ری سٹارٹ!!!

0
4
عامر بیگ

محسن نقوی نے کاروباری شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی معاشی مشکلات کا ذکر کیا، سسٹم کو اپ گریڈ یا ری اسٹارٹ کرنے کی ضرورت پر زور دیا تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر چلنے کا مشورہ دیا نئے صوبے بنانے کی بات کی، پہلے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کیلئے کالا باغ ڈیم کا شوشہ چھوڑا جاتا تھا اب چھوٹے صوبے بنانے کی بات توجہ ہٹانے کا سٹنٹ ہے اور یہ بھی کہا کہ پاکستان خوش قسمت ہے کہ اس کے پاس ایک ایسی شخصیت موجود ہے جو دنیا بھر میں ملک کا مثبت تعارف کرا رہی ہے اور پاکستان کی عزت میں اضافہ کر رہی ہے۔ ان کا اشارہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی طرف تھا۔ اپنی گفتگو میں انہوں نے موجودہ اور سابقہ سیاست دانوں کو سسٹم کی خرابی کا ذمہ دار قرار دیا جبکہ عسکری قیادت کے کردار کو مثبت انداز میں پیش کیا یہ مؤقف نیا نہیں۔ اس سے پہلے فیصل واوڈا فیاض الحسن چوہان اور متعدد دیگر عسکری بیانیہ کی ترویج کرنے والی شخصیات بھی مختلف انداز میں یہی بات دہراتی رہی ہیں کہ ملک کی خرابی کی جڑ سیاست دان ہیں جبکہ نجات کا راستہ غیر سیاسی قیادت کی مضبوطی میں پوشیدہ ہے اگر ایسا ہی ہے تو زیادہ عرصہ تو ملک میں فوجی اقتدار رہا ہے خرابی ٹھیک کیوں نہیں ہوئی مگر اصل سوال یہ ہے کہ اگر ہر خرابی کا ذمہ دار صرف سیاست دان ہیں تو پھر اس نظام کی اصلاح کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے پاکستان میں ایک تاثر طویل عرصے سے موجود ہے کہ یہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول چلتا ہے۔طاقت کا توازن تو اب صرف ایک بندے کے پلڑے میں پڑا ہے اسے استثنا بھی حاصل ہے، اگر طاقت ہی حق کا معیار بن جائے تو پھر جمہوری اداروں عوامی مینڈیٹ اور آئینی بالادستی کی حیثیت ثانوی ہو جاتی ہے۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ کوئی بھی ریاست صرف طاقت کے زور پر دیرپا استحکام حاصل نہیں کر سکتی۔ پائیدار نظام وہی ہوتا ہے جس میں عوام خود کو شریک اقتدار محسوس کریں ان کے ووٹ کا احترام ہو اور انصاف سب کے لیے یکساں ہو آج یہ کہنا آسان ہے کہ سسٹم ناکام ہو چکا ہے مگر سوال یہ ہے کہ اس سسٹم کو اس نہج تک پہنچانے میں کردار کس کا رہا؟ اگر عوام کے ووٹ کی اہمیت کمزور ہو اگر انتخابی عمل پر سوالات اٹھتے رہیں اگر سیاسی فیصلوں میں عوامی رائے کے بجائے طاقتور حلقوں کی مرضی غالب نظر آئے تو پھر نظام پر عوام کا اعتماد کیسے بحال ہوگا یاد رہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے چند برس قبل معاشی بحالی کے حوالے سے پرامید انداز میں کہا تھا کہ پاکستان نسبتا ًکم عرصے میں اپنے پاں پر کھڑا ہو جائے گا۔ دوسری جانب محسن نقوی نے بھی ماضی میں بلوچستان کے بارے میں یہ مؤقف اختیار کیا تھا ایک ڈی ایس پی ہی کافی ہے لیکن آج بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال، متعدد علاقوں میں ریاستی عملداری سے متعلق اٹھنے والے سوالات اور بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ زمینی حقائق محض بیانات سے تبدیل نہیں ہوتے اسی طرح خود محسن نقوی یہ اعتراف بھی کر چکے ہیں کہ گزشتہ ایک سال میں سو ارب ڈالر کا سرمایہ پاکستان سے باہر منتقل ہوا۔ اگر سرمایہ کار ملک چھوڑ رہے ہوں ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنے آپریشن محدود کر رہی ہوں اور کاروباری اعتماد مسلسل کمزور ہو رہا ہو تو اس کی وجوہات صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی اور ادارہ جاتی بھی ہوتی ہیں اصل مسئلہ یہ نہیں کہ سسٹم کو ری اسٹارٹ کیا جائے یا اپ گریڈ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا عوام کا اس سسٹم پر اعتماد بحال کیا گیا ہے؟ کیا قانون کی حکمرانی سب کے لیے یکساں ہے؟ کیا ادارے اپنی آئینی حدود میں کام کر رہے ہیں؟ اور کیا عوام کے ووٹ کو وہی احترام حاصل ہے جو ایک جمہوری ریاست کی بنیاد ہونا چاہیے؟ ا گر ان سوالات کے جواب نفی میں ہوں تو پھر محض تقریروں نعروں یا شخصیات کی تعریف سے معیشت مضبوط نہیں ہوگی۔ سرمایہ وہاں آتا ہے جہاں قانون کی حکمرانی ہو عدلیہ آزاد ہو، پالیسیوں میں تسلسل ہو اور عوام کو یقین ہو کہ ان کا ووٹ اور ان کی آواز واقعی اہمیت رکھتی ہے ریاستیں شخصیات کے سہارے نہیں بلکہ مضبوط اداروں شفاف نظام حکومت اور عوام کے اعتماد پر چلتی ہیں۔ جب تک عوام خود کو نظام کا حقیقی مالک محسوس نہیں کریں گے جب تک انتخابی عمل پر اعتماد بحال نہیں ہوگا اور جب تک انصاف کی فراہمی پر کسی قسم کا شبہ باقی رہے گا تب تک کسی بھی ری اسٹارٹ کا نتیجہ وہی نکلے گا جو پہلے نکلتا آیا ہے۔
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here