ایک بادشاہ ایک ٹانگ سے معذور اور ایک آنکھ سے کانا بھی تھا مگر اپنی رعایا کے دکھ سکھ کا گہرا شعور رکھتا تھا۔ ایک دن بادشاہ نے اپنی مملکت کے تمام ماہر مصوروں کو طلب کیا اور اپنی تصویر بنانے کا حکم دیا لیکن اس کے ساتھ ہی ایک مشکل شرط بھی عائد کر دی کہ تصویر میں بادشاہ کا کوئی جسمانی عیب نظر نہیں آنا چاہیے اور تصویر حقیقت پر مبنی بھی ہونی چاہیے کہ کسی کو دیکھ کر یہ محسوس نہ ہو کہ یہ تصویر بادشاہ کی نہیں ہے ۔ تمام مصور اس کام کو ناممکن سمجھ کر پیچھے ہٹ گئے کیونکہ بادشاہ ایک آنکھ سے محروم تھا اور ایک ٹانگ سے معذور تھا، چنانچہ ایک آنکھ والے بادشاہ کی دو آنکھوں والی تصویر بنانا اور لنگڑے بادشاہ کو دو ٹانگوں پر کھڑا دکھانا بظاہر ایک ناممکن امر معلوم ہوتا تھا۔ اسی دوران ایک ماہر مصور نے پیشکش کی کہ وہ بادشاہ سلامت کی ایسی تصویر تیار کرے گا جو اپنی خوبصورتی میں ایک شاہکار ثابت ہوگی۔ اس مصور نے بادشاہ کو اس انداز میں تصویر میں ڈھالا کہ وہ شکار کے لیے بندوق تانے ہوئے تھا، جس کے لیے لامحالہ اس کی ایک آنکھ بند تھی اور ایک گھٹنا زمین پر ٹیک لگائے ہوئے تھا، یوں اس فنی مہارت کے ذریعے بادشاہ کا جسمانی عیب تصویر کے اندر چھپ گیا اور ایک بے عیب منظر تخلیق ہو گیا۔
اس حکایت سے یہ سبق ملتا ہے کہ جس طرح اس مصور نے اپنی بصیرت سے بادشاہ کی خامیوں کو ڈھانپ کر ایک مثبت تصویر پیش کی، ہمیں بھی اپنے معاشرتی رویوں میں اسی اصول کو اپنانا چاہیے۔ امام مالک کا قول ہے کہ انہوں نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو عیوب سے پاک تھے مگر دوسروں کے عیب بیان کرنے کی عادت نے انہیں خود عیوب میں مبتلا کر دیا، جبکہ ایسے لوگ بھی دیکھے گئے جو خود تو کثیر عیوب رکھتے تھے مگر دوسروں کی خامیاں بیان کرنے سے گریزاں رہے تو لوگوں نے ان کے اپنے عیوب کو بھی فراموش کر دیا۔ یہ طرز عمل نہ صرف اخلاقی بلندی کی علامت ہے بلکہ انسانی تعلقات کو خوشگوار بنانے کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔
ہمیں اپنے اردگرد کے لوگوں کی خامیوں کو اجاگر کرنے کے بجائے ان کی خوبیوں کو تلاش کرنا چاہیے، کیونکہ کوئی بھی انسان عیوب سے مکمل طور پر پاک نہیں ہوتا۔ جب ہم دوسروں کی پردہ پوشی کرتے ہیں تو ہم معاشرے میں ایک مثبت فضا قائم کرتے ہیں جس سے باہمی اعتماد اور احترام میں اضافہ ہوتا ہے۔ منفی پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرنے سے صرف تلخیاں جنم لیتی ہیں جبکہ مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنے سے خوشیوں کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔ ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ یہ اصول ہماری ذاتی اور اجتماعی زندگیوں کے لیے مشعل راہ ہے، جس پر عمل پیرا ہو کر ہم نہ صرف خود کو بہتری کی جانب لے جا سکتے ہیں بلکہ ایک پرسکون اور مہذب معاشرے کی تشکیل میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دوسروں کے عیبوں کو نظر انداز کر کے ان کی شخصیت کے روشن پہلوؤں کو سامنے لانا ہی ایک باشعور انسان کی پہچان ہے۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی توانائیاں تنقید کے بجائے اصلاح اور درگزر کے جذبے میں صرف کریں، تاکہ پردہ پوشی کا یہ عمل ہماری عادت ثانیہ بن جائے اور ہم اللہ کی رحمت و مغفرت کے حقدار ٹھہر سکیں۔
٭٭٭















