پاکستان ایک بار پھر بھارتی تعاون سے سرگرم دہشت گردوں کا ہدف بنا ہوا ہے ۔ملک ایسے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں میدانِ جنگ صرف بارودی دھماکوں یا خودکش حملوں تک محدود نہیں رہا بلکہ بیانیے، سیاست، سفارت کاری اور قومی یکجہتی بھی اس جنگ کے اہم محاذ بن چکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں ہونے والے خودکش حملے، اس کے بعد ہونے والی گرفتاریاں اور حکومتی بیانات نے ایک بار پھر اس سوال کو نمایاں کر دیا ہے کہ دہشت گردی کی موجودہ لہر کی نوعیت کیا ہے اور اس کا مقابلہ کس حکمتِ عملی سے کیا جا سکتا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ دہشت گردی کے بعض نیٹ ورک افغانستان کی سرزمین سے آپریٹ ہو رہے ہیں اور انہیں بیرونی مالی معاونت حاصل ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردوں کی فنڈنگ میں اضافہ ہوا ہے اور ہر حملے کے لیے ادائیگیاں پہلے کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ جمعہ کواگرچہ ایک بڑا حملہ ہوا، لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے متعدد حملوں کو ناکام بنانے میں کامیاب رہے ہیں اور یہ کہ پاکستان اس وقت دہشت گردی کے خلاف حالتِ جنگ میں ہے۔ اسلام آباد حملے کی تحقیقات میں افغان نژاد مبینہ ماسٹر مائنڈ اور سہولت کاروں کی گرفتاری کو سکیورٹی ادارے ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس کارروائی میں ایک پولیس اہلکار کی شہادت بھی ہوئی، جو اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ محض بیانات نہیں بلکہ عملی قربانیوں کا تقاضا کرتی ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے کو داخلی سیاسی پالیسیوں سے جوڑتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ماضی کی بعض حکمت عملیوں نے شدت پسند عناصر کو تقویت دی۔ اس بیان کے بعد سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا اور اپوزیشن جماعتوں نے اسے سیاسی الزام تراشی قرار دیا۔ یہاں اصل سوال یہ ہے کہ کیا دہشت گردی جیسے قومی المیے کو سیاسی بیانیے کا حصہ بنایا جانا چاہیے؟ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاقِ رائے کمزور ہوا، دشمن قوتوں کو فائدہ پہنچا۔ دہشت گردی نہ کسی ایک حکومت کا مسئلہ ہے اور نہ کسی ایک سیاسی جماعت کی پالیسی کا نتیجہ۔ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کی جڑیں علاقائی سیاست، عالمی طاقتوں کے مفادات، سرحدی عدم استحکام اور داخلی کمزوریوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال نے خطے کی سکیورٹی کو متاثر کیا ہے۔ مختلف عالمی اور مقامی رپورٹس اس امر کی نشاندہی کرتی رہی ہیں کہ شدت پسند گروہ سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، جس سے پاکستان کی داخلی سلامتی کو مسلسل خطرات لاحق رہتے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے الزامات کو عالمی سطح پر موثر سفارتی حکمت عملی کے ذریعے پیش کیا جائے تاکہ پاکستان کا موقف محض داخلی بیانیہ نہ رہے بلکہ قابلِ قبول ثبوتوں کے ساتھ عالمی رائے عامہ تک پہنچ سکے۔بھارت کئی برس تک پاکستان کے خلاف ایف اے ٹی ایف کے فورم کو استعمال کرتا رہا ہے، پاکستان میں کھیلوں کی سرگرمیاں بھارت کی ایسی ہی سازش کے باعث بند رہیں۔اب حکومتکی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی اداروں کو بھارت کی کارروائیوں سے آگاہ کرے اور اس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرے۔ دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاستی ادارے خطرے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ کراچی سے پشاور تک کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ جنگ صرف کسی ایک علاقے تک محدود نہیں رہی بلکہ قومی سلامتی کا ہمہ جہت چیلنج بن چکی ہے۔ تاہم عسکری اور انٹیلی جنس کامیابیاں تبھی دیرپا نتائج دے سکتی ہیں جب ان کے ساتھ سیاسی استحکام اور سماجی ہم آہنگی بھی موجود ہو۔بدقسمتی سے پاکستان میں دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد سیاسی الزام تراشی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف قومی بیانیہ کمزور ہوتا ہے بلکہ دشمن عناصر کو یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ پاکستانی معاشرہ اندرونی تقسیم کا شکار ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے بجائے قومی بقا کے مسئلے کے طور پر دیکھا جائے۔ ایک اور اہم پہلو عوامی شمولیت کا ہے۔ وزیر داخلہ کی یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ شہریوں کی بروقت اطلاع اور تعاون دہشت گردی کی روک تھام میں موثر ثابت ہو سکتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف سکیورٹی اداروں کی وجہ سے نہیں بلکہ عوامی اعتماد اور تعاون کے باعث ممکن ہوئی۔ پاکستان میں بھی یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ امن صرف ریاستی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق سے نہیں جیتی جاتی۔ یہ جنگ بیانیے، انصاف، معاشی استحکام اور سیاسی بلوغت سے جیتی جاتی ہے۔ اگر داخلی تقسیم کمزور ہو اور قومی اتفاقِ رائے مضبوط، تو بیرونی خطرات خود بخود محدود ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کو اس وقت اسی دانشمندانہ راستے کی ضرورت ہے جہاں سیاسی اختلاف اپنی جگہ موجود رہے مگر قومی سلامتی پر کوئی اختلاف نہ ہو۔یہ وقت الزام تراشی کا نہیں بلکہ اجتماعی بصیرت کا ہے۔ کیونکہ دہشت گردی کا ہدف صرف ریاست نہیں بلکہ معاشرے کا اعتماد، شہریوں کا سکون اور مستقبل کی امید ہوتی ہے اور ان کا دفاع پوری قوم کو مل کر کرنا ہوتا ہے۔
٭٭٭












