کہانیاں اور بچے!!!
گرمیوں کا موسم ہے اور بچوں کی چھٹیاں ہیں، میں اس وقت پبلک لائبریری کے اس حصے میں بیٹھی ہوں جو بچوں کے لیے مخصوص ہے۔ یہاں مائیں اپنے ایک سے چار سال کے چھوٹے بچوں کو لے کر آتی ہیں اور انہیں کہانی سنانے کا انداز بہت منفرد ہے۔ کہانی سنانے والی خاتون صفحے پلٹ کر اور تصویریں دکھا کر بچوں کو مصروف رکھتی ہے، جسے دیکھ کر مجھے اپنا بچپن یاد آتا ہے جب ہم اپنی والدہ سے کہانی سنتے تھے۔ ہماری والدہ بڑی خوبصورتی سے بزرگوں کی کرامات، نانا کے شکار اور ماموں کی جوانی کے قصے تفصیل سے سنایا کرتی تھیں۔ اگرچہ میں سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے کہانی پوری طرح نہیں سمجھ پاتی تھی لیکن بہن بھائیوں کے ساتھ سن کر مجھے بھی کہانیوں کا شوق پیدا ہوا، جس کا مقصد یہی ہے کہ اگر کوئی آپ کے سامنے کتاب پڑھ رہا ہو تو بچپن ہی سے مطالعے کی رغبت پیدا ہو جاتی ہے۔ امریکہ کی لائبریریوں میں بچوں میں کتاب پڑھنے کا شوق اجاگر کرنے کے لیے کہانی کے وقت کو خاص اہمیت دی جاتی ہے اور مائیں بڑے شوق سے بچوں کو لائبریری لاتی ہیں۔
ہمارے ملکوں میں بھی یہ خوبصورت رواج رہا ہے کہ نانیاں اور دادیاں بچوں کو اپنے پاس بٹھا کر کہانیاں سناتی تھیں، جن کے بچوں پر مثبت اثرات مرتب ہوتے تھے۔ وہ کہانیاں محض وقت گزاری کا ذریعہ نہیں تھیں بلکہ ان کے ذریعے بچوں کی اخلاقی تربیت بھی ہوتی تھی اور وہ بہادر، بااخلاق اور ہمدرد بنتے تھے۔ بچے ان کہانیوں سے مظلوم کی مدد کرنا اور رب واحد کی ذات پر بھروسہ کرنا سیکھتے تھے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ کہانیوں کے موضوعات اور ان کے پیش کرنے کے انداز میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے۔ اگرچہ اب بھی بہادر کرداروں، تتلیوں اور دلکش سرورق والی کتابیں نظر آتی ہیں لیکن اب نانی اور دادی سے کہانی سننے کی روایت دم توڑتی جا رہی ہے۔ اب بچوں کو روایتی کہانیوں کے بجائے تخیلاتی اور طلسمی دنیا کی باتیں سنائی جاتی ہیں اور جب بچے بڑے ہوتے ہیں تو انہیں محنت، جدوجہد اور حق کی جنگ لڑنے والے کرداروں سے متعارف کرایا جاتا ہے۔
تصویری میڈیا کی بے پناہ آمد اور موبائل فونز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باوجود بچوں کو شفاہی اور زبانی کہانی سنانے کی اپنی ایک الگ افادیت اور اہمیت برقرار ہے۔ جو بچے باقاعدگی سے کتابیں پڑھتے ہیں اور کہانیاں سنتے ہیں، ان میں تفہیم اور ذہنی بیداری کا عنصر ان بچوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے جو اپنا زیادہ تر وقت صرف ٹی وی دیکھنے یا ویڈیو گیمز کھیلنے میں ضائع کر دیتے ہیں۔ کہانی کی دنیا بچوں کی سوچنے کی صلاحیتوں کو کھولتی ہے اور ان کے اندر نئے خیالات کی تخلیق کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ اسی لیے یہ حد درجہ ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو سکرین کی دنیا سے باہر نکالیں اور ان کا دھیان کتابیں پڑھنے اور کہانیوں کی جانب راغب کریں۔
بچوں میں مطالعے اور کہانیوں سے دلچسپی پیدا کرنے کے لیے ہمیں کسی پیچیدہ فلسفے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اپنے گھر کے بہادر، جفاکش، عقل مند اور تجربہ کار افراد کے سچے اور سبق آموز واقعات سنائے جا سکتے ہیں۔ جب بچے اپنے ہی آباؤ اجداد کی محنت اور جدوجہد کے قصے سنتے ہیں تو ان میں نہ صرف اپنے خاندانی ورثے پر فخر پیدا ہوتا ہے بلکہ ان کی اپنی شخصیت میں خود اعتمادی اور ہمت کا عنصر بھی شمل ہوتا ہے۔ محض کتابوں اور خیالی پریوں کے قصوں پر انحصار کرنے کے بجائے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو زبانی اور زبانی کلامی کہانیاں بھی سنانے کی عادت ڈالیں تاکہ ان کا تعلق اپنی روایات سے مضبوط ہو اور ان کی ذہنی نشوونما ایک متوازن اور مثبت انداز میں مکمل ہو سکے۔












