”ناجائز اولاد”

0
6
شبیر گُل

انتہائی افسوس کا مقام ھے کہ ایک طرف بم دھماکوں میں معصوم لوگوں کا خون بہہ رہا ھے ۔مساجد میں بچے اور جوان دہشتگردوں کی وحشت کا نشانہ بن رہے ھیں ۔ساٹھ نمازیوں کے لاشے اٹھائے جاتے ھیں ۔اور دوسری طرف پنجاب کی بے حس حکمران بسنت جیسے تہوار پر بے تہاشا پیسے کا ضیاع کیا جارہا ھے۔بیحثیت انسان ھمیں اس سانخہ پر بسنت جیسی بیہودگی زیب نہیں دیتی ۔ ملکی ثقافت کا تو پتہ نہیں ۔البتہ سوگ کے ماحول میں میڈیم وزیراعلی نے پٹواریوں کی ثقافت کو بہت فروغ دیا۔ کسی کو عورتیں نچوانے کے طعنے مارنے والوں نے اپنی عورتوں کو نچوا نچوا کر اندر کی غیرت کو عیاں کردیا۔جمعہ کی نماز میں اسلام باد کی مسجد خودکش حملہ میں لہو لہو۔ داعش کا جہنمی کتا اور مودی کی ناجائز اولاد نے یہ سفاکیت انجام دی۔ ابوجہل کی نسل کے کتوں نے اللہ کے گھر جمعہ کے دن حالت نماز میں درندگی کا مظاہرہ کیا۔ یہ لوگ نہ تو انسان ھیں اور نہ ہی مسلمان۔ جو اللہ کے گھر میں نمازیوں کو نشانہ بناتے ھیں۔ انہیں سپورٹ کرنے والے سہولتکاروں کا بھی دین اسلام اور انسانیت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ سر کے بچے ، ہندوں کے ناجائز اولاد ھیں۔ یہودیوں کے ناجائز بچے ھیں ۔ مودی اور نیتن یاہو کی ناجائز اولادیں ھیں۔ ہمیں انتہائی سنجیدگی سے سوچنا ھوگا کہ یہ دہشتگرد کیسے پاکستان میں گھستے ھیں۔ کیسے اتنا بڑا اسلحہ لیکر آتے ھیں۔ یہ خودکش کیسے دندناتے پھرتے ھیں۔ سیکورٹی اداروں کے ذمہ داران کو سرحدوں پر سمگلنگ کی بجائے عوام کی خفاظت کو فوقیت دینی چاہئے۔ سیکورٹی ادارے اگر سیاسی گندگی سے باہر آئیں تو ان دہشتگرد عناصر پر نظر رکھیں۔ ؟ ان سفاک درندوں کے ٹریننگ کیمپوں کو تباہ کرنا ھوگا۔ طالبان کو عبرتناک سبق سکھانا ھوگا۔ اگر پاکستان پر افغانستان سے حملہ ھوتا ھے تو ہمیں کراس بارڈر جواب دینا فرض ھے۔کابل ،قندھار ،پکتیا،کنڑ اور ہلمند کے ٹریننگ کیمپوں کو ملیامیٹ کرنا ھوگا۔کیا وجہ ھے ،کہ ھم افغانستان کے معاملہ میں خاموش ھیں۔ ؟بے ایل اے، مجید برگیڈ، ٹی ٹی پی، را اور موساد کے تربیت یافتہ افغانستان سے آپریٹ ھوتے ھیں ۔ پاکستان کو انکا قلع قمع کرنا چاہئے۔ بلوچستان کی صورتحال بہتر ھونے پر ھمیں مقبوضہ کشمیر میں را کے سرپرستوں سے بدلہ لینا چاہئے۔ ایسے محسوس ھوتا ھے کہ پاکستان افغانستان کے معاملہ پر تنہائی کا شکار ھے ۔ عرب ممالک کی حمایت سے محروم ھے ۔ دو عرب ممالک دوبئی اور قطر ھماری پیٹھ میں چھرا گھونپ رہے ھیں ان سے کھل کر بات کرنا چاہئے۔بے ایل اے ، ٹی ٹی پی کے خاتمہ کے لئے افغانستان سے ان دہشتگردوں کی سپلائی لائن ختم کرنا ھوگی۔ انکے ٹھکانوں کو نیست ونابود کرنا ھوگا۔ پاکستان کو اپنے مسل شو کرنا ھونگے۔ ٹریڈ یا بارڈر بند کرنے سے دہشتگردی میں کوئی فرق نہیں پڑا۔انہیں سبق سکھانا ھوگا۔ایک دھماکے کا جواب دس دھماکوں سے دینا چاہئے۔ ایک حملہ کے جواب میں دس جگہوں کو ٹارگٹ کرنا چاہئے تاکہ دشمن کی ناپاک سازشوں کو نیست ونابود کیا جاسکے۔ ایران کے بارڈر کو مکمل سیل کرنا چاہئے۔ ایران سے دوستی کو مضبوط کرنا چاہئے۔تاجکستان کے بارڈر کو مکمل سیل کرنا چاہئے۔ افغان بارڈر کو مکمل سیل کرنا چاہئے۔ کسی بھی حرکت کی صورت میں فوری ختم کرنے کاحکم صادر کرنا چاہئے۔ ھماری بدقسمتی ھے کہ کبھی ن لیگ ۔کبھی پیپلز پارٹی ۔ کبھی ایم کیو ایم اور کبھی پی ٹی آئی کے بعض عناصر جو مودی کی ناجائز اولاد ھونے کا شرف رکھتے ھیں ۔ یہ انتہائی نجس اور پلید لوگ ھیں ۔ جنکا ایمان اقتدار ھے۔ اقتدار نہیں تو ملک سے غداری اور بیووفائی۔ کبھی کوئی انڈین ٹینکوں پر بیٹھ کر آنے کی بات کرتا ھے۔ کوئی پاکستان میں دفن ھونا پسند نہیں کرتا۔ کوئی کارگل کی فتح کو شکست میں تبدیل کرتا ھے۔ کوئی را سے دہشتگردی کی تربیت لیتا ھے اور کوئی جناح پور بنانے کی سازش کرتا ھے۔ کوئی یہودیوں کے ہاتھوں کھلونا بنتاھے۔ عقل حیران ھے کہ پاکستانی قوم ان گھنانے چہروں کو بھول کیوں جاتی ھے۔؟ انکے کرتوتوں اور بیانات کو بھول جاتی ھے۔انکی غداریوں ، بدکاریوں کو بھول جاتی ھے۔ ؟ یہی تو وہ عناصر ھیں جن کے ہاتھ میں زمام کار ھیں۔
اقتدار میں ھوں تو ان سے بڑا نہ کوئی محب وطن اور نہ ہی ملک کا خیر خواہ۔ اقتدار سے ہٹتے ھی پاکستان کو اور افواج پاکستان کو گالیاں ،پاکستان کے خلاف سازشوں میں بھارت کے آلہ کار بن جاتے ھیں ۔عوام الناس کو انکی بداعمالیوں کا پتہ ھونا چاہئے ۔ یہ وہ قومی درندے اور اقتدار کے بھوکے خونخوار کتے ھیں ، جو اپنے ہی گھرکو نوچتے ھیں۔غیرت سے عاری جرنیل ،جنہیں روزانہ ماں بہن کی گالیاں پڑتی ھیں ۔ وہی جرنیل انکے پشت بان ھیں۔یہ ان ملک دشمنوں ۔مودی کے یاروں اور حرامخوروں کو قوم پر مسلط کرتے ھیں ۔عوامی مینڈیٹ اور الیکشن کے رزلٹ کو تبدیل کرتے ھیں ۔ان بدکاروں کو باربار ملک پر مسلط کرتے ھیں۔جنہوں نے گذشتہ پچاس سال سے اس ملک کا بیڑا غرق کیا ھے۔ سیاسی لیڈروں نے جرنیل اور اور جرنیلوں نے پارٹیاں بانٹ رکھی ھیں ۔ ہر دور میں کسی جرنیل کے بوٹ پالش ن لیگ اور پی پی پی کرتی ھے۔ کسی کے پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم ۔ کسی کے فضل الرحمن اور اے این پی کرتے آئے ھیں ۔ لیکن یہ بوٹ پالشیئے ، عوام دشمن گماشتے جمہوری لیڈر کہلاتے ھیں۔ نہ انکی پارٹیوں میں جمہوریت اور نہ انکا عوام سے کوئی تعلق۔ یہ جانوروں کے گروہ ھیں۔ جانوروں کی اس ریس میں جرنیل چوہدری بنے بیٹھے ھیں ۔ ملک کو باہر سے کم اندر سے زیادہ خطرات ھیں ، آئین توڑنے والے جرنیلوں سے خطرات ھیں۔جو چوروں، قاتلوں ،اور معاشی دہشتگردوں کو عوام پر مسلط کرتے ھیں۔ یہ جرنیل اور جج اپنا دور ختم ھوتے ھی ملک سے بھاگ جاتے ھیں ۔ چھپ کر بقیہ زندگی گزارتے ھیں بیرون ملک ہی مر کھپ جاتے ھیں ۔کسی پبلک مقام پر دکھائی نہیں دیتے ۔ زندگی کی تمام عیاشیوں ،لوٹ مار ، بڑی بڑی جائدادوں اور سیکورٹی کے باوجود زندگی سسک سسک کر گزارتے ھیں ۔لعنت ھو ایسے عہدوں، تمغوں اور منصب پر ،کہ جب آپ چوہوں کی طرح بزدلی کی زندگی گزارتے ھوں ۔انکی مکروہ شکل پر لوگ لعنت بھیجتے ھوں۔
یہی معاشرے کا وہ ناسور ھے جنہوں نے بانیان پاکستان کی روحوں کو تڑپایا ھے۔قوم سے دھوکہ اور بیوفائی کی ھے ۔ ملک کی جڑیں کھوکھلی کی ھیں ۔سسٹم کو پرگنداہ کیا ھے ۔
انکی زندگی اور انکے کے مرنے کے بعد بھی ان پر مظلوموں کی آہییں ،بددعائیں اور لعنتیں برستی ھیں ۔ چونکہ ملک و قوم پر بدکار مافیا کو مسلط کرنے والے ظالم درندے یہی ھیں ۔
یہ مودی کی ناجائز اولادیں ھیں ۔ پاکستان کو بالواسطہ یا بلاواسطہ نقصان پہنچانے کے جرم میں شامل ھیں ۔ انہوں نے ملک کے ساتھ وہ کام کیا ھے جو دشمن چاہتا ھے۔
پاکستان میں دہشگردی کا جو کھیل بھارت ، اسرائیل، امریکہ اور افغانستان کھیل رہے ھیں ۔ وہی کھیل کرپٹ اور ملک دشمن مافیا کو ملک پر مسلط کرکے کھیل رہے ھیں۔ دہشت وحشت کا یہ کھیل جرنیل کھیل رہے ھیں۔ آئین پاکستان کو پامال کررہے ھیں ۔کبھی بھٹو کو پالتے ھیں اور کبھی نواز شریف کو۔ کبھی عمران خان کو پالتے ھیں اور کبھی الطاف حسین کو۔
اگر قوم ایمانداری سے سوچے اور انکی کے کرتوتوں کا جائزہ لے تو انہیں خود ہی اندازہ ھوسکتا ھے کہ یہ لوگ مملکت خداداد کے
وفادار نہیں ھیں ۔
قوم کو ہر چند سال بعد ہپناٹائز کردیا جاتا ھے۔ عوام کے دماغ کی شریانیں بند ھوجاتی ھیں ۔ نہ یہ سوچتے ھیں اور نہ ہی شعور کا استعمال کرتے ھیں ۔ بھیڑ چال اور لکیر کے فقیر نظر آتے ھیں ۔ قوم کی بدنصیبی ھے کہ تین بار نواز شریف دو بار شہباز شریف ۔ چار بار پیپلز پارٹی اقتدار میں رہی اور اب کہتے کہ آئندہ موقع ملا تو ملک کی تقدیر بدل دینگے ۔ زرا سوچیئے! اور غور کیجئے ۔ ان مکاروں اور بدکاروں کی منافقتیں اگر آپ پر عیاں ھوں۔کہ اقتدار کے بھوکے شریف خاندان کا کوئی شخص بھی گذشتہ چار سال سے بیمار نہیں ھوا۔
آصف زرداری لوگوں کے سہارے سے چلتا ھے اور ملک کا صدر ھے۔ یہ فراڈیوں کے وہ گروہ ھیں جنہوں نے اس ملک کو آئی ایم ایف کی غلامی میں دیا ھے۔
ملک پر پچاس سال سے دونوں خاندان حکمران ھیں ۔ ھمارا نظام تعلیم افریقہ سے بھی بدتر ھے۔نظام صحت میں ھم بنگلہ دیش اور نیپال سے بھی پیچھے ھیں۔ مہنگائی کا یہ عالم ھے کہ سرحد کے اس طرف پیاز اور ٹماٹر دوسو روپے کلو ۔ ایک کلو میٹر دور سرحد کے اس پار یہی ٹماٹر اور پیاز تیس روپے کلو۔ وہی زمین ، حالانکہ پاکستان زرعی ملک ھے۔نہ گندم میسر اور نہ ہی چاول ۔ سینکڑوں شوگر ملیں ۔ ہزاروں فلور ملیں ، یہ آٹا، چینی اور چاول سمگل ھوکر افغانستان ، اور ایران پہنچتا ھے۔ دوبئی کے راستے واپس دس گنا قیمت پر ہمیں ملتا ھے۔ پھر آپ کہیں کہ جرنیلوں اور حکمرانوں پر تنقید نہ کریں۔ یہی سرحدوں کے مخافظ ہیں جہاں سے سمگلنگ ھوتی ھے۔ یہی حکمران ھیں جو شوگر اور فلور ملوں کے مالکان ھیں۔ جو عوام کو سادگی کابھاشن دیتے ھیں اور خزانہ پر شب خون مارتے ھیں۔کوئی تقاریر میں قرآن کی آیات سناتا ھے ۔ کوئی اسلامء جمہوری ھونے کا ۔کوئی ریاست مدینہ کا دعوی کرتا ھے۔کوئی فلاحی مملکت کا دعوے دار۔
انہوں نے عوام کو بیووقوف بنا رکھا ھے ۔ ان سیاستدانوں نے احتجاجی سیاست اور اقربا پروری کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔
چودہ سال خیبر پختون خواہ میں پی ٹی آئی برسراقتدار ھے ۔ جس نے عوام کو بدتہذیبی ، بے حیائی اور گالم گلوچ کا شعور دیا ھے۔ تیس سال سے قاتل اور دہشتگرد ایم کیو ایم کراچی اور حیدرآباد کے اقتدار میں ھے ۔ کراچی کا حال آپکے سامنے ھے۔ سندھ اور ان صوبوں کا حال قابل رحم ھے ۔ بے شرم عوام مسائل کا رونا بھی روتے ھیں پھر انہی جانوروں کو ووٹ دیں تو پھر ان لوگوں کی عقل کا ماتم ھی کیا جاسکتا ھے ۔ ہر آنے والا جرنیل کبھی نواز شریف ،کبھی بینظر ، کبھی زرداری ،کبھی ایم کیو ایم اور کبھی پی ٹی آئی کو ملک دشمن پارٹی کہتا ھے۔ اور پھر انہی درندوں کو دست شفقت بھی عنایت کرتا ھے ۔ حالانکہ بیووقوف عوام جانتے ھیں کہ (کتی چوراں نال ملی دی اے)پھر بھی صم بکم نظر آتے ھیں۔
چند دن بعد رمضان بازار کا ڈھونگ رچایا جائے گا ۔ جہاں دو نمبر ،بوگس اور غیر معیاری چیزیں دستیاب ھونگی۔
جو چیز آج پچاس روپے کی ھے ۔ رمضان المبارک میں وہی چیز ڈیڑھ سو کی بھی نہیں ملے گی۔ چور بازاری، ذاخیرہ اندوزی کرنے والے مساجد میں پہلی صفوں میں نظر آئینگے۔ آخری عشرہ میں عمرہ کی سعادت حاصل کرینگے۔
جب حکمران ، ججز اور جرنیل بے انصاف، بددیانت اور کرپٹ ھونگے تو عام عوام پر انکے اثرات نظر آئنگے۔
خدارا ! اس ملک پر رحم کریں ۔ عوام پر ترس کھائیں۔ خوف خدا پیدا کریں۔ اللہ کے خضور پیشی کا ادراک کریں۔ کوئی شخص کچھ بھی ساتھ لیکر نہیں جائے گا۔ کفن کو کوئی جیب نہیں ھوا کرتی۔ ۔ قبر میں اندھیرا اور جہنم کی تپش ہر اس کا مقدر ھوگی جس نے مخلوق خدا کے ساتھ ظلم کیا ھے ۔معاشرتی ناانصافی کی ۔اللہ کے بندوں پر زندگی تنگ کی ھے۔ وہ تمام لوگ جنہم کا ایندھن ھونگے۔ یہ عہدے ، یہ منصب، یہ وزارتیں کسی کام نہیں آئینگی۔ حکمرانوں کی سنجیدگی کا یہ عالم ھے کہ اتنے بڑے سانحہ پر بسنت جاری رہی ۔
اربوں روپے فضول میں اڑا دئیے گئے۔ اس بے حیائی کا یہ موقع نہیں تھا۔
قارئین کرام ! زندگی انتہائی مختصر اور سانسیں غیر یقنی۔ اس لئے ھم اپنی عاقبت کے لئے اپنے حصے کی شمع ضرور جلائیں۔اپنے ووٹ کا استعمال سوچ سمجھ کر کریں ۔ملک میں صرف ایک سنجیدہ جماعت ھے ۔ جماعت اسلامی ہی ایسی جماعت ھے جو ان مسائل کا حل ھے۔ کرپشن اور مہنگائی کا ۔بے انصافی ،ظلم ،کرپشن کا حل صرف جماعت اسلامی ھے۔ملک میں خالص اور نظریاتی جمہوریت کا واحد حل جماعت اسلامی ھے ۔ خدارا! ایکبار جماعت اسلامی پر بھروسہ کیجئے۔ جو خدمت خلق میں قوم کے ساتھ کھڑی ھے۔ اس لئے اپنے ووٹ کی قدر کیجئے ۔ چوروں اور فتنوں کی بجائے ووٹ جماعت اسلامی کو دیجئے۔
تاکہ ملک پر دیانت وایمان کے اہل افراد عوامی امنگوں کو پورا کرسکیں ۔ کالم کے آخر میں میری گزارش ھے کہ اپنے غریب رشتہ داروں کا ضرور خیال رکھیں۔اللہ رب العزت نے آپ کو نوازا ھے تو رشتہ داروں سے نظریں مت چرایں۔ صلہ رحمی کے رشتوں کے ساتھ بریڈ شئیر کریں۔انکی سفید پوشی کا بھرم رکھیں ۔رمضان المبارک کے مقدس مہینہ کی آمد ھے۔اپنے رشتہ داروں اور گردونواع میں ضرورتمندوں کا خیال رکھیں۔ یہ دولت، منصب آنی جانی چیزیں ھیں ۔اپنی آخرت کا سامان کریں۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علی وسلم نے فرمایا ۔ لوگوں کے لئے آسانی پیدا کرو کرو، تنگی پیدا نہ کرو۔ لوگوں کو تسلی اور تشفی دو ،نفرت نہ دلا ۔(صیح البخاری)
آج ھم ایک دوسرے سے نفرت کرتے ھیں ۔ حسد اور بغض کرتے ھیں ۔
اللہ بارک ھماری کوتاہیوں، ھماری لغزشوں کو معاف فرمائے ۔ اللہ رب العزت ھمارے گھروں پر اپنی رحمتوں کا سایہ فرمائے۔ ھم سب کے بچوں کی ، فیملی کی خفاظت فرمائے۔ وطن عزیز پاکستان کی خفاظت فرمائے۔ فلسطینیوں اور کشمیریوں کی خفاظت فرمائے آمین
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here