امن معاہدے میں پاکستان کا قائدانہ اور انقلابی ثالثی کردار پرٹرمپ کا اعتراف!!!
امریکی خارجہ پالیسی کے بدلتے ہوئے رنگ اور تزویراتی منظر نامے میں پاکستان کی اہمیت کا اعتراف ہمیشہ ہی بین الاقوامی امور کے ماہرین کے لیے گہری دلچسپی کا باعث رہا ہے لیکن حالیہ دنوں میں واشنگٹن سے آنے والے بیانات نے اس بحث کو ایک بالکل نیا رخ دے دیا ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونیوالے تاریخی امن معاہدے کی کامیابی کا سہرا کسی اور کے بجائے پاکستان کے سر باندھا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا کے جیو پولیٹیکل منظر نامے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے کیونکہ اس بار اسلام آباد نے روایتی سیکیورٹی شراکت دار کے بجائے ایک عالمی ثالث اور امن پسند ملک کے طور پر خود کو منوایا ہے۔ واشنگٹن اور تہران کے مابین دہائیوں پر محیط شدید کشیدگی اور معاندانہ تعلقات کے بعد ایک ایسے معاہدے پر پہنچنا جس کا مقصد خطے کو جنگ کے مہیب سائے سے نکالنا ہو بلاشبہ ایک غیر معمولی سفارتی کامیابی ہے اور اس کامیابی کا مرکز پاکستان کی وہ خاموش مگر انتہائی موثر سفارت کاری رہی ہے جس کا اعتراف اب خود دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے سربراہ کی زبان سے ہو رہا ہے۔ امریکی صدر نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے تہران کے ساتھ تعلقات کو جس مہارت کے ساتھ استعمال کیا اور دونوں فریقین کو ایک میز پر لانے کے لیے جو کوششیں کیں وہ واقعی قابل ستائش تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قیادت ایرانی حکام اور وہاں کے نظام کو بہت گہرائی سے سمجھتی ہے اور اسی تفہیم نے مذاکرات کے انتہائی مشکل اور سنگین مراحل میں دونوں ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کیا۔ یہ بیان اس بات کا بین ثبوت ہے کہ پاکستان کی جیو اسٹریٹجک پوزیشن اور اس کے برادر اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کتنی گہری اور تزویراتی اہمیت کی حامل ہے۔
اگر اس پورے بحران اور اس کے بعد ہونے والے مذاکرات کے پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ فروری 2026 میں جب امریکی اور اسرائیلی افواج کی جانب سے ایران پر مشترکہ فضائی حملے کیے گئے تو پورا خطہ ایک ہولناک جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا تھا۔ اس کے جواب میں تہران نے بھی خلیجی ممالک پر حملے کر کے توانائی کی عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور آبنائے ہرمز جیسے حساس ترین بحری راستے سے تیل کی ترسیل معطل ہو کر رہ گئی تھی۔ اس شدید بحرانی کیفیت میں جب دنیا ایک بڑے اقتصادی اور عسکری تصادم کی طرف بڑھ رہی تھی تو پاکستان نے ایک ذمہ دار جوہری قوت اور خطے کے اہم ترین ملک کے طور پر اپنا تاریخی کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اپریل 2026 کے اوائل میں پاکستان کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان پہلی بار عارضی جنگ بندی ممکن ہوئی اور اس کے فورا بعد 11 اپریل 2026 کو اسلام آباد ہی کی میزبانی میں دونوں حریف ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان پہلی براہ راست ملاقات ہوئی جو کہ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد ایک تاریخی اور انقلابی قدم تھا۔ ان مذاکرات کے متعدد ادوار انتہائی خفیہ اور کٹھن حالات میں طے پائے جہاں دونوں اطراف سے شدید تحفظات اور مطالبات سامنے آ رہے تھے لیکن پاکستانی سفارت کاری نے مستقل مزاجی اور غیر جانبداری برقرار رکھتے ہوئے دونوں فریقین کو جوڑے رکھا اور بالآخر اس تگ و دو کا نتیجہ اسلام آباد یادداشتِ تفا?م کی صورت میں نکلا جو پاکستان کی عالمی ثالثی کی تاریخ کا ایک روشن باب بن چکا ہے۔
اس سفارتی کامیابی کے پیچھے جہاں پاکستان کی دفتر خارجہ کی مہارت کارفرما تھی وہیں ملک کی اندرونی سیاسی اور عسکری قیادت کا مثالی ہم آہنگی کے ساتھ ایک پیج پر ہونا بھی سب سے اہم عنصر ثابت ہوا جس کا تذکرہ امریکی صدر نے خصوصی طور پر کیا۔ انہوں نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مابین موجود گہرے تال میل اور باہمی احترام کی کھل کر تعریف کی اور اسے ایک خوبصورت منظر قرار دیا۔ بین الاقوامی سیاست میں یہ بات مسلمہ ہے کہ کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی اس وقت تک موثر اور جاندار نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس کے اندرونی ادارے اور قیادت ایک ہی سمت میں گامزن نہ ہوں۔ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے اس نازک موڑ پر جس بصیرت کا مظاہرہ کیا اس نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان اپنے داخلی چیلنجز کے باوجود عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے ایک قابل اعتماد اور مضبوط شراکت دار ہے۔ اس اندرونی استحکام اور یکسوئی نے ہی پاکستان کو یہ طاقت فراہم کی کہ وہ ایران اور امریکہ جیسے دو ایسے ممالک کو ایک ہی میز پر بٹھا سکے جو ایک دوسرے کا وجود تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے۔
اسلام آباد یادداشتِ تفاہم کی رو سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والے چودہ نکات خطے میں دیرپا امن کی بنیاد بن سکتے ہیں جس کے ابتدائی مرحلے کے طور پر امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ ختم کر دیا ہے اور ایران نے بھی عالمی تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی مکمل اجازت دے دی ہے جس سے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ تاہم یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ اگلے ساٹھ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان ایران کے نیوکلیائی ذخائر جیسے انتہائی پیچیدہ اور حساس معاملے پر مزید مذاکرات ہونے جا رہے ہیں جن میں پاکستان کا کردار مزید اہم ہو جائے گا۔ لیکن اس پورے عمل کو جہاں ایک طرف کامیابی مل رہی ہے وہیں دوسری طرف لبنان میں اسرائیلی عسکری کارروائیاں اور جارحیت اس امن معاہدے کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ اور چیلنج بن کر سامنے آ رہی ہیں جو کسی بھی وقت ان نازک مذاکرات کو پٹری سے اتار سکتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں پاکستان پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں بھی اپنی سفارتی مہارت کا سلسلہ جاری رکھے اور خطے کو کسی نئے بحران سے بچانے کے لیے تہران اور واشنگٹن دونوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ یہ امن عمل اپنے منطقی انجام تک پہنچ سکے اور دنیا اس تباہ کن تصادم کے سائے سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جائے جو پوری انسانیت کے لیے خطرہ بنا ہوا تھا۔













