہ جاری ہے اور ہر جماعت خود کو عوام کی حقیقی نمائندہ قرار دے رہی ہے۔ تاہم انتخابی مہم کے دوران ہونے والی یہ سخت لفظی جنگ اکثر انتخابات کے بعد مفاہمت اور سیاسی تعاون میں تبدیل ہو جاتی ہے، جسے عوامی سطح پر بعض لوگ نورا کشتی سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس تاثر نے عوام کے ایک بڑے حصے کا سیاسی عمل پر اعتماد شدید متاثر کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عوام کا انتخابی نظام سے فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔
آزاد کشمیر قدرتی حسن، خوبصورت وادیوں، دریاؤں اور سیاحتی مقامات کی وجہ سے ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے، لیکن اگر ترقیاتی اشاریوں پر نظر ڈالی جائے تو صورتحال بالکل بھی حوصلہ افزا نہیں ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار، بنیادی ڈھانچے اور صنعتی ترقی جیسے شعبوں میں آزاد کشمیر کو آج بھی متعدد سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ بہت سے علاقوں میں سڑکوں کی حالت انتہائی خراب ہے اور جدید طبی سہولیات محدود ہیں، جبکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بالکل ناکافی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں یہاں کے نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں پاکستان کے دیگر شہروں یا بیرونِ ملک نقل مکانی کو ترجیح دیتے ہیں۔
یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ آزاد کشمیر کی ترقی کا معیار پاکستان کے کئی پسماندہ علاقوں سے زیادہ مختلف دکھائی نہیں دیتا۔ اگرچہ مختلف دورِ حکومت میں ترقیاتی منصوبوں کے بڑے بڑے دعوے کیے گئے، لیکن ان کے نتائج عوام کی توقعات کے مطابق سامنے نہیں آ سکے۔ اربوں روپے کے منصوبوں کے اعلانات تو ضرور ہوتے ہیں، مگر ان کی بروقت تکمیل، شفافیت اور دیرپا اثرات پر ہمیشہ سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔
انتخابی جلسوں میں عوام سے بڑے بڑے وعدے کیے جاتے ہیں اور کبھی روزگار، کبھی سیاحت، کبھی صحت تو کبھی تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات کی یقین دہانیاں کرائی جاتی ہیں، لیکن انتخابات کے بعد اکثر یہی وعدے پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ نتیجتاً عوام کے مسائل جوں کے توں رہتے ہیں اور ہر پانچ سال بعد وہی پرانا سیاسی بیانیہ دوبارہ سننے کو ملتا ہے۔ اس صورتحال میں عوام خود کو مسلسل بے بس اور ٹھگا ہوا محسوس کرتے ہیں۔
دوسری جانب یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ آزاد کشمیر کی سیاست پر پاکستان کی قومی سیاست کے اثرات ہمیشہ نمایاں رہتے ہیں۔ اکثر اوقات مقامی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے وفاقی سیاسی کشمکش ہی انتخابی مہم کا اصل محور بن جاتی ہے، جس سے مقامی ترقی، بلدیاتی نظام، تعلیم، صحت اور معاشی منصوبہ بندی جیسے بنیادی مسائل پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات تراشی کرنے کے بجائے اپنی ماضی کی کارکردگی اور مستقبل کے قابلِ عمل منصوبے عوام کے سامنے رکھیں۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ صرف جذباتی نعروں یا شخصیات کے سحر میں آنے کے بجائے امیدواروں کی اہلیت، دیانت داری اور عملی کارکردگی کو اپنے ووٹ کا معیار بنائیں۔ مضبوط جمہوریت اسی وقت فروغ پا سکتی ہے جب ووٹر باشعور فیصلے کریں اور منتخب نمائندے اپنی قومی و اخلاقی ذمہ داریوں کا صحیح معنوں میں احساس کریں۔
آزاد کشمیر کے عوام اب ایک ایسی مخلص قیادت کے منتظر ہیں جو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر خطے کی حقیقی ترقی، نوجوانوں کے لیے روزگار، معیاری تعلیم، جدید صحت کی سہولیات اور بہتر بنیادی ڈھانچے کو اپنی اولین ترجیح بنائے۔ اگر انتخابی سیاست کا محور صرف اقتدار کے حصول کے بجائے حقیقی عوامی خدمت بن جائے تو آزاد کشمیر نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ترقی اور خوشحالی کی ایک کامیاب مثال بن سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ قیادت اپنے ان انتخابی نعروں کو کس حد تک حقیقت کا رنگ دیتی ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here