پاکستان میں دہشتگردی کے ذمہ داران !!!

0
8
رمضان رانا
رمضان رانا

اگرچہ پاکستان کی پچاس ،ساٹھ، ستر کی دہائیوں میں گورنر جنرلوں فوجی جنرلوں کی بزور طاقت قبضوں اور غلبوں کا سلسلہ جاری رہا مگر موجودہ دہشت گردی کا کوئی عنصر نہیں پایا گیا تھا حالانکہ بنگال میں فوجی آپریشن کی وجہ سے بنگالی عوام میں شدید غم وغصہ پیدا ہوا۔ جو ان پر ظلم وستم کا نتیجہ تھا کہ انہیں انتخابات کے بعد اقتدار سے محروم رکھنے پر آخر کار علیحدگی کا قدم اٹھانا پڑا ورنہ قبل ازیں بنگال میں بھی کبھی دہشت گردی جیسی لعنت نہیں پائی گئی تھی بنگالی قیادت شیخ مجیب اور مولانا بھاشانی نے اسلحہ اٹھانے کا اعلان نہیں کیا تھا پاکستان میں دہشت گردی کا جنرل ضیا دور بربریت میں سرکاری طور پر بھٹو شہید کا تختہ الٹا کر افغان جہاد یا فساد کے نام آغاز کیا گیا جب امریکہ پرانی جنگ کو ایک مقدس نام جہاد دیا گیا جو آہستہ آہستہ ایسا فساد بن گیا کہ آج جس کی زد میں پاکستان افغانستان ترکی ایران شام اور عراق آیا ہوا ہے جس کے محرکین کو غیر ملکی سامراجی طاقتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے جو مجوزہ ملکوں میں معصوم اور بے گناہ شہریوں کو ہر طرح کی دہشت گردی سے لہولہان کرتے نظر آتے ہیں مگر یہ داعش، القائدہ، آئی ایس آئی ایس وغیرہ کشمیر اور فلسطین میں کس لڑی نظر نہیں اتی جس سے صاف ظاہر ہے ان دہشت گرد گروہوں کو ایک ایسی طاقت کی حمایت حاصل ہے۔ جس کے قبضے میں امریکہ اور برطانیہ جیسی طاقتیں جھکڑی ہوئی ہیں۔ تاہم پاکستان میں مسلسل دہشت گردی کے ذمہ داران پاکستان کے جنرلوں دشمن جنرلوں کا ٹولہ ہے جنہوں نے امریکی پرواکسی وار افغان جہاد یا فساد یا پھر امریکی دہشت گردی کی جنگ میں ملوث کے علاوہ افغانوں کے ساتھ کھیلتے کودنے جنرل طبقہ دیکھا گیا ہے جنہوں نے پاکستان کو تباہ وبرباد کردیا جن کے خواب میں کسی کسی سلطنیت، خلافت، ملوکیت، یا امریت نافذ کرنے کا منصوبہ تھا جو بری طرح فیل ہوگیا مگر اس کے لگائے ہوئے پودے اب زہر آلود کڑوے پھل دے رہے ہیں جن کو جب تک جڑ سے اکھاڑ کر چلا پائیں جائیگا تب تک پاکستان دہشت گردی کی زد میں پھنسا رہے گا۔ بہرکیف بھارت اور افغانستان دونوں مشرک اور منافق مل کر پاکستان کے وجود کو تہس نہس کر رہے ہیں جن کے ساتھ پاکستان کی بعض گروہ بھی ملے ہوئے ہیں جن کو بھی غیر ملکی واحد طاقت جو طاقتوں کی طاقت کہلاتی ہے۔ جس کے برطانیہ، امریکہ، فرانس، جرمن جوتے پالش کرتے نظر آتے ہیں اس کا پاکستان کے بعض گروہوں پر قبضہ ہے جو آج بیرون ملک سوشل میڈیا کی شکل میں نظر آرہے ہیں۔ جو بھارت اور افغانستان کی پیدا کردہ دہشت گردی کی کھل کر حمایت کر رہے ہیں جس کو پوری پاکستان کی عوام دیکھ رہی ہے۔ یہ وہ لوگک ہیں جو بیرون ملک میں ایک عالی شان زندگی گزار رہے ہیں جن کے پاس صرف ایک ایجنڈا ہے کہ پاکستان کو بکھیر دیا جائے لہذا ایسے لوگوں کو بھی اسی طرح کوئی مطمئن نہیں ہے جس طرح صہونیت پسندوں کا کوئی وطن نہیں ہے۔ بہرحال پاکستان گزشتہ مئی کا مہینہ نقصان دہ اور فائدہ مند رہا ہے۔ جب 9 مئی کو پاکستان کی فوج کے اداروں پر باقاعدہ مسلحہ حملہ ہوا جس کی حکومت خاموشی سے ٹال گئی ہے تاکہ دنیا میں رسوائی نہ ہو جس میں پاکستان کی فوج تقسیم ہوچکی ہے جو اپنے اتحادی جھتوں سے فوجی بیرکوں تنصیباتوں، ہیڈکوارٹروں، یادگاروں چھائونیوں پر حملہ ہوا مگر کسی بھی بغاوت کا مقدمہ نہ بنا۔ پھر ایک سال بعد مئی میں بھارت کے حملے کا منہ توڑ جواب دیا گیا جس سے پاکستانی قوم کو زندہ رہنے کا موقع ملا جس کو موجودہ دہشت گردوں نے زیرو کردیا ہے کہ جن کے پاس خودکشی جیسا حربہ ہے جو وہ جس وقت اور یہاں چاہیں استعمال کرسکتے ہیں جس پر پاکستانی حکمرانوں کو بھارت بمبئی حملوں اور امریکہ نان الیون، برطانوی ٹرین حملوں سے سیکھنا چاہیے کہ ان ملکوں نے کس طرح دہشت گردی پر قابو پایا ہے جس میں کوئی مصالحت اور مذاکرات نہیں پائے گئے ہیں۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here