بہتری کی طرف قدم!!!

0
9
ماجد جرال
ماجد جرال

دنیا کے مختلف خطوں میں حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور جنگ کے خدشات نے ایک بار پھر انسانیت کو اس اہم سوال پر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آخر عالمی امن کا خواب کب شرمندہ تعبیر ہوگا۔ جب بھی جنگ کے بادل منڈلاتے ہیں، تو سب سے پہلے عام انسان کی زندگی ہی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ بازاروں میں بے یقینی کی فضا قائم ہو جاتی ہے، معیشت میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملتا ہے، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں نامعلوم خوف جنم لیتا ہے۔ ایسے میں اگر کسی ممکنہ تباہ کن جنگ کا خطرہ ٹل جائے تو یہ یقیناً عالمی برادری کے لیے شکر ادا کرنے کا مقام ہوتا ہے۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جنگیں کبھی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات سرحدوں کو عبور کر کے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ چاہے معاملہ مشرقِ وسطیٰ کا ہو، یورپ کا ہو یا ایشیا کا، موجودہ دور میں عالمی سیاست اور بین الاقوامی معیشت ایک دوسرے سے اس قدر جڑ چکی ہیں کہ ایک خطے کا بحران دوسرے خطوں میں بھی فوری طور پر بے چینی اور عدم استحکام پیدا کر دیتا ہے۔ آج دنیا ایک ایسے جدید دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں جدید ٹیکنالوجی، عالمی تجارت اور سفارتی روابط نے ممالک کو ایک دوسرے کے قریب تو کر دیا ہے، لیکن اس کے باوجود سیاسی اختلافات اور طاقت کی روایتی سیاست اب بھی ختم نہیں ہو سکی۔ بڑی طاقتیں اپنے مخصوص مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف حکمت عملیاں اختیار کرتی ہیں جبکہ چھوٹے اور ترقی پذیر ممالک اکثر ان باہمی کشمکشوں کے سنگین اثرات برداشت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
اگرچہ حالیہ کشیدگی میں کمی آنا ایک مثبت اشارہ ہے، مگر یہ سوال اپنی جگہ اب بھی موجود ہے کہ دنیا کے حالات مستقل طور پر کب بہتر ہوں گے؟ اس بنیادی سوال کا جواب صرف جنگ کے نہ ہونے میں نہیں بلکہ عالمی انصاف، معاشی استحکام، مسلسل سفارتی مکالمے اور عوامی فلاح و بہبود میں پوشیدہ ہے۔ جب تک مختلف ممالک ایک دوسرے کو صرف حریف کے طور پر دیکھتے رہیں گے اور مشترکہ انسانی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح نہیں دیں گے، اس وقت تک عالمی امن کا قیام عارضی ہی محسوس ہوگا۔
دنیا کے مجموعی حالات کو بہتر بنانے کے لیے صرف حکومتوں ہی کی نہیں بلکہ معاشروں، ابلاغ عامہ، دانشوروں اور عام شہریوں کی بھی مساوی ذمہ داری بنتی ہے۔ اگر ذرائع ابلاغ اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کریں، سیاسی قیادت تحمل، بردباری اور مکالمے کی ثقافت کو فروغ دے اور عوام نفرت کے بجائے شعور اور برداشت کو اپنائیں تو بہت سے دیرینہ تنازعات شدت اختیار کرنے سے پہلے ہی پرامن طریقے سے ختم ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ آج کے دور میں نوجوان نسل پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا اور عالمی رابطوں کے جدید ذرائع نے مختلف قوموں کے درمیان جغرافیائی فاصلے سمیٹ دیے ہیں۔ یہی نئی نسل اگر امن، تعلیم اور پائیدار ترقی کو اپنی اولین ترجیح بنا لے تو انسانیت کا مستقبل نسبتاً زیادہ محفوظ اور مستحکم ہو سکتا ہے۔ شاید دنیا سے نظریاتی اور سیاسی اختلافات کبھی مکمل طور پر ختم نہ ہوں، لیکن ان اختلافات کو جنگ و جدل کے بجائے بامقصد بات چیت اور باہمی تعاون سے حل کرنا ہی انسانیت کی اصل کامیابی ہوگی۔ اس وقت اگر جنگ کا خطرہ ٹل گیا ہے تو یہ ایک بہترین موقع ہے کہ دنیا صرف سکون کا سانس لینے پر ہی اکتفا نہ کرے بلکہ ایک ایسے محفوظ مستقبل کے لیے سنجیدہ کوششوں کا آغاز بھی کرے جہاں امن محض ایک وقتی خبر نہیں بلکہ ایک مستقل حقیقت بن کر سامنے آئے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here