فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

0
5

فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

محترم قارئین! رہنمائے کاملاں حضرت ابوالحسن علی ہجویری المعروف حضرت داتا گنج بخش رضی اللہ عنہ اپنے عہد کے امام یکتا اور اپنے طریق میں یگانہ تھے۔ آپ تصوف میں حضرت جنید بغدادی رضی اللہ عنہ کا مسلک رکھتے تھے۔ میدان شریعت میں حنفی تھے اور امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ سے بے حد متاثر تھے۔ مشائخ عظام کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت داتا علی ہجویری رضی اللہ عنہ اسلام کے ان بزرگان دین، اولیاء اللہ اور علماء و فضلاء میں سرفہرست ہیں جنہوں نے برصغیر پاک و ہند میں کفر و شرک کے طلسم کو پاش پاش کیا اور پرچم توحید و رسالت کو بلند کرنے کی انتھک کوشش کی۔ آپ علم اصول اور علم تصوف میں بڑا مقام رکھتے تھے اور دین متین کی تشہیر و تبلیغ میں آپ نے فعال کردار ادا کیا۔ اسی وجہ سے آپ عوام الناس میں امام العارفین، زبدی السالکین، حجة الکاملین اور سند الواصلین کے شہرہ آفاق القابات سے مشہور و معروف ہوئے۔
آپ کی کنیت ابوالحسن اور اسم گرامی علی بن عثمان تھا۔ آپ عوام میں داتا علی ہجویری اور گنج بخش کے القابات سے مشہور ہوئے۔ آپ ہاشمی سید ہیں اور آپ کا سلسلہ نسب آٹھویں پشت میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے ملتا ہے۔ آپ تقریباً 400 میں غزنی شہر کی ایک بستی ہجویر میں پیدا ہوئے، اسی نسبت سے آپ ہجویری کہلائے۔ آپ کے والد بزرگوار کا اسم گرامی سید عثمان جلابی رضی اللہ عنہ ہے۔ جلاب بھی غزنی سے ملحق ایک دوسری بستی کا نام ہے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم ہجویر میں حاصل کی اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے بہت سے ممالک کے سفر اختیار کیے۔ آپ کے اساتذہ میں حضرت شیخ ابوالعباس اشقانی، شیخ ابوجعفر محمد بن المصباح الصیدلانی، شیخ ابوالقاسم عبدالکریم بن ہوازن القشیری، شیخ ابوالقاسم بن علی بن عبداللہ الگرگانی، ابوعبداللہ محمد بن علی المعروف داستانی بسطامی، ابوسعید فضل اللہ بن محمد مہینی اور ابواحمد مظفر بن احمد بن ہمدان رضی اللہ عنہم کے اسمائ گرامی تاریخ میں ملتے ہیں۔ شیخ ابوالعباس اشقانی کے بارے میں حضرت مخدوم علی ہجویری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ علم اصول و فروع اور اہل تصوف میں اعلیٰ پایہ کے بزرگ ولی اللہ تھے۔
آپ کے پیر و مرشد حضرت شیخ ابوالفضل محمد بن حسن ختلی رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ کشف المحجوب میں خود تحریر فرماتے ہیں کہ آپ کا سلسلہ طریقت جنیدی ہے اور آپ کو سلسلہ جنیدیہ کی نسبت پر فخر تھا۔ آپ فرماتے ہیں کہ میرے پیر و مرشد علم تفسیر اور حدیث کے جید عالم تھے اور وہ طریقت میں شیخ بغدادی کا مسلک رکھتے تھے۔ نیز آپ اس بارے میں تحریر فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے پیر و مرشد شیخ ابوالفضل ختلی رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کسی کو بارعب نہیں دیکھا۔ آپ کا ارشاد مبارک ہے کہ دنیا ایک دن ہے اور ہمارا اس میں روزہ ہے۔
جس روز آپ کے کامل مرشد شیخ ابوالفضل ختلی رضی اللہ عنہ کا وصال باکمال ہوا، اس دن آپ ان کے پاس بیت الحسن میں موجود تھے۔ آپ فرماتے ہیں کہ مرشد پاک نے اپنا سر مبارک میری گود میں رکھا ہوا تھا۔ اس وقت میرے دل میں عام لوگوں کی طرح ایک سچے دوست و رہبر کی جدائی کا شدید غم تھا۔ اس پر مرشد پاک نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ اے بیٹا! میں اعتقاد کا ایک مسئلہ تجھے بتاتا ہوں، اگر تو اپنے آپ کو اس کے مطابق کر لے گا تو تمام رنج و غم سے نجات پا جائے گا۔ جان لے کہ تمام واقعات اور حالات، خواہ زندگی ہو یا موت، اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہیں۔ تجھے اللہ تعالیٰ کے فعل پر نہ کوئی اعتراض کرنا چاہیے اور نہ ہی دل میں ملال رکھنا چاہیے۔ اس کے بعد آپ نے کوئی طویل وصیت نہ فرمائی اور جان آفریں کے سپرد کر دی۔
حضرت داتا علی ہجویری رضی اللہ عنہ کی لاہور آمد کے متعلق مورخین کی آراء یہ ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ پہلی مرتبہ حضرت سلطان محمود غزنوی رحمتہ اللہ علیہ کے حملہ ہانسی کے وقت اور دوسری مرتبہ مسعود غزنوی کی شکست کے بعد 431 میں لاہور تشریف لائے۔ اس بدامنی کے دور میں غزنی کے باشندوں خصوصاً علماء اور بزرگان دین نے ہجرت کی، چنانچہ حضرت داتا علی ہجویری رضی اللہ عنہ اپنے دو ساتھیوں حضرت ابوسعید ہجویری اور حضرت حماد سرخسی رضی اللہ عنہما کے ہمراہ لاہور پہنچے۔
لاہور آمد کے بعد آپ نے ایک بلند ٹیلے پر قیام فرمایا، جہاں بعد میں آپ کا مزار پرانوار مرجع خلائق بنا۔ قیام کے دوران آپ نے ایک مسجد تعمیر کروائی جو آپ کے مزار مبارک کے ساتھ آج بھی زیارت گاہ خاص و عام ہے۔ اسی مقام سے آپ نے تبلیغ دین اور رشد و ہدایت کے عظیم کارنامے سرانجام دیے۔ مسجد کی تعمیر کے وقت بعض علماء نے رخ قبلہ پر اعتراض اٹھایا، جس پر آپ نے ان تمام علماء کو نماز کی دعوت دی اور خود امامت فرمائی۔ دوران نماز جب تمام نمازیوں نے کشف کے ذریعے قبلہ کا رخ عین خانہ کعبہ کی طرف دیکھا تو بعد نماز ان تمام علماء نے حضرت داتا علی ہجویری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے معذرت کی۔
بعد ازاں آپ رضی اللہ عنہ نے اسی مسجد سے شمع اسلام فروزاں کی اور پورے برصغیر میں اسلام کا نور پھیلایا۔ آپ کی سیرت و کردار سے بے شمار غیر مسلم متاثر ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ حتیٰ کہ لاہور کا گورنر رائے راجو بھی آپ کے دست حق پرست پر مشرف بہ اسلام ہوا۔ حضور محدث اعظم رضی اللہ عنہ اکثر آپ کی بارگاہ میں حاضر رہتے تھے، جبکہ حضور شمس المشائخ اور قائد ملت اسلامیہ کا بھی یہی معمول رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے درجات عالیہ مزید بلند فرمائے، آمین۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here