لاہور (پاکستان نیوز)سندھ کے ضلع شکار پور میں جونیجو اور کلہوڑا برادریوں کے درمیان جاری خونی تصادم بالآخر ایک جرگے کے نتیجے میں ختم ہو گیا ہے، جس کے دوران مبینہ طور پر 48 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس طویل دشمنی کا آغاز محض ایک بکری کی چوری کے معمولی واقعے سے ہوا تھا، جس نے وقت کے ساتھ ساتھ ایک ایسی بھیانک جنگ کی شکل اختیار کر لی جس میں دونوں اطراف کے درجنوں گھرانے اجڑ گئے۔ اس تنازع کے نتیجے میں جلالپور اور گردونواح کے علاقے نو گو زونز بن چکے تھے، جہاں خوف و ہراس کے باعث تعلیمی ادارے ویران اور سماجی زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی تھی۔ مقامی رہائشی قربان علی جونیجو کے مطابق اس دشمنی میں ان کا بھائی اور دو بھتیجے اس وقت قتل ہوئے جب وہ مال مویشی چرا رہے تھے۔ جونیجو برادری کے 23 جبکہ کلہوڑا برادری کے 25 افراد اس خونی سلسلے کی نذر ہوئے۔ طویل عرصے تک جاری رہنے والی اس کشیدگی نے بچوں کے مستقبل کو بھی داؤ پر لگا دیا تھا، جہاں سکول کی عمارتیں کھنڈر بن گئیں اور بچے صرف ایک چھوٹے سے مدرسے تک محدود ہو کر رہ گئے۔ اگرچہ گذشتہ ماہ ہونے والے جرگے نے بظاہر اس دشمنی کا خاتمہ کر دیا ہے، لیکن قانونی حلقوں میں اس پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ عدالتوں کی موجودگی اور جرگہ سسٹم پر قانونی پابندی کے باوجود اس نوعیت کے تصفیے ریاست کی رٹ اور عدالتی نظام کی افادیت پر بڑے سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ محض جرمانہ ادا کر کے اتنی بڑی تعداد میں ہونے والے قتل و غارت کو پس پشت ڈالنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے، تاہم مقامی سطح پر امن کی بحالی کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔








