گزشتہ روز جماعت اسلامی پاکستان کے سابق سیکرٹری جنرل اور سابق ناظم اعلی اسلامی جمعیت طلبہ امیر العظیم اللہ کے حضور پیش ہو گئے۔ انہوں نے زمانہ طالب علمی میں بہت شہرت پائی۔ وہ انتہائی ملنسار اور خاکسار شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے صدر ضیائ الحق کے دور میں بہت شہرت حاصل کی اور مارشللائ کے دور میں طلبہ کے حقوق کے لیے طویل عرصہ جیل کی صعوبتیں برداشت کیں۔ اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، ان کی قربانیوں کو قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام نصیب فرمائے، آمین۔ ان کی وفات پر سیاسی و مذہبی حلقوں کی طرف سے لواحقین اور جماعت اسلامی کی قیادت سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ مرحوم طویل عرصے سے کینسر کے موذی مرض میں مبتلا تھے۔
قارئین! جماعت اسلامی کا نام آپ نے یقیناً سنا ہوگا، لیکن جب بھی یہ نام سنا ہوگا شاید یہ سوچ کر آگے بڑھ گئے ہوں گے کہ ایسی مذہبی اور سیاسی جماعتیں تو بہت سی ہیں، اس لیے کیا ضروری ہے کہ میں اس میں شامل ہونے اور کچھ کرنے کا سوچوں؟ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ کو جماعت اسلامی کا ساتھ کیوں دینا چاہیے؟ آئیے بات یہاں سے شروع کرتے ہیں کہ زندگی انسان کے لیے اللہ تعالی کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اگر زندگی موجود ہے تو انسان دنیا کی ہر نعمت سے لطف اندوز ہو سکتا ہے اور آخرت کی لازوال نعمتیں بھی کما سکتا ہے۔ اگر زندگی ہی اصل نعمت ہے تو پھر زندہ رہنا ایک خوشگوار تجربہ اور لذت بخش عمل ہونا چاہیے۔ لیکن اگر آپ غور کریں تو آپ کا دل پکار اٹھے گا کہ آج زندگی پریشانیوں کے بوجھ تلے پس رہی ہے اور زندہ رہنا ایک تلخ تجربہ اور تکلیف دہ کام بن چکا ہے۔ روزی روٹی اور پیٹ بھرنے کی فکر میں صبح سے شام ہو جاتی ہے اور جن کے پاس سب کچھ ہے وہ مزید حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں۔ پھر بھی تمام عمر اسی فکر میں گزر جاتی ہے کہ دن دوگنی رات چوگنی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور قیمتوں کے ساتھ اخراجات پورے نہیں ہوتے، رہنے کے لیے صاف ستھرا مکان میسر نہیں، بچوں کو تعلیم کے لیے داخلے نہیں ملتے اور اگر مل بھی جائیں تو وہ روزگار کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں، جبکہ علاج کے لیے کمر توڑ اخراجات اور ہسپتالوں کے چکر عام عوام کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں۔
اگر وطن عزیز کی صورتحال کو دیکھا جائے تو ہر طرف ظلم اور فساد کا راج نظر آتا ہے۔ اللہ تعالی نے تمام انسانوں کو برابر بنایا ہے، لیکن چند بااثر لوگوں نے اپنے حق سے زیادہ دولت، زمین اور طاقت پر قبضہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے عام انسانوں پر غربت و جہالت مسلط کر کے اپنے ہم وطنوں کو کمزور بنا دیا ہے اور ان کے حقوق غصب کر لیے ہیں۔ حکمران طبقے نے عوام کو زندگی کی معمولی خوشیوں سے بھی محروم کر رکھا ہے۔ ملک میں بددیانتی اور لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے اور جائز سے جائز کام بھی سفارش اور رشوت کے بغیر ممکن نہیں رہا۔ پولیس کے ہاتھوں شہریوں کی عزت محفوظ نہیں، جیبیں خالی کرنے کے بعد بھی عدالتوں سے انصاف نصیب نہیں ہوتا، تعلیم کا معیار پست ہو چکا ہے اور اخلاقیات تنزلی کا شکار ہیں۔ گھر کے اندر ہو یا باہر، دل و نگاہ کو پاک رکھنا محال ہو چکا ہے۔ افواج دشمن کو فتح کرنے کے بجائے اپنی ہی قوم کو کبھی مارشل لاء اور کبھی منی مارشل لاء کے ذریعے بار بار فتح کرنے میں مصروف ہیں، جبکہ سرکاری افسران عوام کے خادم بننے کے بجائے ان کے آقا بن بیٹھے ہیں۔
اگر امت مسلمہ کے حال پر نظر ڈالی جائے تو دنیا کا ہر پانچواں شخص مسلمان ہونے کے باوجود عالمی سطح پر مسلمانوں کا کوئی وزن ہے نہ عزت۔ دنیا کی غالب اقوام دونوں ہاتھوں سے مسلمانوں کو لوٹنے اور دبانے میں لگی ہوئی ہیں، جبکہ مسلمان بے بس تماشائی بنے ہوئے ہیں یا خوشی خوشی ان کے جال میں پھنس رہے ہیں۔ اکثر لوگ یہ سوچتے ہوں گے کہ مسائل کا یہ جنگل کیسے صاف ہو سکتا ہے اور زندگی اطمینان کا گہوارہ کس طرح بن سکتی ہے؟ جماعت اسلامی کا پیغام اور پروگرام اسی بنیادی سوال کا جواب فراہم کرتا ہے۔
اگر مسلمان آج دنیا میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں اور ان کے مصائب حد سے بڑھ چکے ہیں تو اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ انہوں نے وہ مقصد اور مشن فراموش کر دیا ہے جس کے لیے اس امت کو تشکیل دیا گیا تھا۔ آج مسلمان اللہ اور اس کے رسول? سے بے وفائی کر رہے ہیں، انہوں نے اس فانی دنیا کو ہی اپنا محبوب و مطلوب بنا لیا ہے اور خدا کے دین کے لیے اپنے وقت اور مال کا کوئی حصہ صرف کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مسلمان قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں اور رسول اکرم کی محبت کا دم بھرتے ہیں، لیکن ان کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بالکل نہیں ہچکچاتے۔ جماعت اسلامی ہر مسلمان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ خدا کو اپنا رب اور حضرت محمدکو اپنا رسول ماننے کے بعد انسان کے لیے یہ جائز نہیں رہتا کہ وہ زندگی کے کسی بھی شعبے میں ان کے احکام کے خلاف چلے، بلکہ ہر مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی میں اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے جان و مال سے جدوجہد کرے۔ یہ عظیم کام اس وقت تک ممکن نہیں ہو سکتا جب تک تمام مسلمان متحد ہو کر ایک منظم جماعت نہ بن جائیں۔
اسی دینی اور اصلاحی فریضے کو ادا کرنے کے لیے جماعت اسلامی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ یہ محض ایک عام سیاسی جماعت نہیں ہے جس کی سرگرمیاں صرف انتخابات تک محدود ہوں اور نہ ہی یہ صرف ایک ایسی مذہبی جماعت ہے جس کی دلچسپیاں صرف اعتقادی، فقہی یا روحانی مسائل تک مخصوص ہوں، بلکہ اس کی تمام تر جدوجہد کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان اللہ کا مطیع و فرمانبردار بن جائے اور اس کی رضا اور قربت حاصل کرے۔ یہ رضا اور قربت ایک ایسے ہمہ گیر انقلاب کی جدوجہد سے ہی حاصل ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں انسانوں کے دلوں پر بھی اللہ کی حکومت قائم ہو جائے اور ان کی پوری انفرادی و اجتما عی زندگی پر بھی، خواہ وہ پرائیویٹ ہو یا پبلک۔ یہ اعلان کہ زمین اور اس میں موجود تمام اشیاء اللہ تعالی کی ملکیت ہیں، اسی ہمہ گیر دعوت کا مظہر ہے۔
جماعت اسلامی کا پروگرام یہ ہے کہ وہ اپنے مقصد سے غافل لوگوں کو بیدار کرے، جو لوگ اس دعوت میں ساتھ دیں ان کی تربیت کر کے انہیں ایک منظم قوت بنائے، معاشرے میں صحیح اسلامی فکر، پاکیزہ سیرت اور سچے مسلمان کی سی عملی زندگی پیدا کرنے کی کوشش کرے اور عوام کی طاقت سے زندگی کے ہر شعبے، بالخصوص حکومت میں، نافرمان عناصر کے ہاتھوں سے قیادت چھین کر اسے اللہ کے مطیع اور فرمانبردار بندوں کے حوالے کرے۔ جماعت اسلامی اپنی تمام تر صلاحیتیں اور قوت پاکستان کو ایک ایسی فلاحی و اسلامی ریاست بنانے میں لگا رہی ہے جو خلافت راشدہ کا بہترین نمونہ ہو، جو ہر شہری کو اس کی بنیادی ضروریات مثلاً روٹی، کپڑا، مکان، علاج، تعلیم اور انصاف کی ضمانت دے، وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے، جہاں تمام بنیادی انسانی حقوق محفوظ ہوں اور جہاں عوام آزادانہ انتخابات کے ذریعے اپنی مرضی سے جسے اقتدار میں لانا چاہیں لا سکیں اور جسے ہٹانا چاہیں ہٹا سکیں۔
اگر جماعت اسلامی کا پیغام اور پروگرام آپ کو برحق اور درست لگتا ہے تو یہ دعوت دی جاتی ہے کہ آپ اس جدوجہد میں شامل ہوں اور جماعت اسلامی کی باقاعدہ رکنیت حاصل کریں۔ جماعت اسلامی چند مخصوص افراد کا گروہ نہیں بلکہ عوام الناس کی جماعت ہے، یعنی ان عام لوگوں کی جماعت جو ظلم اور ناانصافی پر کڑھتے ہیں اور اسے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ظلم کا یہ شکنجہ گھر بیٹھ کر کڑھنے یا صرف شفاہی باتوں سے نہیں ٹوٹ سکتا، بلکہ یہ شکنجہ تبھی ٹوٹے گا جب تمام لوگ خود عملی جدوجہد میں شامل ہوں گے۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد اس مملکت خداداد میں اللہ کے دین کا احیائ ہے۔ یہ جماعت کسی قسم کی توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ، مذہبی منافرت، نسلی تعصب، شخصیت پرستی یا مسلکی فرقہ پرستی پر یقین نہیں رکھتی، بلکہ اس کا مقصد صرف اور صرف اس ملک میں دین الہی کا نفاذ ہے۔ لہذا عوام کو خود اٹھ کر اپنے وقت اور مال کا ایک معقول حصہ اللہ کے کام میں لگانا ہو گا۔ جب تمام لوگ ایک ساتھ جدوجہد کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے تو وہ دن دور نہیں جب ظلم اور ناانصافی کے اندھیرے چھٹ جائیں گے، عدل کا سورج طلوع ہو گا اور ملک میں صرف اللہ کا حکم اور قانون نافذ ہو گا۔
آج انسان کا ضمیر، اس کا ملک، اس کی ملت اور دکھی انسانیت سب اسے پکار رہے ہیں، جبکہ دنیا میں عزت و سربلندی اور آخرت میں جنت کی نعمتیں اس کی منتظر ہیں۔ اس وقت ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کا کردار منافقانہ ہے اور ان جماعتوں پر چند مخصوص خاندان قابض ہیں جو بار بار قوم پر مسلط ہو جاتے ہیں۔ ان سے نجات حاصل کرنا تمام شہریوں کا فرض ہے کیونکہ یہ ملک لاکھوں قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آیا تھا اور اس کی بنیادوں میں آبا و اجداد کا خون شامل ہے، لہذا اس کی حفاظت کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔
مقتدر حلقوں کی سرپرستی میں پلنے والی سیاسی جماعتیں شام کے اس اخبار کی مانند ہیں جو رات کو ردی کے بھاؤ بکتا ہے اور دن میں مہنگے داموں ملتا ہے، کیونکہ ان کی قیمت وقت کی ہوا کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ کبھی کوئی جماعت غیر ملکی فورسز کا سہارا لینے کی بات کرتی ہے تو کوئی بیرون ملک سے فنڈنگ اور تربیت حاصل کرتی رہی ہے، کوئی دشمن ممالک کی قیادت سے پینگیں بڑھاتی ہے تو کوئی پاکستان کو بیرون ملک رسوا کرنے میں مصروف ہے۔ کچھ عناصر اقتدار حاصل کرنے کے لیے غیر ملکی ایوانوں میں پاکستان کے خلاف لابنگ کرتے ہیں اور غیر ملکی میڈیا پر وطن عزیز کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جماعت اسلامی نظری? پاکستان کی حقیقی محافظ اور ملک میں قرآن و سنت کے نظام کی داعی ہے۔ یہ ملک کی واحد جماعت ہے جس کے اندر حقیقی جمہوریت موجود ہے۔
جماعت اسلامی ایک ایسی کتاب کی مانند ہے جس کے صفحات کردار اور افکار سے مزین ہیں، امانت و دیانت اس کا دیباچہ ہے، جبکہ اخلاقیات اور خدمت خلق اس کا مقدمہ ہیں۔ جماعت اسلامی پاکستان کی واحد جماعت ہے جو مسلکی فرقہ بندی پر یقین نہیں رکھتی، اس کے ارکان اور کارکنان ہر مسلک سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں ہر مسجد میں عبادت کی مکمل آزادی حاصل ہے اور دستور جماعت میں مسلکی تفرقہ بازی کی کوئی گنجائش نہیں۔ پاکستان میں اخلاق و کردار کے لحاظ سے جماعت اسلامی کا مقابلہ کرنے والی کوئی دوسری جماعت موجود نہیں ہے۔ جماعت اسلامی کے جلسے اور جلوسوں میں کبھی ایک پتا بھی نہیں ٹوٹتا اور نہ ہی قومی یا نجی املاک کو کوئی نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ یہ واحد جماعت ہے جو اسلامی نظریے کی حقیقی داعی اور نظری? پاکستان کی مضبوط پشتیبان ہے۔
قوم نے تمام سیاسی جماعتوں کو باری باری آزما کر دیکھ لیا ہے، صرف جماعت اسلامی ہی وہ واحد جماعت ہے جو مسلسل عوامی حقوق کی بات کرتی ہے۔ جماعت اسلامی نے پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کے خلاف پورے پاکستان میں ایک بڑے احتجاج کی کال دی ہے۔ اپنے حقوق اور ملک کی سلامتی کے لیے عوامی مسائل پر جماعت اسلامی کے ساتھ کھڑا ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ قوم کو اپنے بہتر مستقبل کے لیے ایک بار جماعت اسلامی کو ضرور آزما کر دیکھنا چاہیے، جماعت اسلامی عوام کو کبھی مایوس نہیں کرے گی اور یہی وجہ ہے کہ آج جماعت اسلامی ہی اس قوم کی حقیقی ضرورت ہے۔












