نیویارک (پاکستان نیوز) الصفا محل مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ مشرق وسطیٰ اور وسیع تر اسلامی دنیا کی جیو سٹریٹجک صورتحال میں ایک زبردست اور تاریخی موڑ ثابت ہو رہا ہے۔ اسلامی دنیا کی ان تین بڑی طاقتوں نے ایک ایسے وقت میں باہمی سٹریٹجک صلاحیتوں کو یکجا کرنے پر اتفاق کیا ہے جب عالمی سطح پر امریکی بالادستی پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور علاقائی ریاستیں اپنی سلامتی کے لیے خودمختار حل تلاش کر رہی ہیں۔ اس معاہدے کی روح سے ان تینوں ممالک میں سے کسی ایک ریاست پر بیرونی عسکری حملہ تینوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ اس تاریخی دستخطی تقریب میں سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان اور پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے شرکت کی جبکہ اس اتحاد کے بننے کے بعد پاکستان کی جانب سے اس معاہدے کو دیگر علاقائی ریاستوں کی شمولیت کے لیے کھولے جانے کے اعلان نے واشنگٹن سے لے کر یورپی دارالحکومتوں تک زبردست سٹریٹجک ہلچل مچا دی ہے۔یورپین یونین ،امریکی حکام اور مغربی تجزیہ کاروں کے لیے یہ پیش رفت نہایت تشویشناک اور حیران کن ہے۔ امریکی انتظامیہ طویل عرصے سے خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ کے خطے کو اپنی سیکیورٹی چھتری کا محتاج سمجھتی رہی ہے۔ واشنگٹن میں موجود ماہرینِ دفاع اور دفاعی مبصرین کے مطابق یہ سہ فریقانہ پیش رفت مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امریکہ کے سٹریٹجک اثر و رسوخ کو شدید زوال سے دوچار کرے گی۔ امریکہ کو سب سے بڑا خدشہ یہ لاحق ہے کہ خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کا امریکی عسکری سازوسامان اور سلامتی کی ضمانتوں پر انحصار ختم ہو جائے گا کیونکہ ترکیہ کی پیشرفتہ دفاعی صنعت، پاکستان کی وسیع تجربہ کار فوج اور جوہری صلاحیت، اور سعودی عرب کی مالی طاقت مل کر ایک ایسی سیلف سسٹیننگ یعنی خود کفیل عسکری قوت تشکیل دے رہے ہیں جسے مغربی دباؤ سے رام کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ جہاں تک ترکیہ کی اس معاہدے میں شمولیت کا تعلق ہے تو مغربی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ ایک نیٹو رکن ملک ہونے کے باوجود انقرہ اس طرح کے خودمختار اسلامی دفاعی بلاک کا حصہ کیوں بن رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نیٹو کا دائرہ کار بنیادی طور پر یورپی سرحدوں اور شمالی اوقیانوس کے مفادات تک محدود ہے جبکہ ترکیہ کو مشرق وسطیٰ، بحیرہ روم اور بحیرہ احمر میں درپیش سیکیورٹی چیلنجز پر مغربی اتحادیوں کا مکمل تعاون حاصل نہیں رہا۔ ترکیہ نے گزشتہ دو دہائیوں میں اپنی ڈرون ٹیکنالوجی، بحری جہاز سازی اور فضائی دفاعی نظام میں زبردست پیشرفت کی ہے اور انقرہ سمجھتا ہے کہ اپنے عسکری صنعتی مصنوعات کی توسیع اور سٹریٹجک خودمختاری کے لیے اسے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے طاقتور ترین اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا نہ کہ مغربی پابندیوں یا شرطوں پر انحصار کرنا ہوگا۔ اس معاہدے کی باریکیوں اور اہداف کی وضاحت کرتے ہوئے سعودی عرب کے نائب وزیر برائے عمومی سفارت کاری سفیر ڈاکٹر رائد قرملے نے واضح کیا کہ مکہ دفاعی معاہدہ کوئی جارحانہ عسکری محور، فرقہ وارانہ بلاک یا ہتھیاروں کی دوڑ کا آغاز نہیں ہے اور نہ ہی یہ ایٹمی خواہشات سے منسلک ہے۔ ڈاکٹر رائد قرملے کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ سعودی عرب کے خلیجی یا عرب شرکائ کے ساتھ موجودہ تعلقات کی قیمت پر نہیں کیا گیا بلکہ یہ سالہا سال کے طویل اور جامع مذاکرات کا نتیجہ ہے جو تینوں برادرانہ ممالک کے تعلقات کو ایک باضابطہ قانونی اور عسکری ڈھانچے میں ڈھالتا ہے۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اس نقطہ نظر کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تمام ممالک کی خودمختاری کے احترام پر قائم ہے اور یہ معاہدہ تصادم کے بجائے طاقت کے ذریعے امن کے قیام کی ایک منفرد کوشش ہے جو علاقائی سلامتی کا نیا دور شروع کرے گی۔ طی ہونے والے اس دفاعی فریم ورک کی سب سے اہم خصوصیت اس کا کھلی پالیسی پر مبنی ہونا ہے، جس کے تحت مستقبل قریب میں کئی اہم علاقائی ریاستیں اس کی رکنیت یا دفاعی شراکت داری اختیار کر سکتی ہیں۔ سٹریٹجک تجزیہ کاروں کے مطابق آذربائیجان اس اتحاد کا حصہ بننے والا پہلا ممکنہ ملک ہو سکتا ہے کیونکہ باکو کے ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ پہلے ہی انتہائی گہرے عسکری اور سٹریٹجک تعلقات موجود ہیں جبکہ سعودی عرب کے ساتھ اس کے روابط میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ خلیجی تعاون کونسل کی سطح پر قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ اپنے گہرے سیکیورٹی تعلقات اور وسیع دفاعی معاہدوں کی بنا پر اس فریم ورک میں تکنیکی یا مستقل بنیادوں پر شامل ہو سکتے ہیں، جبکہ عمان اور بحرین بحیرہ عرب اور خلیج کی سمندری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اس اتحاد کے ساتھ بحری تعاون بڑھا سکتے ہیں۔اس کے علاوہ وسطی ایشیائی ریاستیں بالخصوص ازبکستان اور قازقستان بھی اس معاہدے کی طرف تیزی سے مائل ہو سکتی ہیں کیونکہ ان دونوں ممالک نے انقرہ اور اسلام آباد کے ساتھ اپنے عسکری و صنعتی روابط میں زبردست اضافہ کیا ہے اور وہ بڑی طاقتوں کی کشمکش سے بچنے کے لیے ایک خود مختار اسلامی سیکیورٹی بلاک کے ساتھ تعاون کو اپنی سلامتی کے لیے سود مند سمجھتے ہیں۔ اسی طرح اردن جو کہ طویل عرصے سے سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ انٹیلی جنس اور عسکری شعبوں میں جڑا ہوا ہے، اس معاہدے میں مبصر کا درجہ حاصل کر سکتا ہے۔ افریقی و عرب جغرافیے میں مصر اپنی ریڈ سی اور بحیرہ احمر کی سیکیورٹی کی ضروریات کے تحت اس اتحاد کے ساتھ خصوصی شراکت داری قائم کر سکتا ہے۔ حتیٰ کہ جنوبی مشرقی ایشیا کی مسلم اکثریتی ریاستیں جیسے انڈونیشیا اور ملائیشیا بھی اگرچہ جغرافیائی طور پر دور ہیں، لیکن دفاعی ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ تربیتی سیشنز کے لیے اس بلاک کے ساتھ منسلک ہونے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔بین الاقوامی اور علاقائی ردعمل اس معاہدے کی دور رس اہمیت کی تصدیق کرتا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ تہران کے ان تینوں ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہیں اور ایران اس پیش رفت کو خطے کے ممالک کی طرف سے اپنی سلامتی کی ذمہ داری خود سنبھالنے کا ایک مثبت اور تعمیری قدم سمجھتا ہے۔ انڈونیشیا کے پنکاسیلا نظریاتی ترقیاتی ادارے کے مشیر دارمانسجاہ جومالا نے اس سٹریٹجک لمحے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مکہ معاہدہ اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ مشرق وسطیٰ اور اس سے ملحقہ خطوں کا سیکیورٹی نظام اب امریکی سیکیورٹی چھتری اور واشنگٹن کے انحصار سے نکل کر خود کفالت، مقامی خودمختاری اور اجتماعی دفاع کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔








