ادب کی دنیا میں چند شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنی ذات میں ایک عہد، ایک ادارہ اور ایک روایت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مامون ایمن انہی نابغ روزگار اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں۔ عمر کے اعتبار سے وہ 86 برس کے ہیں مگر ان کی چستی، ذہنی تازگی اور ادبی سرگرمیوں کو دیکھ کر انہیں بجا طور پر 86 سالہ نوجوان کہا جا سکتا ہے۔ آج بھی وہ اپنی گاڑی خود چلاتے ہیں، مرچوں سے بھرپور کھانے شوق سے تناول کرتے ہیں اور شمالی امریکہ خصوصاً نیویارک اور نیوجرسی کی ادبی تقریبات میں ان کی موجودگی گویا محفل کی جان ہوتی ہے۔ مامون ایمن صرف ایک شاعر نہیں بلکہ استاد الاساتذہ ہیں۔ شمالی امریکہ میں شاید ہی کوئی ایسا شاعر ہو جس کی شاعری پر ان کی نگاہ نہ ہو۔ انہوں نے بے شمار شعرا کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ ان کی اصلاح بھی فرمائی۔ کسی کا تلفظ درست کیا، کسی کے شعر کا وزن سنوارا، کسی کے ہجے کی اصلاح کی اور کسی کو عروض کے رموز سے آگاہ کیا۔ ان کی محفل میں شریک ہونے والا ہر شخص ان کی شفقت، علم اور رہنمائی سے فیض یاب ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ ادب انہیں محبت سے بابائے اردو اور بابائے رباعیات کے القاب سے یاد کرتے ہیں۔ وہ فل برائٹ کے وظیفے پر تقریباً 60 برس قبل امریکہ آئے، پاکستان سے تین چار ایم اے کیے، یہاں کولمبیا یونیورسٹی سے پوسٹ گریجویشن کی اور پھر گوروں کو 50 سال تک انگریزی پڑھائی۔ سوچیں گوالمنڈی سے ایک شخص جو ر کو ڑ پڑھتا ہو، وہ نہ صرف انگریزی بلکہ اردو میں بھی اس اعلیٰ مقام تک پہنچے کہ سب ناز کریں۔ اس کے علاوہ وہ وائس آف امریکہ سے براڈکاسٹر کی حیثیت سے بھی منسلک رہے ہیں، اسی لیے وہ جس محفل میں ہوتے ہیں اسے چار چاند لگا دیتے ہیں۔ تقریباً نصف صدی سے زائد پر محیط ان کی ادبی خدمات کا سرمایہ 50 کے قریب کتابوں پر مشتمل ہے جن میں شاعری، نثر، تحقیق اور تنقید سبھی شامل ہیں، تاہم ان کی اصل شناخت رباعی ہے۔ خصی اور غیر خصی رباعی کے فن پر انہیں غیر معمولی دسترس حاصل ہے۔ میر تقی میر کے ساتھ ان کے تقابلی جائزے پر مشتمل سرائیکی بیلٹ کی ایم فل کی ایک طالبہ کو مقالہ لکھنے کی اجازت تو نہ مل سکی لیکن یہ کہنا بجا ہوگا کہ اس صنف میں ان کا یدِ طولیٰ مسلمہ حقیقت ہے۔ انہوں نے رباعی کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ اسے نئے فکری، فنی اور جمالیاتی زاویوں سے بھی روشناس کرایا۔ ان کی تازہ تخلیق خود نوایی میرے نزدیک صرف رباعیات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک صاحبِ فن شاعر کی خود شناسی، خود آگہی اور فکری کائنات کا آئینہ ہے۔ میں اسے خود نمائی کہنا چاہوں گا کہ انہوں نے خود کو فخریہ طور پر دکھایا کہ وہ کس پائے کے شاعر ہیں۔ اس کتاب میں مامون ایمن نے اپنے باطن، اپنی ذات، اپنے تجربات، اپنے مشاہدات، سوالات، اپنی فکر اور اپنی شخصیت کو جس منظوم بے ساختگی اور اعتماد کے ساتھ پیش کیا ہے وہ قاری کو یہ احساس دلاتا ہے کہ بعض شخصیات واقعی اپنی مثال آپ ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا ایک اعزاز یہ بھی ہے کہ انہیں چونکہ تقریباً ہر ادبی تقریب کی صدارت کے لیے مدعو کیا جاتا ہے، لہٰذا وہ صدارتی خطبہ بھی رباعیات کی شکل میں پیش کرتے ہیں جو کہ ان کا ایک اور خاصہ ہے۔ میری کتاب کی رونمائی کے ساتھ ساتھ بہت سے شعراء کی بھی منظوم پذیرائی اس کتاب میں آپ کو ملے گی۔ ایسے شاعر صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جن کا دور دور تک کوئی ثانی دکھائی نہیں دیتا۔ مامون ایمن کی شخصیت اور ان کی ادبی روایت کو سمجھنے کے لیے ان کے خاندانی پس منظر کا ذکر بھی ضروری ہے۔ ان کے والدِ مرحوم و مغفور محترم ہارون الرشید جو کہ ایک جید عالمِ دین بھی تھے، ان کا ایک منفرد کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے بغیر نقطوں کے ایک مکمل شعری مجموعہ تخلیق کیا جو اردو ادب میں اپنی نوعیت کا ایک نادر شاہکار ہے۔ اسی ادبی وراثت کو مامون ایمن نے نہ صرف سنبھالا بلکہ اسے نئی رفعتوں سے ہمکنار کیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ خود نوایی مامون ایمن کا وہ امتیازی کارنامہ ہے جو ان کی ادبی شناخت کا استعارہ بن جائے گا تو یہ مبالغہ نہ ہوگا۔ آخر میں بے اختیار یہ کہاوت یاد آتی ہے کہ جیسا باپ ویسا بیٹا۔ والد نے اپنی انفرادیت سے ادب کی تاریخ میں جگہ بنائی اور بیٹے نے رباعی کے آسمان پر اپنی ایسی روشن کہکشاں آباد کی کہ آج ان کا نام اردو رباعی کا استعارہ بن چکا ہے۔ خود نوایی اس حقیقت کی زندہ دلیل ہے کہ مامون ایمن محض ایک شاعر نہیں بلکہ ایک عہد، ایک دبستان اور ایک ایسی ادبی روایت کا نام ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔ الحمد للہ، سب تعریفیں اللہ سبحان و تعالی کی ہیں لیکن ایک صاحبِ فراست انسان کی تعریف بھی دراصل اس کے خالق کی ہی تعریف ہے۔ مامون ایمن کی تعریف ان ہی کی زبانی ملاحظہ کیجیے۔
فنکار رباعی کا قلم کار بھی ہوں
آفاق کے میلے میں ضیا کار بھی ہوں
جیتوں ہوں کبھی خود سے کبھی ہار بھی ہوں
انسان ہوں گل ناز بھی گل نار بھی ہوں
مزید دیکھیں
ہر ماہ کوئی بزم سجاتا ہے وہ
تہہ خانے کو گلزار بناتا ہے وہ
ایمن کو صدارت پہ بٹھاتا ہے وہ
عامر ہے کہ آداب نبھاتا ہے وہ
نثّار ہے اشعار کا مصدر کہیے
تہذیب میں تکریم کا محور کہیے
افسانہ غزل نظم کا منظر کہیے
اس بیگ کو عامر ہی برابر کہیے
واللہ و عالم بالصواب!












