ورلڈ کپ کی اندرونی کہانی کچھ مختلف ہے ، وہ ذرائع جس نے اِسے افشا کیا ہے قابل لائق و تحسین ہیں۔ اُن کہانیوں میں صومالیہ سے تعلق رکھنے والے ریفری کا میامی ائیر پورٹ پر گیارہ گھنٹے تک آئس، امیگریشن انفورسمنٹ ایجنسی اور ایف بی آئی کے ایجنٹوں کے ہاتھوں یرغمال بنا رہنا اور بعد ازاں ڈیپورٹ ہوجانا ایک حیران کُن واقعہ سے کم نہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق ارطان کے ویزے کا تنسیخ ہوجانا اور اُسے ڈیپورٹ کر دینے کے پس پردہ اُس کے انتہائی نا پسندیدہ افراد سے تعلقات تھے۔ اگرچہ فیفا نے اُس کے سارے واجب الادا اخراجات اور کنٹریکٹ کی رقم ادا کردی ہے۔ اور اُس سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اُس کی خدمات سے یورپین سُپر کپ کے فائنل میں استفادہ کیا جائے گا۔
ارطان سے جب یہ پوچھا گیا کہ کِن ناپسندیدہ افراد سے اُس کے تعلقات تھے تو اُس نے جواب دیا کہ وہ صرف اپنے دھوبی، اپنے شوفر اور اپنے ہاؤس کیپر سے واقف ہے اور وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ افراد کیوں اور کس طرح امریکا کیلئے ناپسندیدہ ہیں۔اُس نے کہا کہ یہ اور بات ہے کہ اُس نے جس میچ میں بھی ریفری کے فرائض انجام دیئے اُس میں امریکی ٹیم کو شکست ہوگئی۔ شاید امریکی وزارت خارجہ نے شماریات کے اِس نظریہ کو اخذ کرلیا ہے کہ جو بات متواتر ہوتی رہتی ہے وہ مستقبل میں بھی وقوع پذیر ہو جاتی ہے۔
یہ امر بھی ایک حقیقت ہے کہ فیفا کے غیر جانبدار ہونے کا دعوی ورلڈ کپ کے دوران اُس وقت پھلجھڑی بن کر اُڑ گیاجب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر جیانی اِنفنٹینو کے مابین ٹیلیفونک گفتگو منظر عام پر آ گئی۔ موصوف کی کال کی وجہ کر فلارین بالوگن کو دوبارہ ایک گیم سے کِک آؤٹ کے بعد واپس لے لیا گیا۔چند دنوں تک یہ تنازع بین الاقوامی بحث و تکرار کا موضوع بنا رہا اور چند رہنما اِس تنازع کی وجہ کر سخت ناخوش تھے اور اُن کا کہنا تھا کہ امریکا نے ورلڈ کپ پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔
اِس کے باوجود صدر ٹرمپ اور جیانی اِنفنٹیو ورلڈ کپ کی ٹرافی دیتے وقت یکجا تھے۔اُن کے ساتھ کینیڈا اور میکسیکو کے رہنما بھی نظر آئے۔ لیکن یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہی تھے جنہیں نیوجرسی کے فینز سے ہوٹنگ اور تضحیک آمیز جملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو جیانی اِنفنٹینوکے ساتھ اسپین کے کیپٹن روڈری کو ٹرافی پیش کیا.اُس موقع پر صدر ٹرمپ حسب معمول اپنی زبان بند نہ رکھ سکے اور کہا کہ ” یہ ورلڈ کپ تاریخ میں سب سے عمدہ اسپورٹنگ ایونٹس شمار کیا جائیگا۔ ” بلا شبہ منافع بخش بھی۔ فیفا جس کا ہیڈ کوارٹر سوئیٹزر لینڈ میں ہے توقع ظاہر کی ہے کہ سال رواں کے ورلڈ کپ سے اُسے تیرہ بلین ڈالر کی آمدنی ہوئی ہے۔اگرچہ مذکورہ رقم کا بیشتر حصہ تیسری اور پسماندہ ممالک میں اسپورٹس اور سوکر کی ترقی کیلئے خرچ ہوگا، لیکن صدر ٹرمپ اِس میں سے بھی ایک ٹکرا ہتھیانے کیلئے بے چین معلوم ہورہے تھے اور موقع پاتے ہی اُنہوں نے جیانی اِنفنٹینو سے یہ گذارش کردی کہ بڑی نوازش ہوگی اگر وہ امریکا کو بھی اِس رقم سے کچھ عنایت کردیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جنگ کی وجہ کر امریکا کا بجٹ خسارے کا شکار ہورہا ہے ، اِسلئے وہ اسپورٹس کی ترقی پر زیادہ رقم خرچ کرنے سے معذور ہیں۔ فیڈریشن کے صدر جیانی اِنفنٹینو نے اُنہیں خوش کرنے کیلئے وعدہ کر دیا کہ وہ اِس پر غور کرینگے۔ مزید برآں آئندہ ورلڈ کپ 2030 ء میں تین ممالک جن میں اسپین، پرتگال اور مراکش کی شراکت سے منعقد ہوگا۔اِس کے بعد والے ورلڈ کپ کو صدر ٹرمپ سعودی عرب میں کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاکہ وہاں تعمیر ہونے والے تین ائیر کنڈیشن اسٹیڈیم کا ٹھیکہ اُن کی کمپنی کو مل جائے۔











