دہلی (پاکستان نیوز) بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر نئیڈا میں انسانیت اور جرات کی ایک اعلیٰ مثال سامنے آئی ہے جہاں 23 سالہ نوجوان لڑکی سومیا نے ایک مسلم جوڑے کو بلاوجہ ہراساں کرنے والے شخص کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ یہ واقعہ نئیڈا کی ایک مصروف مارکیٹ میں پیش آیا جہاں مکیش کمار نامی ایک شخص نے جو نشے کی حالت میں تھا، ایک باحجاب خاتون اور ان کے شوہر کو روک کر ان سے مذہبی بنیادوں پر پوچھ گچھ شروع کر دی اور زبردستی ان کا شناختی کارڈ مانگا۔ اس دوران وہاں موجود دیگر لوگ خاموش تماشائی بنے رہے لیکن سومیا نے مداخلت کرتے ہوئے اس شخص کو نہ صرف آئینہ دکھایا بلکہ اس کی جعلی پولیس افسر بننے کی کوشش کو بھی ناکام بنا دیا۔ اس واقعے کی ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہونے کے بعد جہاں دنیا بھر میں سومیا کی بہادری کو سراہا جا رہا ہے وہیں انتہا پسند عناصر کی جانب سے انہیں شدید ہراساں کیے جانے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ سومیا کا کہنا ہے کہ انہیں سوشل میڈیا پر مسلسل جان سے مارنے اور دیگر سنگین دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور نامعلوم افراد ان کے گھر کا پتہ معلوم کرنے کے لیے ان کے دوستوں کو پیسوں کی لالچ دے رہے ہیں۔ ان پر یہ الزام بھی لگایا جا رہا ہے کہ انہوں نے ایک خاص کمیونٹی کی حمایت کر کے اپنے مذہب کی توہین کی ہے تاہم سومیا نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ضمیر اور ان کی تعلیمات انہیں مظلوم کی مدد کرنے کا سبق دیتی ہیں۔ مقامی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے مگر ایک دن بعد ہی اس کی ضمانت منظور ہو گئی۔ سومیا نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ ان دھمکیوں سے ڈرنے والی نہیں ہیں اور سماجی ناانصافیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کرتی رہیں گی۔











