عزیز تر وہ مجھے رکھتا تھا رگ جان سے
یہ بات سچ ہے میرا باپ کم نہ تھا ماں سے
امریکہ، یورپ اور دنیا بھر میں جون کے تیسرے ہفتہ میں فادرز ڈے منایا جاتا ہے۔ باپ وہ ہستی ہے جس کا خون ہماری رگوں میں دوڑ رہا ہوتا ہے اور جس کی تمام خوشیاں اپنی اولاد سے منسلک ہوتی ہیں۔ جس کے دن کا آغاز اور اختتام اولاد کی بہتر پرورش کے حصول پر ہوتا ہے، زندگی کے سبھی راستے اسی عظیم شخصیت سے ہو کر گزرتے ہیں۔ کیا کبھی ہم نے سوچا کہ جو ہمیں بچپن میں ہوا میں اچھالتا ہے تو ہم خوف سے رونے کے بجائے لطف اندوز ہوتے ہیں؟ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ یہ توانا بازو ہمیں سنبھال لیں گے اور گرنے نہیں دیں گے۔ یقیناً یہ تحفظ میں جکڑنے والے بازو ہمارے والد کے ہوتے ہیں۔ یاد ہے جب پہلی بار ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں ابا یا ڈیڈی بولا تو کیسے ان کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا تھا۔ وہ ابو جان ہی تھے جنہوں نے زندگی کے پہلے اٹھتے قدموں کو اپنے مضبوط پیروں پر رکھ کر ہمارے ننھے ننھے ہاتھ تھام کر یوں چلنا سکھایا کہ زندگی میں اعتماد سے چلنے کا حوصلہ مل گیا۔
یہ ہمارے باپ ہی تو ہیں جو دن بھر تھکے بدن کے ساتھ جب گھر لوٹتے ہیں تو ہماری خوشی کی خاطر کبھی بازوؤں میں لے کر جھولا جھلاتے اور چکر دلاتے، تو کبھی کندھے پر بٹھا کر خوب گھماتے، تو کبھی گھوڑا بن کر کمر پر بٹھاتے اور کبھی ریل گاڑی کا انجن بن جاتے ہیں۔ یہ وہی بابا جانی ہیں جو کبھی سائیکل چلانا سکھاتے ہیں تو کبھی ریسلنگ اور باکسنگ میں دانستہ ناک آؤٹ ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ پاپا ہیں جو ہمارے ساتھ کرکٹ کھیلتے ہوئے چوکا لگاتے ہیں تو کبھی فٹ بال کھیل کر گول کرتے ہیں اور کبھی ہمارے ساتھ رنگ برنگی پتنگیں اڑاتے ہیں۔ وہی بابا جانی جو ڈھیروں ڈھیر غبارے پھلاتے ہیں، کبھی گڑیا کا گھر بنانے میں مدد کر رہے ہوتے ہیں تو کبھی گڈے گڑیا کی شادی میں حصہ لے رہے ہوتے ہیں۔ کبھی ہمارے ساتھ چھپن چھپائی تو کبھی آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے میز کے نیچے چھپنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں اور کبھی لیڈو اور کیرم کھیلتے ہوئے جان بوجھ کر ہم سے ہار رہے ہوتے ہیں۔ وہی ابو جان جو اسکول سے انگلی پکڑ کر ساتھ چلتے ہیں۔
ہر معاشرہ اور مذہب میں والدین کو ایک مقام اور مرتبہ حاصل ہے۔ معاشرہ میں ماں کا کوئی جواب نہیں لیکن والد کا بھی کوئی نعم البدل نہیں۔ بچوں کی سالگرہ ہو یا گریجوئیشن، بچوں کے ساتھ ناشتہ ہو یا ڈنر، یہ شخصیت ہر وقت حاضر رہتی ہے۔ اسے اپنی سالگرہ یا فادرز ڈے سے کوئی غرض نہیں ہوتی کیونکہ وہ فیملی اور بچوں کی خوشیوں کے لئے اپنی خوشیاں اور لمحات قربان کرتا ہے۔ اسی لئے اس کا نام باپ ہے جو دھوپ، بارش، گرمی اور سردی میں بچوں کا سائبان ہے۔ اللہ رب العزت نے اسے صرف فیملی کی خدمت کے لئے پیدا کیا ہے۔ یہ کسی بھی معاشرے یا کلچر میں ہو اس کا کردار ہر جگہ ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ اس عظیم ہستی کا نام باپ ہے جو بے انتہا پیار کرنے والا ہے۔ باپ ساری زندگی بیٹیوں کے جہیز اور بیٹوں کی خواہشات پوری کرنے میں گزار دیتا ہے۔ یہ وہ عظیم ہستی ہے جو صبح سے شام تک بچوں کیلئے خوشیاں اور آسانیاں سمیٹنے میں گزار دیتا ہے۔ وہ تھکن سے چور گھر لوٹتا ہے، اپنی تھکن اور دن میں گزرے ہوئے گرم و سرد موسم کا گلہ نہیں کرتا، اپنی جاب پر باس کی جھڑکیوں یا دن میں پیش آنے والے نرم و سخت رویوں کا تذکرہ نہیں کرتا۔ وہ بچوں کی خاطر حالات کے تھپیڑے سہتا ہے۔ بچوں کی جنت اور گھر کی ملکہ اسی شخصیت کی وجہ سے معتبر ہے جو اس ملکہ اور بچوں کی چھت ہے۔ بچے جب باپ کے ساتھ چلتے ہیں تو فخر محسوس کرتے ہیں اور اپنا قد اونچا محسوس کرتے ہیں۔ باپ بیشک مزدور ہو یا خاکروب، وہ بچوں کا ہیرو اور وقار ہوا کرتا ہے۔ خاندان کے لیے ایک سائبان، شفیق رہنما اور خاموش محافظ ہوتا ہے۔
والدین اولاد کے بہتر مستقبل کے لیے اپنی خوشیاں قربان کر دیتے ہیں جن کی شفقت اور قربانیاں الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتیں۔ والد کی اہمیت اور کردار کو ان کی محنت اور لگن سے سمجھا جا سکتا ہے۔ والد دن رات محنت کر کے حلال رزق کماتے ہیں تاکہ بچوں کو ہر قسم کی آسائش اور معیاری تعلیم میسر آ سکے۔ تربیت اور رہنمائی میں وہ کوئی کسر نہیں چھوڑتے، وہ بچوں کو زندگی کے نشیب و فراز کا سامنا کرنا سکھاتے ہیں اور بہترین اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں۔ والد اپنی ضروریات کو پس پشت ڈال کر ہمیشہ بچوں کی خواہشات کو ترجیح دیتے ہیں۔ اولاد کا فرض ہے کہ وہ ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں اور ایک اچھے و کامیاب انسان کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے والد کی قدر کرے۔ ہمیں چاہیے کہ ان کی ہر بات ادب اور توجہ سے سنیں، بڑھاپے میں ان کا سہارا بنیں، ان کی خدمت کریں، ان کے فیصلوں پر اعتماد کریں اور ان کی محبت کا شکر گزار رہیں۔ مختصر یہ کہ باپ کی محبت ایک سایہ دار درخت کی مانند ہے جن کا سایہ اولاد کے لیے اللہ کی بہت بڑی رحمت ہے۔
والد محترم وہ عظیم ہستی ہے جو اولاد کے سکھ، خوش حالی، تعلیم، صحت اور روشن مستقبل کی خاطر سخت محنت کرتے ہوئے زندگی گزار دیتا ہے اور صبح سے شام تک رزق کی خاطر جستجو میں رہتا ہے۔ والد کی قدر اور اہمیت ان سے پوچھیے جو اس نعمت سے محروم ہیں۔ والدین اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم نعمت ہیں جن کی محبت اور شفقت بے لوث ہوتی ہے۔ باپ ایک خاموش دوست ہے، اولاد نہ صرف اللہ کی نعمت ہے بلکہ اس سے بڑھ کر ایک ایسی امانت ہے جو آپ آنے والے دنوں میں ملک و قوم کو سونپ کر دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔ والدین کے حقوق میں یہ شامل ہے کہ انسان اپنے بدن اور مال سے ان کی خوب خدمت کرے، ان سے محبت کرے، ان کے پاس اٹھنے بیٹھنے، ان سے گفتگو کرنے اور دیگر تمام کاموں میں ان کا ادب کرے۔ اولاد کی پرورش میں والد کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو پر اعتماد، مؤدب اور معاملہ فہم بنانے کے لیے ان کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھے اور ان کی ذہنی، جسمانی اور سماجی نشوونما پر توجہ دے۔
وہ مائیں بھی کیا عظیم مائیں ہیں جو والد کی غیر موجودگی میں بچوں کو باپ بن کر پالتی ہیں۔ ایسی جنتی ماؤں کیلئے ایک نہیں دو جنتیں ہیں، ایک ماں ہونے کی اور دوسری باپ کا کردار ادا کرنے کی۔ میرا ایمان ہے کہ ایسی ماؤں کو اللہ رب العزت ایک اونچا مقام نصیب فرمائیں گے۔ اس ہستی کے بارے میں الفاظ کو موتیوں میں پرونا چاہا تو بار بار جذباتیت غالب آ گئی، ہاتھ کپکپا گئے اور آنسو چھلک گئے۔ خدارا ان ہستیوں کی قدر کیجیے، یہ انمول ہیرے ہیں۔ اللہ رب العزت نے قرآن میں ہماری بخشش کو ان کی خدمت اور رضا سے منسلک کیا ہے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قدرومنزلت اور خدمت کو اس زندگی سے اخروی زندگی کا داخلہ قرار دیا ہے۔
ایک بار ایک بیٹا اپنے پچھتر سالہ باپ کو ریسٹورنٹ میں کھانا کھلا رہا تھا تو کسی نے زیر لب کہا کہ یہ کتنا عجیب ہے۔ وہ شہر کے ایک مصروف ریسٹورنٹ کی عام سی شام تھی جہاں ہر میز پر اپنی ایک دنیا آباد تھی۔ اسی شور میں دروازہ کھلا اور ایک نوجوان اپنے پچھتر سالہ باپ کو سہارا دے کر اندر لایا۔ بوڑھے آدمی کی چال بہت کمزور تھی، ہاتھ بری طرح کانپ رہے تھے، آنکھوں پر موٹی عینک تھی اور چہرے پر وہ تھکن تھی جو صرف عمر نہیں وقت دیتا ہے۔ بیٹے نے بڑی احتیاط سے کرسی کھینچی اور اپنے والد کو بٹھاتے ہوئے بہت نرمی سے کہا کہ آہستہ ابو آرام سے۔ ویٹر مینیو دے گیا مگر بوڑھے شخص کے ہاتھ اتنے لرز رہے تھے کہ وہ سیدھا پکڑ بھی نہیں پا رہے تھے، آخر بیٹے نے مسکرا کر کہا کہ آج آرڈر میں کرتا ہوں آپ بس میرے ساتھ کھانا کھائیں۔ کھانا آیا اور پھر وہ منظر شروع ہوا جس سے اکثر لوگ نظریں چرا لیتے ہیں۔ بوڑھے آدمی کے ہاتھ مسلسل کانپتے رہے، کبھی دال قمیض پر گر جاتی، کبھی چاول داڑھی میں پھنس جاتے اور کبھی پانی میز پر بہہ جاتا۔ قریب بیٹھی ایک عورت نے ناگواری سے منہ بنایا اور ایک نوجوان اپنے دوست کے کان میں ہنس کر بولا کہ ایسے لوگوں کو گھر پر رکھنا چاہیے، کسی نے زیر لب کہا کہ یہ کتنا عجیب ہے۔
مگر اس بیٹے نے ایک بار بھی ادھر ادھر نہیں دیکھا، نہ شرمندگی، نہ غصہ اور نہ بیزاری۔ وہ ہر بار خاموشی سے رومال اٹھاتا، اپنے باپ کے کپڑے صاف کرتا اور پھر بہت نرمی سے کہتا کہ کوئی بات نہیں ابو آرام سے۔ بعض جملے چھوٹے ہوتے ہیں مگر ان کے اندر پوری زندگی چھپی ہوتی ہے۔ اس کوئی بات نہیں میں وہ تمام برس شامل تھے جب یہی باپ اسے بچپن میں اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتا ہوگا، جب وہ خود سالن گرا دیتا ہوگا، پانی بہا دیتا ہوگا یا ضد کرتا ہوگا اور اس کے باپ نے تب بھی یہی کہا ہوگا کہ کوئی بات نہیں بیٹا۔ کھانا ختم ہوا تو نوجوان نے اپنے والد کو سہارا دیا اور واش روم لے گیا۔ پورا ریسٹورنٹ اب خاموشی سے انہیں دیکھ رہا تھا۔ واش روم کے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے بہت احتیاط سے اپنے باپ کا چہرہ صاف کیا، داڑھی میں پھنسے چاول نکالے، قمیض پر لگے داغ دھوئے، پھر جیب سے کنگھی نکال کر ان کے سفید بال سنوارے اور آخر میں بڑی محبت سے ان کی عینک پہنائی۔ بوڑھے آدمی نے آئینے میں خود کو دیکھا پھر اپنے بیٹے کو، ان کی آنکھیں بھر آئیں اور ہونٹ ہلے جیسے کچھ کہنا چاہتے ہوں مگر شاید بڑھاپا انسان کو خاموش رونا سکھا دیتا ہے۔
وہ دونوں واپس باہر آئے تو پورا ریسٹورنٹ ایک عجیب خاموشی میں ڈوب گیا تھا۔ بیٹے نے بل ادا کیا اور اپنے والد کو سہارا دے کر دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔ تبھی کونے کی میز پر بیٹھا ایک اور بوڑھا آدمی اپنی جگہ سے اٹھا اور لرزتی آواز میں پکارا کہ بیٹا، نوجوان رکا تو بوڑھے شخص نے قریب آ کر پوچھا کہ تمہیں نہیں لگتا تم یہاں کچھ چھوڑ کر جا رہے ہو؟ نوجوان نے حیرت سے ادھر ادھر دیکھا تو کہا کہ نہیں تو، میں کچھ نہیں بھولا۔ بوڑھا شخص مسکرایا اور پھر آہستہ سے کہا کہ تم یہاں ہر بیٹے کے لیے ایک سبق اور ہر بوڑھے باپ کے لیے ایک امید چھوڑ کر جا رہے ہو۔ اس لمحے پورے ریسٹورنٹ میں کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ فوراً دوبارہ بات شروع کرے۔ کئی لوگوں نے نظریں جھکا لیں اور ایک عورت چپکے سے آنکھیں صاف کرنے لگی کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم سب زندگی کا آغاز اپنے والدین کے سہارے سے کرتے ہیں، پھر ایک دن وقت پلٹ جاتا ہے اور وہی مضبوط ہاتھ کانپنے لگتے ہیں، وہی لوگ جو کبھی ہمارا بوجھ اٹھاتے تھے خود سہارا مانگنے لگتے ہیں۔ اصل انسان وہ نہیں جو دنیا کے سامنے کامیاب ہو، بلکہ اصل انسان وہ ہے جو اپنے بوڑھے والدین کی کمزوری میں بھی ان کی عزت بچا لے۔ اللہ جل شانہ سے دعا ہے کہ سب کے والدین کو صحت و تندرستی عطا فرمائے اور جن کے والدین موجود نہیں انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔















