پچھلے مہینے نیویارک میں پاکستان کے ہر طبقے نے اپنے اپنے پروگرام منعقد کر کے جگہ جگہ محفلیں جمائیں۔ سب سے بڑا اجتماع بروکلن کے لوتھر پارک میں ہوا جس نے اس علاقے کو پاکستان کا منظرنامہ بنا دیا جسے لوگ 54 سال پہلے چھوڑ آئے تھے۔ پاکستانیوں نے نیویارک کو پاکستان بنانے کا عزم کر رکھا ہے بلکہ تمام مقامی افراد بکس ول تک کے گھر بیچ کر سفوک کے آخری کونے تک جا چکے ہیں۔ سمندر کے آخری ساحل پر کسی منچلے نے ایک ٹرالے پر گاڑی کی ساخت میں تحریر لکھ رکھی ہے کہ اے گورے آگے کہاں جا رہے ہو۔ ہوائی جہاز کے سفر کے دوران مختلف ممالک کے لوگ ملتے ہیں جن میں بالخصوص بنگالی اپنے چھوٹے بچوں کو ساتھ لے جا کر بھول جاتے ہیں اور ہنگامہ مچاتے ہیں، جبکہ حجاب پوش خواتین آپس میں باتوں میں مصروف ہو جاتی ہیں۔
اس ہفتے نیوجرسی میں افسانوں کے مجموعے کاہ کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی۔ اس عمر میں ایسی کوئی خواہش باقی نہ تھی اور برسوں سے ایک لفافے میں افسانے بند پڑے تھے لیکن ڈاکٹر عامر بیگ نیوجرسی آئے اور جاتے وقت وہ لفافہ ساتھ لے گئے۔ اگرچہ انہیں بتایا گیا تھا کہ یہ کوئی خاص افسانے نہیں ہیں، مگر انہوں نے دوسرے ہی مہینے اسے کتابی شکل دے کر پاکستان سے شائع کروا لیا اور تحفتاً پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صاحبِ کتاب ہونا ضروری ہے۔ اس کے بعد حلقہ اربابِ ذوق کے تحت تقریبِ رونمائی کا مرحلہ آیا، جہاں متحرک ادباء اور فنکاروں کو مدعو کرنا ایک مشکل مرحلہ تھا۔ بگھٹن نیویارک سے عتیق صدیقی، برونکس سے طاہر خان، نیوجرسی سے فرخ کامران اور جمیل عثمان کے علاوہ دیگر ریاستوں سے بھی ممتاز شعراء و ادباء نے شرکت کی۔ تقریب میں اس امر کا بھی اعلان کیا گیا کہ یہ نشست جشنِ صحت کے طور پر منعقد کی جا رہی ہے۔ نوجوان عامر بیگ کا یہ خراجِ عقیدت انتہائی قابلِ قدر تھا جبکہ طاہر خان کی نظامت بھی قابلِ تحسین رہی جو حلقہ اربابِ ذوق کے علاوہ کسی اور ادبی پروگرام کی صدارت کم ہی کرتے ہیں اور فی الوقت متعدد ادبی، سیاسی اور ثقافتی تنظیموں کے ناظمِ اعلیٰ ہیں۔
دوسرے دن انوارِ کوہان اور فکرِ وطن کے زیرِ اہتمام طاہر خان کے ساتھ ایک ادبی شام کا اہتمام کیا گیا جہاں عتیق صدیقی، رفیع الدین راز اور ہندوستان سے آئے ہوئے مشہور شاعر ڈاکٹر ششی کانت نے شرکت کر کے محفل کو رونق بخشی۔ نیویارک میں فکرِ وطن کے تحت ایسی بہترین ادبی محفلوں کا باقاعدگی سے انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں جمیل عثمان، اولیس راجے اور امجد بھٹی کی خدمات بھی قابلِ تحسین ہیں۔ تقریب کے آغاز میں خصوصی مہمانوں کو اسٹیج پر مدعو کرنے کے بعد طاہر خان کو دعوتِ سخن دی گئی جن کے خطاب کا تمام حاضرین بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔ ان کی گفتگو کے دوران مکمل خاموشی کا عالم رہا اور یوں محسوس ہوا جیسے ایک عرصے سے جمود کا شکار ذہن بیدار ہو رہے ہوں۔ انہوں نے ادبی، فلسفیانہ اور شاعرانہ شخصیات، بادشاہوں کے واقعات اور شعرائ کی مدح سرائی کو اتنے دلنشین انداز میں پیش کیا کہ تمام حاضرین مہموف ہو گئے۔ انہوں نے کسان، زمین میں بیج اور کفر کے استعاروں سے ادب کی گہرائی، امن اور فرنگ کی حقیقی پہچان کو واضح کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امن کی اصل پہچان یہ ہے کہ جوان کاندھوں پر بزرگ آخری سفر پر جائیں، جبکہ بے فرہنگی یہ ہے کہ کمزور اور ناتوان بوڑھے کاندھوں پر جوانوں کو نہ سنبھالا جا سکے۔ طاہر خان کی علمی و ادبی خدمات اس بات کی متقاضی ہیں کہ ان پر تحقیقی مقالہ تحریر کیا جائے۔ لوگ انہیں رحم ٹی وی پر ہر ہفتے سیاسی اور مقامی تازہ ترین واقعات پر تجزیاتی گفتگو کرتے ہوئے باقاعدگی سے سنتے ہیں۔ تقریب میں جمیل عثمان نے طاہر خان کا نہایت جامع اور خوبصورت تعارف پیش کیا۔ اس کے بعد مشاعرے کا اہتمام کیا گیا جس میں وکیل انصاری، راجے اولیس، جمیل عثمان، رفیع الدین راز اور ڈاکٹر ششی کانت نے اپنا کلام پیش کیا۔
یہ وہ فن ہے جسے آنے میں بہت دیر لگی
بات کو بات بنانے میں بہت دیر لگی
رت جگے کہتے ہیں آنکھوں میں سے ہو کر گزرے
اس نئی صبح کو لانے میں بہت دیر لگی
اس کے بعد رفیع الدین راز نے اپنے کلام سے محفل کو گرمایا۔
خاموش رہتا ہوں اہل سْخن کی محفل میں
زبان کا لطف اٹھاتا ہوں بے زبانی سے
اس کی تلاش تک مجھے اپنی طلب تو تھی
وہ مل گیا تو اپنی ضرورت نہیں رہی
ڈاکٹر سلمیٰ کی شاعری نے بھی سامعین سے بے حد داد سمیٹی۔ یہ خوبصورت محفلِ ادب و شاعری طعام کے ساتھ اور بغیر کسی ٹکٹ کے منعقد کی گئی تھی جس کا مقصد علم و ادب سے وابستہ افراد کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا اور لوگوں کو انٹرنیٹ و موبائل کی دنیا سے نکال کر حقیقی ادبی ماحول فراہم کرنا تھا۔ موجودہ دور میں جہاں شرافت، رواداری اور ادب میں کمی آئی ہے اور خرافات بڑھ گئی ہیں، وہاں ایسی محفلیں انتہائی اہم ہیں۔ امریکہ میں رہتے ہوئے ہم اسے محض امریکی روایات کے بجائے اپنے ادبی و ثقافتی پروگراموں کے ذریعے مثبت رخ دینا چاہتے ہیں۔ اس عمل میں پاکستان سے نئے آنے والے اور معمر افراد بھی شامل ہیں۔ نیویارک، ٹیکساس اور ورجینیا میں میلے، پریڈز، مساجد اور مذہبی پروگراموں میں لوگوں کا بڑا ہجوم دیکھنے کو ملتا ہے۔ 25 جولائی کو توقیر الحق نے جلسہ عید میلاد النبی، ختمِ نبوت اور شہدائے کانفرنس کا زبردست اہتمام کیا تھا جس میں علما اور فارغ التحصیل حضرات کی بڑی تعداد موجود تھی۔ انہوں نے پروگرام کے لیے ایک بہترین مقام کا انتخاب کیا تھا جہاں گیلانی صاحب بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ آصف علی زرداری کے لیے بھی ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا، کیونکہ ہر شخصیت کے اپنے حامی اور مخالفین موجود ہوتے ہیں۔ پاکستان کو عظیم بنانے کے حوالے سے ان کی سیاسی حکمتِ عملی کا موازنہ ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ دونوں صدور نے اپنے اپنے انداز سے فیصلے کیے ہیں، تاہم زرداری طویل عرصے سے سیاست میں فعال ہیں اور ایم کیو ایم کی طرز پر اپنے فعال کارکنان کا جال پھیلا رکھا ہے۔











