امیگریشن کے سخت قوانین: نئی معاشی و معاشرتی پابندیوں کا خطرہ

0
3

امیگریشن کے سخت قوانین: نئی معاشی و معاشرتی پابندیوں کا خطرہ

عالمی معیشت کے متلاشی افراد کے لیے مغرب بالخصوص برطانیہ ہمیشہ سے ایک خوابیدہ منزل رہا ہے جہاں ترقی، روزگار اور روشن مستقبل کی امیدیں وابستہ کی جاتی رہی ہیں۔ تاہم حالیہ عرصے میں برطانوی حکومت کی جانب سے سامنے آنے والے فیصلوں نے اس تاثر کو گہرے تحفظات اور خدشات میں بدل دیا ہے۔ غیر ملکی محنت کشوں اور ہنر مندوں کے لیے نقل مکانی کی پالیسیوں کو جس انداز میں سخت سے سخت تر بنایا جا رہا ہے، وہ بین الاقوامی سطح پر تشویش کا باعث ہے۔ برطانیہ کی وزارت داخلہ نے غیر ملکی افراد کی آمد کو محدود کرنے اور مقامی آبادی کو ترجیح دینے کا جو لائحہ عمل مرتب کیا ہے، وہ دراصل ایک تحفظ پسند معاشی سوچ کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد کل امیگریشن میں نمایاں کمی لانا اور ملکی قوانین پر عمل درآمد کو ہر صورت یقینی بنانا پیش کیا جا رہا ہے تاکہ مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع میسر آ سکیں۔
حکومتی منصوبوں کے تحت اقدامات کا آغاز 3 اگست سے ہو رہا ہے جس کے بعد 2027 میں مزید کڑے ضوابط نافذ العمل ہوں گے۔ جن امور نے سب سے زیادہ اضطراب اور تشویش پیدا کی ہے ان میں زبان کی اہلیت کا معیار بڑھانا اور مستقل رہائش کے حصول کی مدت کو دوگنا کرنا شامل ہے۔ اب تک ہنر مند افراد اور اعلی صلاحیت رکھنے والوں کے لیے جو لسانی اہلیت درکار تھی اسے مزید دشوار بنایا جا رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ درخواست دہندگان کو اب پہلے کے مقابلے میں زبان پر باضابطہ اور مکمل مہارت ثابت کرنا ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ تمام افراد جو پانچ برس کی محنت اور قانونی پابندیوں کی پاسداری کے بعد وہاں کی مستقل سکونت یا رہائش کے اہل ہو جاتے تھے، اب ان کے لیے اس سفر کو دس سال تک طویل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ کسی بھی فرد کے لیے ایک دہائی تک عارضی بنیادوں پر کسی دوسرے ملک میں رہنا اور مسلسل بدلتی پالیسیوں کے خوف تلے جینا انتہائی نفاست پسند اور کٹھن امتحان ہے۔ اس طویل عرصے کے دوران نہ صرف مالیاتی بے یقینی برقرار رہتی ہے بلکہ خاندانی استحکام بھی شدید متاثر ہوتا ہے۔
صرف افراد ہی نہیں بلکہ ان تمام اداروں اور کمپنیوں کی نگرانی کا طریقہ کار بھی یکسر بدلا جا رہا ہے جو غیر ملکیوں کی ضمانت لیتے ہیں۔ ضامن اداروں کے لیے ضوابط سخت کیے جا رہے ہیں اور جدید طرزِ عمل یعنی فاصلاتی یا مخلوط کام کے نظام پر کڑی نظر رکھی جائے گی تاکہ کوئی ادارہ ان قوانین کا غلط استعمال نہ کر سکے۔ معاوضوں کی بروقت اور مقررہ سطح پر ادائیگی کا بھی گہرا جائزہ لیا جائے گا تاکہ کسی بھی خلاف ورزی کا بروقت سراغ لگایا جا سکے۔ ظاہری طور پر یہ کنٹرول اور شفافیت کا ایک منظم نظام محسوس ہوتا ہے مگر درحقیقت اس سے غیر ملکی افراد کو ملازمت دینے والے اداروں پر انتظامی اور قانونی بوجھ بڑھے گا، جس کی وجہ سے وہ بالآخر مقامی افراد ہی کو ترجیح دینے پر مجبور ہوں گے اور غیر ملکیوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
امیگریشن سے متعلق مشاورتی کمیٹی کی جانب سے جو نئی سفارشات پیش کی گئی ہیں وہ مزید تشویش ناک اور کڑی ہیں۔ درمیانی مہارت والی ملازمتوں کی فہرست کو باون شعبوں سے گھٹا کر صرف اٹھائیس تک لانے کی بات کی گئی ہے۔ اگرچہ انجینئرنگ، برقیاتی ڈھانچہ، اعداد و شمار کا تجزیہ، پیداواری صنعت اور تعمیرات جیسے شعبے اب بھی محفوظ فہرست میں شامل ہیں، لیکن کاروباری انتظام، فروخت، انسانی وسائل، قانونی خدمات، اشتہار بازی، بازاریابی اور تخلیقی شعبوں کے دروازے غیر ملکی محنت کشوں پر تقریباً بند کر دیے جائیں گے۔ اس کا سیدھا اثر دنیا بھر سے آنے والے ان باصلاحیت نوجوانوں اور پیشہ ور افراد پر پڑے گا جو ان شعبوں میں اعلی تعلیم اور تجربہ حاصل کر کے برطانوی بازار اور معیشت میں اپنا مثبت حصہ ڈالنے کا عزم رکھتے تھے۔
مجوزہ عارضی مختصر فہرست یکم جنوری 2027 سے اٹھارہ ماہ کے لیے ابتدائی طور پر نافذ کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ اس عرصے میں برطانوی کمپنیاں مقامی افراد کی بھرتی اور تربیت پر زیادہ سے زیادہ توجہ مرکوز کر سکیں۔ اگرچہ فی الحال برطانوی حکومت نے ان تمام سفارشات کی حتمی منظوری نہیں دی ہے، مگر پالیسی کا عمومی رخ واضح طور پر اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ آنے والے ایام میں برطانیہ غیر ملکی افرادی قوت پر اپنا انحصار کم سے کم کرنا چاہتا ہے۔ یہ بحران صرف ان لوگوں کے لیے نہیں جو وہاں جانے کے خواہش مند ہیں بلکہ خود برطانوی معیشت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ توازن کے بغیر نافذ کی جانے والی سختیاں معاشی سستی، پیداواری صلاحیت میں کمی اور مہارتوں کے سنگین فقدان کا سبب بن سکتی ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو دنیا بھر کے تارکین وطن پر اس قسم کے کڑے قوانین کا نفاذ ان کی مسلسل محنت اور قربانیوں کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ جب کوئی ملک اپنی سرحدیں غیر ملکی ہنر مندوں کے لیے تنگ کرتا ہے تو اس کے اثرات عالمی معاشی روانی اور انسانی وسائل کی نقل وحرکت پر گہرے پڑتے ہیں۔ آنے والے سالوں میں برطانوی حکام کے یہ اقدامات کیا رنگ لاتے ہیں اور معاشی توازن کس حد تک قائم رہتا ہے، یہ تو وقت ہی بتائے گا، مگر فی الوقت غیر ملکی تارکین وطن اور نئی نسل کے لیے اس ملک میں مستقل سکونت کا خواب ایک ناگزیر اور طویل ترین جدوجہد کا روپ دھار چکا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here