متحدہ امارات کی امریکی کرنسی سواپ خواہش

0
13

دوبئی (پاکستان نیوز)بہت زیادہ مالی وسائل اور کھربوں ڈالر کے اثاثے رکھنے کے باوجود متحدہ عرب امارات کی جانب سے امریکہ کے ساتھ کرنسی سواپ یا کرنسی کے تبادلے کی لائن قائم کرنے کی خواہش نے عالمی مالیاتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مثبت اشارہ دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے پاس 20 کھرب ڈالر کے خودمختار سرمایہ کاری اثاثے اور مرکزی بینک میں 300 ارب ڈالر کے محفوظ ذخائر موجود ہیں لیکن اس کے باوجود کرنسی ایکسچینج لائن کی تجویز سامنے آنا تزویراتی مالیاتی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں تصدیق کی ہے کہ وہ اس معاملے پر غور کر رہے ہیں کیونکہ امارات ایک اہم اتحادی ہے اور اس نے امریکہ میں 10 کھرب ڈالر کی بڑی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ ٹرمپ کا موقف ہے کہ علاقائی جنگ اور ایران کی جانب سے ممکنہ خطرات کے پیش نظر امارات کی مدد کرنا امریکہ کی ترجیح ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب اماراتی حکام اس تاثر کی سختی سے تردید کر رہے ہیں کہ ملک کو کسی مالی بحران کا سامنا ہے یا اسے بیرونی امداد کی ضرورت ہے۔ واشنگٹن میں اماراتی سفیر یوسف العتیبہ نے واضح کیا ہے کہ اماراتی معیشت دنیا کی مضبوط ترین معیشتوں میں سے ایک ہے اور بینکوں میں 15 کھرب ڈالر کے ڈپازٹس اس کی مالی ساکھ کا ثبوت ہیں۔ ماہرین کے مطابق کرنسی سواپ کا مقصد مالی کمزوری نہیں بلکہ ہنگامی حالات میں ڈالر کی فوری دستیابی کو یقینی بنانا اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ اگرچہ وال سٹریٹ جرنل نے اماراتی مرکزی بینک اور امریکی محکمہ خزانہ کے درمیان رابطوں کی رپورٹ دی ہے، تاہم امارات اسے محض ایک فنی مالیاتی انتظام کے طور پر دیکھتا ہے نہ کہ کسی معاشی مجبوری کے طور پر۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امیر ترین ممالک بھی اپنی کرنسی کی قدر اور عالمی لین دین کو محفوظ بنانے کے لیے پیشگی اقدامات کر رہے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here