اسلام آباد (پاکستان نیوز)سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا کے دو بڑے حریف ممالک انڈیا اور پاکستان نے سن 2025 کے دوران اپنے دفاعی اخراجات میں ریکارڈ اضافہ کیا ہے جس کی بنیادی وجہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ فضائی جھڑپیں اور سرحدوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی بتائی جاتی ہے۔ سپری کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق انڈیا دنیا میں سب سے زیادہ عسکری بجٹ رکھنے والے پانچ بڑے ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ انڈیا نے اپنے دفاعی اخراجات میں 8.9 فیصد کا نمایاں اضافہ کیا ہے جس کے بعد اس کا کل فوجی بجٹ 92.1 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے بھی اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے بجٹ میں 11 فیصد اضافہ کیا ہے جس کے بعد پاکستان کے کل فوجی اخراجات 11.9 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے ہیں اور وہ عالمی سطح پر 31ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دفاعی بجٹ میں اس تیزی کی بڑی وجہ مئی 2025 میں پیش آنے والا وہ عسکری تصادم ہے جو پہلگام حملے کے بعد شروع ہوا۔ اس لڑائی کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف جدید لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور میزائلوں کا بھرپور استعمال کیا۔ فضائی معرکے کے دوران پاکستان نے انڈیا کے جدید فرانسیسی رفال طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا جبکہ انڈیا نے بھی پاکستانی فضائی اڈوں کو نشانہ بنانے اور طیارے گرانے کے دعوے کیے۔ اس صورتحال کے بعد دونوں ممالک نے اپنی فضائی قوت کو مزید جدید بنانے کے لیے نئے لڑاکا طیاروں اور میزائلوں کے بڑے آرڈرز دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں ہتھیاروں کی یہ دوڑ سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔











