بہت عرصہ پہلے تقریباً چالیس برس قبل ہم اپنے امریکی باس کے انتقال پر ان کے دفن کے وقت قبرستان پہنچے تو وہاں جنازہ پر اس کا تذکرہ تھا اور لوگ آ آ کر انہیں خراج عقیدت پیش کر رہے تھے۔ تو معلوم ہوا وہ اپنی فیملی میں اور آفس میں کام کرنیوالوں میں نہایت ہی مقبول تھے۔ ان کی اچھی باتوں، ان کے کردار، ان کے حسن اخلاق اور سب کی مدد کی باتیں ہو رہی تھیں۔ ہمیں یہ طریقہ بہت اچھا لگا اور سب دلچسپی سے سن رہے تھے۔ ہماری خواہش رہی کہ ہر کسی کے جانیوالے کو قبر میں اتارتے وقت مرحوم یا مرحومہ کا ذکر خیر کر کے ان کی یاد تازہ ہو جائے۔ ایسے ہی ایک اور موقع پر ہم اپنے دوست کے صاحبزادے، جو سرجن تھے، کے ہوسٹ میں ان کے دشمن کے ہاتھوں قتل پر لوگ جمع تھے، وہاں بیٹھے سارے افراد ایک دوسرے سے پوچھ گچھ کر رہے تھے۔ ایک صاحب نے تو حد کر دی کہ جس نے گولی چلائی تھی وہ تفصیل جاننا چاہتے تھے اور مرحوم ڈاکٹر کے والد بڑی تکلیف میں بیٹھے تھے۔ ہم وہاں گئے تھے اور سب کی توجہ اس سراغ رسائی پر تھی کہ مرحوم کی خوبیوں اور ان کی اچھائیوں پر روشنی ڈالی جائے، دوسروں سے درخواست کی لیکن ہجوم کے شور میں حق کی آواز کون سنتا ہے۔ بڑی تکلیف ہوئی، مرحوم کو ہم بچپن سے جانتے تھے، انہوں نے ہمارے بیٹے کو بھی پڑھایا تھا اور پاکستان سے ہماری کینسر زدہ بہن کو یہاں لانے اور علاج کی گارنٹی دے کر سب کچھ کرنے کی کوشش کی تھی۔ بہن کا انتقال ہو گیا اور ہم اکثر مرحوم ڈاکٹر کو یاد کرتے رہتے ہیں۔
اس ہفتہ20 جون کو عتیق صدیقی نے اپنی مرحومہ زوجہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے تقریباً 200 افراد کو مدعو کیا تھا۔ اولڈ کنٹری روڈ برکسول کے بینکویٹ ہال سیفائر میں تقریب قرآن خوانی ہوئی اور مرحومہ کے متعلق ان کے بڑے بیٹے اور پوتے نے بہت ہی اچھی باتیں کیں۔ وہ جذبات میں آئے تو ہم بھی جذبات میں بہہ گئے اور بار بار اسٹیج پر موجود عتیق صدیقی پر نظر جاتی رہی۔ اپنی کمزور نظر سے ان کا چہرہ تو نہیں دیکھ پا رہے تھے مگر وہ اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیتے اور بڑی ہمت سے بات کرتے، ان کا جذبہ دیکھ کر وہاں شریک افراد کو خوش آمدید کہنے کا انداز متاثر کن تھا۔ سب سے خوبصورت تقریر مرحومہ کے بھائی نے کی کہ وہ میری بھابھی تو تھی ہی اس کے علاوہ میری بہن اورماں کی طرح تھی۔ بہت خوبصورت باتیں کیں، یقیناً یہ سب باتیں ان کے آنے والوں کی ویڈیو ان تک پہنچ رہی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام تو دے گا ہی اور جدا ہونیوالے افراد کے لیے ہمیشہ یادوں میں رہیں گی، کیا خوبصورت بات کسی نے کی تھی کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے ہوتے ہیں۔ یہ لکھتے ہوئے ہمیں دکھ ہو رہا ہے کہ رات کے کسی وقت محترم صدیقی کسی سے کچھ کہہ سکیں۔ واصف صاحب نے اچھا لکھا تھا کہ عتیق صدیقی صاحب میں بہت شرمندہ ہوں مجھے تعزیت کرنی نہیں آتی، تعزیت کے لیے لفظ ہی نہیں ملتے مگر جانتا ہوں دکھ کیا ہوتا ہے اور دکھ سہنا کیا ہوتا ہے۔ ہمارا کہنا ہے کہ ہم نے کبھی مرحومہ کو نہیں دیکھا لیکن اتنا کچھ سن کر خواہش ہوئی کہ ہم ان سے مل سکتے۔ نہ معلوم کیوں عتیق صدیقی ہمارے لیے ایسی شخصیت رہے ہیں کہ سیکھنے کو دل چاہتا ہے۔ انہوں نے یہ رسم چہلم شام ملال منعقد کر کے دوسروں کو بھی بتایا ہے کہ ایسا کرنا کتنا سکون کا باعث ہے اور مرحومہ کی عدم موجودگی کو زندہ کر دیا اور اب الفاظ نہیں مل رہے کہ ہم اپنے سادہ الفاظ میں خراج پیش کریں، اللہ تعالیٰ ہمارے محترم عتیق صدیقی کو صبر جمیل عطا کرے۔ وہ باہمت انسان ہیں، انہیں ہم دیکھتے رہے ہیں کہ اپنی بیماری اور مصروفیات بھول کر انہوں نے ہمارے افسانے کے مجموعے کے لیے بہت کم وقت میں جو لکھ کر بھیجا۔ کاش ہمیں معلوم ہوتا کہ وہ کس حالت سے گزر رہے ہیں، ان کے اس رویے نے ہمیں اچھی بات سکھائی ہے کہ اپنی زندگی میں جاری پریشانیوں سے تھوڑا وقت نکال کر دوسروں کے لیے بھی رہو اور اپنے بچوں کو ماں کی کمی کا احساس کم کرتے رہو، جو مرحومہ کے خوبصورت رویے سے کم نہ ہوگا، دعا ہے خدا مرحومہ کی طرح دوسروں کو بھی یہ توفیق دے۔














