سلامت باشید، اردو زبان کی حمایت اور انگریزی زبان کی مخالفت میں واٹس ایپ اور فیس بک پر عموما آپ کی تحریریں نظر سے گزرتی ہیں۔ آپ کی یہ کاوش آپ کی حب الوطنی کی آئینہ دار اور قابلِ صد ستائش ہے ۔ لیکن اگر طبعِ نازک پر ناگوار نہ ہو تو عرض گزار ہوں کہ یہ مادری زبانوں کا نہیں علمی زبانوں کا دور ہے۔ اردو ہماری قومی زبان ہے جس کی ترویج ضروری ہے لیکن یہ سائنسی اور علمی زبان نہیں۔ انگریزی زبان علمی، سائنسی اور بین الاقوامی زبان ہے جس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔پاکستان میں کم و بیش 70 مادری زبانیں ہیں۔ کیا یہ علمی اور سائنسی زبانیں ہیں؟ ہر ترقی یافتہ ملک میں اسکولوں اور کالجوں میں قومی زبان کے ساتھ ساتھ ایک غیر ملکی زبان پڑھائی جاتی ہے۔ پاکستان میں صرف اور صرف انگریزی اور اردو پر توجہ دی جائے۔انگریزی زبان کی حمایت نہ احساسِ برتری ہے نہ ہی احساسِ کمتری۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ انگریزی زبان کی تعلیم کو پرائمری جماعت سے ہی لازمی قرار دیا جائے اور گورنمنٹ کے ہر اسکول میں انگریزی نہ صرف لازمی مضمون ہو بلکہ معیاری اساتذہ کی تقرری کی جائے۔ اسی طرح انگریزی میڈیم اسکولوں کی لوٹ مار سے قوم کو نجات دلائی جا سکتی ہے۔ انگریزی زبان کی مخالفت کرنا سورج کو چراغ دکھانے اور حقائق سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔ اردو زبان کے بڑے شاعر ڈاکٹر علامہ اقبال، فیض احمد فیض، اور فراق گورکھپوری بھی تو نامور انگریزی دان تھے۔ یہ بند حقیر و پر تقصیر بھی تو انگریزی ادبیات کا پروفیسر اور انگریزی میں چند کتابوں کا مصنف ہے جس کی چمنستانِ اردو کی آبیاری میں بھی کچھ نہ کچھ حصہ ہے جس کی اردو شاعری کو جوش ملیح آبادی، سید ضمیر جعفری، احمد فراز، ڈاکٹر جاوید اقبال اور افتخار عارف نے سراہا ہے۔ انگریزی زبان نے میرا کچھ بھی نہیں بگاڑا بلکہ وسعتِ نظر عطا کی ہے۔
٭٭٭















