ایران کے خاک نشینوں کو بلاشبہ بے انتہا قربانیاں دینی پڑیں لیکن انہوں نے جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی آج کی دنیا پر یہ ثابت کر دیا کہ انسان اپنے ایمان اور خداداد ذہانت کے بل بوتے پر اپنی نازک رگِ گردن سے بھی شیطانی طاقت کے خنجر کے ٹکڑے ٹکڑے کر سکتا ہے۔ ان دنوں شیطانی خنجر کی حامل نام نہاد سپر پاور اپنے زخموں سے بہتا خون چاٹ کر ہلکان تو ہو رہی ہے لیکن اپنے ماؤف مگر پرغرور دماغ سے اپنی ذلت آمیز شکست کے اسباب نہیں ڈھونڈ پا رہی۔ اس کی شکست و ریخت کا سبب جاننے کے لیے 61 ہجری میں پیش آنے والے سانحہ کربلا کا وہ مرثیہ بیان کرنا پڑے گا جسے جوش ملیح آبادی نے لکھا تھا۔
کر دیا تو نے یہ ثابت اے دلاور آدمی
زندگی کیا موت سے لیتا ہے ٹکر آدمی
کاٹ سکتا ہے رگِ گردن سے خنجر آدمی
لشکروں کو روند سکتے ہیں بہّتر آدمی
ضعف ڈھا سکتا ہے قصرِ افسر و اورنگ کو
آبگینے توڑ سکتے ہیں حصارِ سنگ کو
مغربی طاقتوں نے تیل کی دولت کو محفوظ بنانے کے لیے صیہونی ریاست کی شکل میں جو خنجر مشرقِ وسطیٰ کے دل میں گھونپا تھا اب وہ زنگ آلود اور کمزور ہو چکا ہے۔ اس کے مہلک اثرات سے لاکھوں افراد جن میں بڑی تعداد معصوم بچوں اور خواتین کی ہے گھائل ہو چکے ہیں۔ دنیا بھر کے سامنے فلسطینیوں کی نسل کشی اور ان پر ہر طرح کے مظالم ڈھانے والا یہ خنجر اتنا بیباک ہو گیا ہے کہ عالمِ انسانیت کا خوابِ غفلت میں آسودہ ضمیر اب بیدار ہونے لگا ہے اور اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے کے لیے انگڑائیاں لیتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ مشرق سے بڑھ کر خود مغرب کی رائے عامہ اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی مشرقِ وسطیٰ کے زیادہ تر ممالک اب اس فسطائیت کی غیر مشروط حمایت سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ واقعی رگِ گردن نے ظلمت کے خنجر کو کاٹ دیا ہے اسی لیے تو مولانا محمد علی جوہر نے فرمایا تھا کہ!
قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
آج کل اسلامی جمہوریہ ایران میں سانحہ کربلا کی یادیں تازہ کرنے کے دن ہیں اور اس سال علاقے میں ہونے والی حالیہ بمباری اور تباہی نے انہیں کربلا سے مزید قریب کر دیا ہے۔ ایرانی عوام اپنے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر نوحہ کناں ہیں جنہیں ابھی تک دفن بھی نہیں کیا جا سکا جبکہ وہ مناب میں شہید ہونے والی معصوم بچیوں کے لیے بھی انتہائی افسردہ ہیں۔ معاشی پابندیوں نے ان کی معمول کی زندگی کو بے انتہا متاثر کیا ہوا ہے لیکن وہ صبر و استقامت کے راستے کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ غزہ، لبنان اور یمن کے اتحادیوں کے بغیر وہ امن معاہدہ کرنے کے بھی قائل نہیں۔ جوش نے اپنے مرثیے میں صحیح فرمایا تھا کہ
اے حسین! اب تک تیرا نقشِ قدم تابندہ ہے
زندہ ہے، پائندہ ہے، تازندہ ہے، رخشندہ ہے
روشن و پائندہ و بالندہ و بخشندہ ہے
گامزن تو جس پہ تھا وہ جادہ اب تک زندہ ہے
زوفگن ہے ذہن کے ہر بند پر، ہر جوڑ پر
شمع جو تابندہ ہے تیری گلی کے موڑ پر












