ہم نے اپنے گزشتہ کالم شکوۂ ارباب وفاء میں سیاسی و ریاستی اشرافیہ کے وطن عزیز کے حوالے سے تضادات، خود غرضی اور برتری قائم رکھنے کے جنون کی خصلت و اقدامات پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے وطن عزیز کی سالمیت و خوشحالی کیلئے تمام فریقین کے درمیان اخوت، محبت اور رواداری کو زندہ قوموں کی شناخت قرار دیا تھا کیونکہ یہ عناصر ہی کسی بھی ملک و قوم کی یکجہتی و عزت کی شناخت بنتے ہیں لیکن وائے حسرت کہ وطن عزیز کے ارباب اس کلید کو تسلیم نہیں کرتے نہ ہی ہماری نوجوان نسل اپنے حقوق کیلئے بیداری و جدوجہد کیلئے متحرک نظر آتی ہے۔ ہماری نوجوان نسل کا مطمع نظر اس حد تک مرکوز ہے کہ اپنی خوشحالی کیلئے کسی بھی طرح بیرونی ممالک پہنچ کر پیسہ کمائیں، اس حوالے سے آئے دن غیر قانونی و عدم تحفظ کے جو واقعات سامنے آتے ہیں ہلاکتوں اور گرفتاریوں کی کہانیاں سامنے آتی ہیں، متاثرہ خاندانوں پر قیامت ٹوٹتی ہے اور سب سے بڑھ کر ہماری نئی نسل کا سرمایہ جسے کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی کی ضمانت اور مستقبل کا اثاثہ قرار دیا جاتا ہے ضائع ہو رہا ہے افسوس اس امر پر ہے کہ ہمارے ارباب اقتدار و اختیار کو اس کی فکر ہے اور نہ ہماری نئی نسل (جسے دور حاضر میں جین زی کہا جاتا ہے) اس پر توجہ دیتی ہے، خواہ ان کے حقوق و مفادات پر ضرب پڑ رہی ہو یا وطن کے حالات پر شب خون مارا جا رہا ہو۔
ہمارے کالم کا ابتدائیہ دراصل گزشتہ دو ہفتوں سے بھارت میں طلباء کے احتجاج اور بھارتی حکومت کے ہتھیار ڈالنے و پسپائی کے حوالے سے ہے۔ جین زی کے احتجاج اور حکومتوں و مقتدروں کے ڈائون فال کا یہ پہلا واقعہ نہیں، سری لنکا، نیپال، بنگلہ دیش میں جین زی کے انقلاب کے حقوق کے تحفظ اور کامیابیاں تاریخ کا حصہ ہیں جہاں بقول فیض احمد فیض سب تخت گرائے اور تاج اچھالے جا چکے ہیں۔ بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج اگرچہ طلباء و نوجوان نسل کی ملازمتوں کیلئے تیار شدہ امتحانی پرچوں کے آئوٹ ہونے کیخلاف تھا، ایک لاکھ ملازمتوں کیلئے 22 لاکھ امیدواروں کا مستقبل دائو پر لگا کر من چاہوں کو نوکریاں دینے کیخلاف تھا اور ہندوتوا مودی حکومت کیخلاف تھا۔ تاہم حکومتی نا انصافی اور حقوق چھیننے کیخلاف نہ صرف طلبائ، نوجوان نسل بلکہ ان کیساتھ تمام قومیتیں و سیاسی قوتیںسیسہ پلائی دیوار بنیں تو مودی حکومت ریت کا ڈھیر بن گئی۔ مظاہرین کے سارے مطالبات مان لئے گئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا اور ملازمتوں کیلئے شفاف پروسیس کا فیصلہ کر لیاگیا۔
کمال کی بات ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کا دو ہفتوں تک جاری احتجاج اور لاکھوں کی ملک بھر سے شرکت کے باوجود مظاہرین کی جانب سے نہ کوئی ہنگامہ آرائی نہ متشددانہ واقعہ ہوا، تقاریر، دلائل اور وضاحت کے توسط سے دنیا بھر کے میڈیا کو اپنے حقوق و مقصد سے آگاہی دی گئی، نتیجہ یہ کہ گودی میڈیا اور جن سنگھی بھونپوئوں کو زہر اگلنے کی ہمت نہ ہوئی۔ ان تمام واقعات سے آگاہ ہونے کے بعد اب ذرا وطن عزیز کے مملکتی سیاسی معاشرتی حالات پر نظر ڈالیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ ہمارے یہاں حکومت، سیاست سے کسی شعبے میں نہ حقوق کے تحفظ کی پاسداری کو مقدم سمجھا جاتا ہے، نہ قانون و انصاف کی حاکمیت ہے اور نہ ہی تحمل و برداشت کی خُوبی ہمارے معاشرے میں ہے۔ فرد سے جماعتوں، اداروں اور درسگاہوں اور قومیتوں تک مفادات کے تناظر میں ہیجان خیزی، عدم برداشت، الزام تراشی کا دور دورہ ہے۔ اپنا جھنڈا اونچا رکھنے کیلئے ہر اقدام کیا جاتا ہے خواہ ملک و قوم کے مفاد میں بھی نہ ہو۔ میڈیا جسے قوم کا ترجمان کہا جاتا ہے وہ یا تو پابندیوں میں جکڑا ہوا یا سیاسی و مالیاتی غلامی میں نظر آتا ہے اور حقائق کے ابلاغ سے کتراتا ہے نوجوان طبقہ جس کے بارے میں ہم سطور بالا میں لکھ چکے ہیں، محض اپنی ذات کے خول میں مقید ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ موجودہ ہائبرڈ رجیم کے سبب آئین، جمہوریت، انصاف و قانون اور عوامی حقوق نہ ہونے کے مطابق ہیں۔ وطن عزیز جن مشکلات میں گھِرا ہوا ہے، کراچی سے آزاد کشمیر تک جسے پیا چاہے وہی سہاگن کی تصویر ہے۔ پاکستان کو آزاد ہوئے 79 برس ہو گئے ہیں۔ کیا غلامی سے آزادی کیلئے ہمارے وطن میں کوئی کاکروچ جنتا پارٹی حالات میں بہتری کیلئے وجود میں آئے گی یاپھر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے رکھیں گے۔ کیا پاکستان میں جین زی جاگے گی یا حالات مقتدرین کے محتاج ہی رہیں گے۔
٭٭٭٭٭











