محسن نقوی اور رہزنوں کا ٹولہ!!!

0
4
سردار محمد نصراللہ

پاکستان پچھلے 78 سالوں سے سیاسی تماشے دیکھ رہا ہے۔ سابقہ مشرقی پاکستان نے 25 سال بعد خون بہا کر جابروں سے جان چھڑا لی اور وہ بنگلہ دیش بن گیا، جبکہ ہم پاکستان کا تاج سر پر سجائے جابروں کی چکی میں پس رہے ہیں۔ میری آنکھوں نے سیاست اور سیاست کے گردابوں کو پانچ سال کی عمر سے دیکھنا شروع کیا، اور جب دس سال کا ہوا تو سیاسی ادراک میری رگوں میں دوڑنا شروع ہو گیا تھا۔ وہ میری عمر کا وہ حصہ تھا جب اس وقت کے جنرل ایوب فیلڈ مارشل بن گئے تھے۔ قدرت نے انہیں شخصیت سے تو خوب نوازا تھا، چنانچہ وہ فیلڈ مارشل سے صدر پاکستان بھی بن گئے، مگر اس وقت بھی ان کی منڈلی رسہ گیروں، چوروں اور لٹیروں سے بھری پڑی تھی۔ جو حشر انہوں نے پاکستان کا کیا سو کیا، انہوں نے قوم کی ماں مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح اور بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ بھی انتہائی افسوس ناک سلوک کیا۔ انہوں نے انہیں بھارتی ایجنٹ اور غدار قرار دیا اور قائد کی مسلم لیگ کا نام چرا کر کنونشن لیگ بنا ڈالی۔ اس منحوس دن سے لے کر آج تک مسلم لیگ نے وہی کنونشن لیگ کی شیروانی زیب تن کی ہوئی ہے۔ اللہ کے فضل سے ہماری پاک فوج نے بھی اپنا کردار نہیں بدلا اور گرگٹوں سے بھی زیادہ رنگ بدلتے رہے۔ نام نہاد حکومتوں کو ہر رنگ میں مسلط کیا گیا، کبھی اکا دْکا رہنما محمد خان جونیجو کی طرح ایوبی پٹاری سے نکل کر اچھا لگنے لگا، ورنہ سب کے سب دوگلے بچھو ہی نکلے۔ آج ایک بار پھر نئے فیلڈ مارشل کی پٹاری سے محسن نقوی جیسا کردار سامنے آیا ہے جس نے سب کو اپنی گفتگو سے حیران اور پریشان کر دیا ہے۔ بقول ملک سجاد ایمن آبادی، چور ہجوم میں مل کر چور چور کا نعرہ لگا رہا ہے، اور آج نقوی بھی وہی کچھ کر کے قوم کو بھول بھلیوں میں ڈال رہے ہیں۔
قارئین اور عزیزانِ وطن! جب میری نظر اسٹیج پر بیٹھے جگنوؤں اور پروانوں پر پڑی تو مجھے ذرا بھر حیرانگی نہیں ہوئی، کیونکہ وہاں 78 سالوں سے چلا آرہا گند، رسہ گیر، چور، اچکے اور قومی بینکوں کو لوٹنے والے نظر آئے۔ محسن نقوی کہتے ہیں کہ نظام بدلنا ہے، مگر جن کو وہ یہ باتیں سنا رہے ہیں وہ اس پر ہنس رہے تھے اور یہ ان پر ہنس رہے تھے۔ وہ بھارتی کاکروچ سے ڈرا رہے ہیں کہ اگر یہاں یہ جاگ گئے تو سب کچھ فنا ہو جائے گا، لہذا سب جماعتیں مل کر نظام کو ٹھیک کریں۔ نقوی صاحب جماعتوں کی بات تو کرتے ہیں مگر اتنی جرات نہیں رکھتے کہ عمران خان یا ان کی جماعت کا نام لے سکیں۔ نقوی کو معلوم ہے کہ 75 سالوں سے ہمارے اصل حکمران خاکی ہیں، جو کبھی ایوب، یحییٰ، ضیا، مشرف اور عاصم کی شکل میں سامنے آتے ہیں، بس ان کے جوتے چمکاؤ، باقی شریف اور زرداری جیسے لوگ تو صرف فاضل پرزے ہیں۔ نقوی کو یہ بھی معلوم ہے کہ عوام کی نسل ابھی کمزور ہے، اسی لیے وہ کسی کا آلہ کار بن کر کئی عہدے اور پگڑیاں سر پر تانے مالک کی آواز بنے ہوئے ہیں۔ یہ ہے 78 سالوں کا تماشہ جو ابھی تک چل رہا ہے۔ 14 اگست یوم آزادی کو 12 دن رہ گئے ہیں اور قوم تقاریر سننے کے لیے تیار ہو جائے۔ اس 14 اگست کو ایران اور امریکہ کی مصالحت کے چرچے ہوں گے جبکہ غریب کی پسماندگی کی کوئی بات نہیں ہوگی۔ وزیر اعظم اوپر سے جاری کردہ فہرست کے مطابق تمغے بانٹیں گے اور قوم مہنگائی کی دہائی دے گی، یہی محسن نقوی کا نیا نظام ہوگا۔
قارئین اور عزیزانِ وطن! آج کل پھر مزید صوبوں کی بات ہو رہی ہے۔ راقم ہمیشہ سے نئے صوبوں کے حق میں رہا ہے، مگر انتظامی بنیادوں پر نہیں بلکہ علاقائی اور لسانی بنیادوں پر۔ اس لحاظ سے پنجاب کے تین، سندھ کے دو، خیبر پختونخوا کے دو اور بلوچستان کے بھی تین صوبے بنتے ہیں۔ بلکہ یہ کام شہید ملت لیاقت علی خان کے زمانے میں ہو جانا چاہیے تھا، لیکن بدقسمتی سے انہیں بیرونی سازشوں کے تحت شہید کروا دیا گیا اور اس کے بعد ملک مہم جوؤں کے رحم و کرم پر آ گیا اور آج تک انہی کے قبضے میں ہے۔ خاکیوں کے نمائندہ خصوصی محسن نقوی جیسے لوگ اشاروں کنایوں میں نئے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں۔ سب سے پہلے تو عسکری قیادت کو اپنے اختیارات کا دائرہ کار ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد کنونشن لیگی ٹولے، نواز شریف اور زرداری جیسے لوگوں سے نجات کا وقت آ گیا ہے جو جونک کی طرح ہمارے نظام کو چمٹے ہوئے ہیں، اور اس کا حل ان سے جان چھڑانا ہے۔ فوراً نئے شفاف انتخابات کا اعلان ہونا چاہیے جس میں تحریک انصاف کی شمولیت بھی ضروری ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان کو مزید زوال سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ آئیں دعا کریں کہ محسن نقوی اور رہزنوں کے ٹولے سے، جو اقتدار کے اشاروں پر ناچتے ہیں، قوم کی جان چھوٹے اور وہ منظر سے دور ہوں تاکہ پاکستان قائم و دائم رہے۔ پاکستان زندہ باد۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here