ستاروں کے حساب سے بچوں کے نام رکھنے کا طریقہ کار

0
4
سید کاظم رضوی
سید کاظم رضوی

محترم قارئین کرام کو سید کاظم رضا کا سلام پہنچے۔ اکثر احباب بچوں کے نام رکھنے کے معاملے میں پریشان پھرتے ہیں اور ان کو تسلی نہیں ہوتی کہ نام کیسے رکھا جائے۔ تو ان کے لیے ایک سادہ سا اصول یہ ہے کہ نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم، اہل بیت اور اصحاب کرام کے نام رکھ لیجیے۔ بہت سے لوگ ڈراموں اور میڈیا سے متاثر ہو کر بچوں کے بگڑے ہوئے نام اور القاب رکھ لیتے ہیں، جبکہ یاد رکھنا چاہیے کہ نام کا اثر شخصیت پر لازمی پڑتا ہے، اس وجہ سے بلاوجہ فیشن کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے بچوں کے مروجہ نام رکھیں تاکہ وہ ہمیشہ خوش رہیں۔
اب آتے ہیں ان بے چین والدین کی طرف جو بضد رہتے ہیں کہ بچہ فلاں تاریخ کو پیدا ہوا ہے تو اس کا نام کیسے رکھا جائے۔ یہ مقالہ ان تمام لوگوں کی مشکلات کا ایک سادہ سا حل فراہم کرتا ہے۔ امید ہے قارئین کرام اس کی قدر فرمائیں گے، وگرنہ مفت ملنے والی چیز کی اکثر قدر نہیں کی جاتی، حالانکہ اس میں چیدہ چیدہ اصول انتہائی سادہ طریقے سے بیان کر دیے گئے ہیں۔ اگر کسی ماہر فلکیات سے مشورہ لیا جائے تو وہ ہزار پانچ سو روپے لے لے گا، وگرنہ بھاگتے بھوت کی لنگوٹ کے موافق اپنا فون بیلنس تو کم از کم ڈلوا ہی لے گا۔ جو لوگ مجھے قصے سناتے ہیں، یہ باتیں ان کی روشنی میں عرض کی جا رہی ہیں، وگرنہ اس دنیا میں اچھے اور بے لوث لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے جو تلاش کرنے پر مل ہی جاتے ہیں۔
اگر بچہ 21 مارچ سے 20 اپریل کے دوران پیدا ہو تو اس کا برج حمل اور سیارہ مریخ ہو گا، اس لیے ا، ل، ع میں سے کسی بھی حرف سے شروع ہونے والا نام رکھیں۔ 21 اپریل سے 21 مئی کے درمیان پیدا ہونے والے بچے کا برج ثور اور سیارہ زہرہ ہوتا ہے، لہٰذا ب، و سے شروع ہونے والا نام رکھنا چاہیے۔ 22 مئی سے 21 جون کے دوران پیدا ہونے والے بچے کا برج جوزا اور سیارہ عطارد ہوتا ہے، اس لیے اس دوران پیدا ہونے والے بچوں کا نام ک، ق سے شروع ہونے والے حروف سے رکھنا مناسب ہے۔ 22 جون سے 23 جولائی کے دوران پیدا ہونے والے بچوں کا برج سرطان اور سیارہ قمر ہوتا ہے اور ان بچوں کا نام ح، ھ سے شروع ہونے والے حروف سے رکھنا چاہیے تاکہ نام کی مطابقت برقرار رہے۔ 24 جولائی سے 23 اگست کے بیچ پیدا ہونے والا بچہ برج اسد اور سیارہ شمس کا حامل ہوتا ہے، اس لیے ان بچوں کا نام م سے شروع ہونے والے حروف سے رکھنا چاہیے۔ 24 اگست سے 23 ستمبر میں پیدا ہونے والے بچوں کا برج سنبلہ اور سیارہ عطارد ہوتا ہے، لہٰذا ان کا نام پ، غ سے شروع ہونے والے حروف سے رکھا جائے۔ 24 ستمبر سے 23 اکتوبر کے دوران پیدا ہونے والے بچوں کا برج میزان اور سیارہ زہرہ ہوتا ہے، چنانچہ ان بچوں کا نام ر، ت، ط سے شروع ہونے والے حروف سے رکھا جاتا ہے۔ 24 اکتوبر سے 22 نومبر میں پیدا ہونے والے بچوں کا برج عقرب اور سیارہ مریخ و پلوٹو ہوتا ہے، اس لیے اس دوران پیدا ہونے والے بچوں کا نام ن، ی سے شروع کرنا چاہیے۔ 23 نومبر سے 21 دسمبر کے دوران پیدا ہونے والے بچے کا برج قوس اور سیارہ مشتری ہو گا، جس کی وجہ سے ف سے شروع ہونے والا نام رکھنا اچھا سمجھا جاتا ہے۔ 22 دسمبر سے 20 جنوری میں پیدا ہونے والے بچوں کا برج جدی اور سیارہ زحل بنتا ہے، لہٰذا اس دوران پیدا ہونے والے بچوں کا نام ز، ذ، ظ، ض، گ، غ، ج، خ سے شروع ہونے والے حروف سے رکھنا مناسب ہے۔ 21 جنوری سے 18 فروری کے دوران پیدا ہونے والے بچوں کا برج دلو اور سیارہ زحل و یورینس ہوتا ہے، اس لیے ان کا نام س، ش، ص، ث سے شروع ہونے والے حروف سے رکھنا چاہیے۔ 19 فروری سے 20 مارچ میں پیدا ہونے والے بچوں کا برج حوت اور سیارہ مشتری و نیپچون ہوتا ہے، لہٰذا د، چ سے شروع ہونے والا نام انتخاب کرنا چاہیے۔
اگر بالفرض آپ کو ان حروف میں سے کوئی نام پسند نہیں آ رہا تو جو بروج آپس میں دوست ہیں، ان کے حروف میں سے نام تلاش کر کے رکھا جا سکتا ہے۔ علم نجوم کے مطابق حمل، اسد اور قوس آپس میں دوست بروج ہیں۔ اسی طرح ثور، سنبلہ اور جدی کی آپس میں دوستی ہے۔ جوزا، میزان اور دلو کا باہمی تعلق دوستانہ ہے، جبکہ سرطان، عقرب اور حوت آپس میں دوست بروج شمار ہوتے ہیں۔
نام میں مزید مثبت تاثیر حاصل کرنے کے لیے علم ہندسہ کی مدد بھی لی جاتی ہے، جس کے تحت تاریخ پیدائش کا مفرد عدد نکال کر نام رکھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک بچے کی پیدائش 26ـ01ـ2016 کو ہوئی اور اس کا برج دلو بنا، تو اس تاریخ پیدائش کا مفرد عدد 2601201618 اور پھر 189 حاصل ہوتا ہے۔ اب کوئی ایسا نام تلاش کیا جائے جس کے حروف کا ابجد کی رو سے مفرد عدد 9 بنے اور وہ برج دلو کے مخصوص حروف س، ش، ص، ث سے شروع ہوتا ہو۔ مثال کے طور پر س سے شروع ہونے والا نام سعید لے لیتے ہیں، جس کا حساب س(60) ع(70) ی(10) د(4) کے مفرد اعداد 671418 اور پھر 189 نکلتا ہے۔
اگر کسی کا نام برج یا سیارے کے حساب سے نہیں ہے یا کوئی برج کے مطابق نام نہیں رکھنا چاہتا تو پریشان ہونے کی بالکل ضرورت نہیں ہے، وہ کوئی بھی اچھا اور پیارا سا اسلامی نام رکھ سکتا ہے۔ ماہرین علم نجوم کی تحقیق کے مطابق انسان پر صرف نام کے اثرات 12%، صرف تاریخ پیدائش کے اثرات 40%، جبکہ تاریخ پیدائش، وقت پیدائش اور مقام پیدائش کے مجموعی اثرات 90% سے 100% تک ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سید کاظم رضا نقوی کو اجازت دیں، اگلے ہفتے آپ کے مسائل اور ان کے حل کے ساتھ دوبارہ حاضری ہوگی۔ اللہ پاک آپ سب کو آسانیاں عطا فرمائے اور دنیا و آخرت بخیر فرمائے، آمین۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here