نیویارک (پاکستان نیوز)جب سے ایران کی جنگ شروع ہوئی ہے یہ سوال اہم ہے کہ برسوں سے لگی عالمی پابندیوں کے باوجود ایران اس جنگ کے لیے سرمایہ کہاں سے لا رہا ہے۔ امریکہ نے ایران پر سخت پابندیاں لگائیں، اسے بین الاقوامی بینکاری نظام سے باہر نکالا اور ڈالر میں لین دین بند کر دیا تاکہ ایرانی معیشت مفلوج ہو جائے لیکن ایران نے ایک ایسا منصوبہ بنایا جس کا مغربی طاقتوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ ایران نے خاموشی سے وہ پرانے بحری جہاز خریدنا شروع کیے جو ناکارہ ہو کر کباڑ میں جانے والے تھے اور ان پرانے جہازوں کی مدد سے ایک خفیہ بیڑا تیار کر لیا۔ ان جہازوں سے مغربی انشورنس ختم کر دی گئی اور ان کا مقام بتانے والا نظام بھی بند کر دیا جاتا تھا تاکہ کسی کو ان کی موجودگی کا علم نہ ہو سکے۔ رات کی تاریکی میں یہ جہاز عمان کی خلیج میں سفر کرتے اور سمندر کے بیچوں بیچ ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں تیل منتقل کرتے تھے تاکہ یہ معلوم نہ ہو سکے کہ یہ تیل کہاں سے آ رہا ہے۔ یہ تیل بعد میں چین کو فراہم کیا جاتا تھا مگر اس کی ادائیگی ڈالر میں نہیں ہوتی تھی بلکہ ایران چین کو تیل بیچتا اور بدلے میں چین ایران کے اندر سڑکیں، پل اور بندرگاہیں تعمیر کرتا رہا۔ اس طرح ایران کو ادائیگی تعمیرات کی صورت میں ملتی رہی جبکہ باقی رقم کرپٹو کرنسی اور متحدہ عرب امارات کے ذریعے حوالہ سے منتقل کی گئی۔ ان پیسوں سے ایران نے نہ صرف اپنی معیشت بچائی بلکہ میزائل اور ڈرون تیار کیے اور مختلف تنظیموں کی مالی معاونت بھی کی۔ اربوں ڈالر کی پابندیاں صرف کاغذوں تک محدود رہ گئیں اور ایران نے پرانے جہازوں کے ذریعے مغربی بینکاری نظام کو پیچھے چھوڑ دیا۔ مغربی طاقتیں سب کچھ جانتے ہوئے بھی کچھ نہ کر سکیں کیونکہ سمندر میں تیل کی یہ منتقلی بین الاقوامی پانیوں میں ہوتی تھی جہاں ان کا کوئی قانونی اختیار نہیں تھا۔ ایران کی اس حکمت عملی نے ثابت کر دیا کہ جب تمام راستے بند دکھائی دیں تب بھی متبادل ذرائع تلاش کیے جا سکتے ہیں۔










